’صدر کے پاس قبائلی علاقوں میں قانون سازی کا اختیار نہیں رہا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

آئینی اور قانونی ماہرین کے مطابق وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں کے خیبر پختونخوا کے ساتھ انضمام کی تمام ایوانوں سے منظوری سے آئین کی شق 247 حذف ہو گئی ہے جس کے بعد صدر مملکت کے پاس قبائلی علاقوں کے لیے قانونی شکل دینے کا اختیار نہیں رہا اور اب ایک عبوری ریگولیشن جاری کیا گیا ہے۔

پاکستان کی قومی اسمبلی اور سینیٹ کے بعد خیبر پختونخوا اسمبلی ملکی آئین میں 31 ویں ترمیم کی منظور دے چکی ہے جس کے بعد گذشتہ روز صدر ممنون حسین نے قانون پر دستخط کی بجائے وسط مدتی ریگولیشن پر دستخط کر دیے ہیں۔

عام حالات میں ایوان سے آئین میں کسی ترمیم یا کسی قانون کی منظوری کے بعد صدر مملکت اس قانون پر دستخط کر کے اس قانون یا آئین کو حتمی شکل دی جاتی ہے لیکن قبائلی علاقوں کے حوالے سے انضمام کے بعد آئین کی شق نمبر 247 حذف کر دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

فاٹا اور پاٹا کے صوبوں میں شامل ہونے سے کیا تبدیل ہو گا؟

فاٹا اصلاحات کے اہم نکات کیا ہیں؟

فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کی قومی اسمبلی سے منظوری

فاٹا اصلاحات کی کہانی

شق نمبر 247 کیا ہے؟

اس بارے میں باچا خان ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر خادم حسین کہتے ہیں کہ اس شق کے تحت قبائلی علاقے جن میں سات ایجنسیاں، فرنٹیئر ریجن اور صوبے کے زیر انتظام علاقے جنھیں پاٹا کہا جاتا تھا شامل تھے۔

ان کے بقول ان علاقوں میں کوئی قانون یا انتظامی بندوبست کرنے کے لیے صدر پاکستان ایک آرڈر جاری کرتے تھے اور وہ اس قانون کا حصہ بن جاتا تھا۔ اس آرڈر میں تمام پہلو شامل ہوتے تھے جیسے کہ علاقے میں قانونی یا انتظامی حالات کے لیے اقدامات کرنا یا سیاسی اور اقتصادی سطح پر کچھ فیصلے کرنا مقصود ہوتے تھے۔ ان تمام اقدامات کے لیے صدر ایک آرڈر جاری کیے کرتے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان کی قومی اسمبلی نے گذشتہ دنوں وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات کو صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کی آئینی ترمیم منظور کی تھی

ان کا کہنا تھا کہ شق نمبر247 سے صدر کے پاس وہ اختیار تھا جس سے وہ کوئی بھی قانون نافذ کر سکتے تھے اور اسی شق کے تحت ایف سی آر بھی نافذ کیا گیا تھا۔

پروفیسر ڈاکٹر خادم حسین کا کہنا تھا کہ 31 ویں ترمیم کے بعد اب صدر کی جانب سے قانون نہیں بلکہ پاکستان کی پارلیمان سے منظور شدہ قوانیں نافذ العمل ہوں گے۔

ان سے جب پوچھا گیا کہ یہ سارا انتظام اب قابل عمل کیسے ہو گا تو ان کا کہنا تھا کہ اس کے لیے اب عبوری انتظام یا وسط مدتی انتظام جسے عبوری ریگولیشن آرڈر کہا جاتا ہے جاری کیا گیا ہے۔

پروفیسر خادم حسین کا کہنا تھا کہ ایف سی آر اب ختم ہو چکا ہے۔ انھوں نے عبوری انتظام پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔

ان کے بقول قبائلی علاقوں میں پہلے ہی سے کسی حد تک انفرا سٹکچر موجود ہے اسے ہی بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ آئینی سطح پر اقدامات کر دیے گئے ہیں لیکن اب بھی ان علاقوں میں بندوبستی علاقوں کا نظام لانے کے لیے اقدامات کی ضرورت ہے اور ایسا لگتا ہے کہ یہ سب کچھ بتدریج کیا جائے گا۔

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ارباب اختیار ہر قبائلی علاقے کو اس کے حالات کے مطابق اختیارات دیں گے اور وہاں حالات کے مطابق اصلاحات کی جائیں گی۔

اسی بارے میں