کچھ عناصر ’کنٹرولڈ جمہوریت‘ اور ’کنٹرولڈ لیڈرشپ‘ چاہتے ہیں: طلال چوہدری

Image caption نوازشریف کا بیانیہ فوج مخالف یا عدلیہ مخالف نہیں ہے: طلال چوہدری

پاکستان کے وزیر مملکت برائے داخلہ امور طلال چودھری کا کہنا ہے کہ سنہ 2014 میں حکومت مخالف دھرنے کے پیچھے وہ عناصر تھے جو پاکستان میں 'سٹیٹس کو' چاہتے تھے۔

بی بی سی اردو کو دیے ایک خصوصی انٹرویو میں طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ 'یہ عناصر چاہتے تھے کہ نواز شریف جیسا شخص جو اندرونی سلامتی، خارجہ امور اور معیشت پر آزادانہ فیصلے کرتا ہے، حکومت میں نہ ہو، اور ملک میں وزیر اعظم تو ہو مگر وہ 'ایک لیڈر' نہ ہو۔‘

مسلم لیگ نون کے رہنما اور وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے کہا کہ ان کی جماعت کے لیے جمہوریت پر پابندیاں قابل قبول نہیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک میں ایسے عناصر ہیں جو 'کنٹرولڈ جمہوریت' اور 'کنٹرولڈ لیڈرشپ' رکھنا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق 'ان عناصر میں سب سے پہلے وہ سیاست دان تھے جو کٹھ پتلی بنتے ہیں اور خود کو 'سروس' کے لیے پیش کرتے ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

نواز: غداری کا مقدمہ درج کرنے کی درخواست منظور

’ممبئی حملوں کے حوالے سے بیان غلط اور گمراہ کن ہے‘

’نہ معافی مانگوں گا نہ رحم کی اپیل کروں گا‘

وزیر مملکت برائے داخلہ کا کہنا تھا کہ سنہ 2014 کے دھرنوں کے دوران 'اداروں نے سنجیدہ رویہ اختیار کیا۔‘

اس سوال پر کہ کیا مسلم لیگ نواز کے پاس ان انتخابات میں 'اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیے' کے علاوہ کچھ اور بھی ہے یا نہیں؟ وزیر مملکت طلال چودھری نے کہا 'ان کا بیانیہ فوج مخالف یا عدلیہ مخالف نہیں ہے۔‘

'چند لوگ ہیں جو اپنی ذات کے لیے ادارے کو استعمال کرتے ہیں، جس سے ادارہ بدنام ہوتا ہے، ہم تو ادارے کی مضبوطی کا بیانیہ لائے ہیں۔ ہم تو اداروں کی عزت بڑھانا چاہتے ہیں۔‘

طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ ادارے اپنی حدود میں رہتے ہوئے کام کریں۔ ان کے بقول 'ہم یہ کہتے ہیں کہ وہ (ادارے) اپنے دائرے میں رہیں، سیاست میں نہ آئیں، سیاست میں آئیں گے تو پارٹی بنیں گے، جس سے وہ متنازع ہوں گے اور ملک کا نقصان ہو گا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption خیبر پختونخوا کی حکومت نے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد میں باقی صوبوں سے پیچھے ہے: طلال چوہدری

ممبئی حملوں سے متعلق نواز شریف کے حالیہ بیان پر انھوں نے کہا کہ اس بیان میں نیا کچھ نہیں تھا لیکن نواز شریف کا ووٹ توڑنے کے لیے انھیں غدار کہا جا رہا ہے۔

نواز شریف نے اپنے بیان میں جن نان سٹیٹ ایکٹرز کا ذکر کیا ان کے خلاف وزارتِ عظمیٰ کے دوران کارروائی سے متعلق سوال پر وزیر مملکت برائے داخلہ نے کہا: 'ہمارے ہمسائیوں کو ہم سے شکایت رہتی تھی، پاکستان کو خود انہی غیر ریاستی عناصر یا تنطیموں سے نقصان پہنچا ہے، مگر اب دیکھیں ان واقعات میں کمی ہوئی ہے، جانی اور مالی نقصان میں کمی ہوئی اور ہم نے اس معاملے پر لوگوں میں آگاہی پھیلانے پر بھی کام کیا۔ اس حکومت نے دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر لوگوں کی سوچ تبدیل کی اور قوم دہشت گردی کے خلاف ہماری حکومت کے ساتھ کھڑی ہے۔‘

'لگتا ہے منصوبہ ساز بہت بے تاب ہیں‘

غداری کے الزامات پر نواز شریف کا قومی کمیشن کا مطالبہ

نیشنل ایکشن پلان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ نے خیبر پختونخوا کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے اس معاملے پر غیر سنجیدگی دکھائی اور وہ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد میں باقی صوبوں سے پیچھے ہے۔

انھوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے کے پی حکومت کے ساتھ کسی بھی سطح پر 'کوآرڈینیشن' میں کمی نہیں رکھی۔

طلال چوہدری نے خیبر پختونخوا حکومت پر دہشت گردی کے لیے پہچانے جانے والے مدارس کی فنڈنگ کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا 'جب آپ ان مدارس کو فنڈنگ کریں جو دہشت گردی کے لیے پہچانے جاتے ہیں، جب آپ ان کے ساتھ سیاسی اتحاد کریں گے جو مذاکرات میں طالبان کے نمائندے تھے، جب آپ ان کو سینیٹرز بنانے کی کوشش کریں گے جن پر دنیا نے نظر رکھی ہوئی ہو تو ملک کا امیج بھی خراب ہوتا ہے اور آپ کی نیت کا بھی پتا چلتا ہے۔‘

وزارت داخلہ کے بی بی سی کو دیے گئے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں نیشنل ایکشن پلان کے تحت اب تک 483 دہشت گردوں کی سزائے موت پر عملدرآمد ہوا ہے۔ نفرت پر مبنی مواد رکھنے یا پھیلانے کے الزام میں 2300 سے زیادہ افراد گرفتار کیے گئے، لاؤڈ سپیکر کے غلط استعمال پر 21000 افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ دہشت گردی کی فنڈنگ روکتے ہوئے 6000 سے زیادہ اکاؤنٹس منجمد کیے گئے۔

اسی طرح طلال چوہدری کے مطابق انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے غلط استعمال روکنے کے لیے 1400 سے زیادہ ویب سائٹس بلاک کی گئیں جن میں 200 شدت پسند تنظیموں کی تھیں۔

اسی بارے میں