پاکستانی فوج سیاسی جماعتوں کے سلسلے میں غیر جانبدار نہیں؟

فوج تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ’فوج کی مداخلت کی ایک تاریخ موجود ہے اور پسند ناپسند کا اظہار کیا جاتا رہا ہے‘

پاکستان کی پارلیمان کی کارکردگی پر نظر رکھنے والی تنظیم پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈویلپمنٹ اینڈ ٹرانسپرنسی (پلڈاٹ) نے ایک تجزیاتی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی عوام کی اکثریت کا خیال ہے کہ پاکستانی فوج سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کے سلسلے غیر جانبدار نہیں۔

رپورٹ کے مطابق صرف 33 فیصد کے خیال میں ہی فوج غیرجانبدار ہے۔

اس 11 نکاتی رپورٹ میں مختلف اداروں کے انتخابی عمل پر اثرات اور گذشتہ ایک سال میں پیش آنے والے واقعات کا جائزہ لیا گیا ہے اور یہ معلوم کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ کیا انتخابی عمل صاف، شفاف اور ایک ہموار میدان پر ہو رہا ہے۔

پلڈاٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب کے مطابق اس تجزیاتی رپورٹ میں بعض اداروں کے بارے میں سوالات اٹھے ہیں اور یہ تاثر پیدا ہوا ہے کہ وہ غیرجانبدار نہیں ہیں، جن میں سرفہرست فوجی سٹیبلشمنٹ ہے، اس کے بعد عدلیہ اور قومی احتساب بیورو ہے، جن کے بارے میں منفی تاثر ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’اس ملک میں حکمرانی کون کرے گا؟

فوج آخری نجات دہندہ؟

ان کے مطابق ’ایک بڑا تاثر حالیہ دنوں میں ٹی وی چینلز کو بند کرنے کے بعد پیدا ہوا جن میں جیو اور ڈان شامل ہیں۔ انھیں حکومت کے کسی ادارے اور نہ ہی پیمرا نے روکا ہے لیکن وہ چھاؤنیوں میں بند ہو گئے۔ ان کے بارے میں یہ ہی پتہ چلتا ہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کے بعض اداروں نے ان کے بازو مروڑے ہیں اور کیبل آپریٹرز کی مدد سے انھیں سکرین سے آؤٹ کر دیا ہے۔‘

احمد بلال محبوب ’اسی طرح جب پاناما کی جے آئی ٹی بنی تو اس میں آئی ایس آئی اور ایم آئی کے نمائندے موجود تھے اگرچہ ان کا وائٹ کالر کرائم کے بارے میں کوئی تجربہ نہیں، ان کی شمولیت نے بھی فوج کی مداخلت کا تاثر پیدا کیا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

انھوں نے پاکستان فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے ملکی معشیت پر تبصرے کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ اس سے حکومت کا تاثر مجروح ہوا، اسلام آباد میں جو دھرنا ہوا، (تحریک لبیک یا رسول اللہ) اس میں اس وقت کے آئی ایس آئی سربراہ کے ملوث ہونے کی اطلاعات آئیں۔

’اس قسم کے کئی واقعات کی فہرست ہے جس سے یہ تاثر پیدا ہوا ہے کہ فوج ایک قسم کی رائے رکھتی ہے اور وہ غیرجانبدار نہیں ہے۔ یہ تاثر کی بات ہے ظاہر ہے ہم اس کو کسی عدالت میں جاکر ثابت کرنے کی پوزیشن میں تو نہیں ہیں، لیکن ان اطلاعات سے مسلسل یہ تاثر قائم ہو رہا ہے، جس سے یہ لگتا ہے کہ انتخابات کی تیاریوں کا عمل کسی ہموار میدان میں نہیں ہو رہا۔‘

یہ بھی پڑھیے

فوج کے خلاف بھڑکانے پر پی ٹی ایم کے خلاف مقدمات

کیا پاکستانی فوج انڈیا کے ساتھ تعلقات کی بحالی چاہتی ہے؟

نامور وکیل اور تجزیہ نگار بابر ستار کا کہنا ہے کہ فوج کی مداخلت کی ایک تاریخ موجود ہے اور پسند ناپسند کا اظہار کیا جاتا رہا ہے، لوگوں کے لیے یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ انتخابات میں فوج کی بعض پسندیدہ جماعتیں ہوں گی۔ تمام جماعتوں کو یکساں مواقع نہ کبھی ملے ہیں اور نہ ہی آئندہ ملیں گے۔

’ملٹری کا بطور ادارہ کس کو پسند کرنا ایک الگ بات ہے اور فوج کا بطور ادارہ انتخابات میں مداخلت کرنا ایک علیحدہ بات ہے، خیال کی حد تک تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ لوگوں کا خیال ہے کہ فوج بعض جماعتوں کی حمایت کرتی ہو گی۔

’مسلم لیگ ن کا تو یہ بیانیہ رہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے انھیں نکلوایا ہے تو ظاہر ہے کہ فوج کا بطور ادارہ نواز شریف کے لیے پسندیدہ موقف تو نہیں ہوگا۔ لیکن اگر وہ اپنے اختیارات اور اثرورسوخ کا استعمال کرتی ہے انتخابات کے نتائج کو متاثر کرنے کے لیے تو وہ ایک ایشو بن سکتا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ’لوگوں کے ذہنوں میں یہ تاثر مستحکم ہو گیا کہ اس ملک میں جو کچھ انتظام کرنا ہے وہ فوج نے ہی کرنا ہے‘

پاکستان فوج کے سابق بریگیڈیئر ذوالفقار گورسی 39 سال تک فوج میں رہے اور انھوں نے دو مارشل لا بھی دیکھے۔ ان کا کہنا ہے کہ فوج کو ہر کام میں بلا لیا جاتا ہے جس سے عوام سمجھتے ہیں کہ پولیٹیکل مینجمنٹ بھی وہ ہی کر کر رہے ہیں۔ یہ ایک تاثر ہے جو حقیقت نہیں ہے۔ تاہم اس کا ایک دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ فوج نے ایک بڑے عرصے تک اس ملک کا انتظام سنبھالا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’سب فوج کو دے دیں گے تو ہمارے پاس کیا بچے گا‘

’کچھ عناصر کنٹرولڈ جمہوریت اور کنٹرولڈ لیڈرشپ چاہتے ہیں‘

’ایوب خان کے مارشل لا کی لوگ حمایت کرتے تھے 1977 میں (جنرل ضیاالحق کا مارشل لا) لوگوں نے ہمارے سامنے مٹھائیاں تقسیم کیں اور جب مشرف آیا تو بھی لوگوں نے مٹھائیاں تقسم کیں، یہ ادوار دس، دس گیارہ، گیارہ سال تک چلتے رہے ہیں اس سے لوگوں کے ذہنوں میں یہ تاثر مستحکم ہو گیا کہ اس ملک میں جو کچھ انتظام کرنا ہے وہ فوج نے ہی کرنا ہے، حالانکہ موجودہ وقت وہ کچھ نہیں کر رہی لیکن اس کے باوجود لوگوں کے ذہنوں سے یہ تاثر نہیں جا رہا۔

بریگیڈیئر ذوالفقار گورسی سمجھتے ہیں کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کی نااہلی کے بعد کے بیانیے نے فوج کی مداخلت کے تاثر کو مزید مستحکم کیا ہے۔

’عدالت نے جو فیصلہ دے دیا ہے وہ تو واپس نہیں ہوسکتا اب اس کے پاس ایک ہی حل ہے کہ وہ بھاری اکثریت کے ساتھ آئے اور وہ تمام قوانین جس کے تحت اس کے خلاف فیصلہ دیا گیا ہے انھیں تبدیل کر دے، یعنی اس کے سیاسی راہ میں اور اس کی دولت کے راہ میں جو رکاوٹ آگئی ہے وہ تبدیل ہو جائے۔ اس کے لیے وہ تندہی سے لگا ہوا ہے لیکن وہ ادارہ جو بولتا نہیں ہے وہ کسی نے کسی طریقے سے ردعمل کا اظہار تو ضرور کرتا ہے مثلاً جو اسد درانی ( آئی ایس آئی کے سابق سربراہ ) کا معاملہ ہوا ہے اس پر بھی ردعمل کا اظہار کیا ہے۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں