’میں صوبہ پنجاب کی نمائندگی کرتی ہوں،حکومتِ پنجاب کی نہیں‘

Image caption عاصمہ حامد کو جنوری سنہ 2014 میں اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل اور ایک برس بعد ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل مقرر کر دیا گیا تھا

پاکستان کے صوبہ پنجاب کی تاریخ میں پہلی بار صوبائی حکومت کے قانون کے اعلیٰ ترین عہدے یعنی ایڈووکیٹ جنرل پر ایک خاتون کو مقرر کیا گیا ہے۔

صوبائی حکومت کی جانب سے ان کی تقرری کی منظوری کے بعد منگل کو عاصمہ حامد نے باضابطہ طور پر عہدہ سنبھال لیا ہے۔

امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی سے کانسٹیٹیوشنل لا میں ماسٹرز کی ڈگری رکھنے والی عاصمہ حامد اس سے قبل لاہور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ آف پاکستان میں کامیابی سے ریاست کی نمائندگی کر چکی ہیں۔

سنہ 2017 میں ان ہی کی کوششوں کے باعث سیمنٹ کی صنعت میں باقاعدگی لانے کی غرض سے حکومتِ پاکستان نے کابینہ کی منظوری کے بغیر مزید سیمنٹ فیکٹریاں قائم کرنے پر پابندی عائد کر دی تھی۔

عاصمہ حامد کے لیے ایڈووکیٹ جنرل کا دفتر بھی نیا نہیں۔ جنوری سنہ 2014 میں انھیں اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل اور ایک برس بعد ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل مقرر کر دیا گیا تھاـ اس دوران وہ دو مواقع پر قائم مقام ایڈووکیٹ جنرل انچارج بھی رہ چکی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں!

’ایک ہی چیز بار بار ہو تو لوگ جینا سیکھ لیتے ہیں‘

’والدین نے کہا تم غلط راستے پر ہو مگر پہلی رپورٹ کے بعد سب خوش تھے‘

ایک بہن نے مسجد بنوائی، ایک نے قدیم ترین یونیورسٹی

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے عاصمہ حامد کا کہنا تھا کہ اپنی تقرری کے حوالے سے وہ یہ سمجھتی ہیں کہ ’یہ دن وکالت کے پیشہ سے منسلک خواتین کے لیے ایک اہم دن ہے۔‘

’ایک خاتون کو بااختیار بنانے کا مطلب ہے کہ آپ معاشرے میں خصوصا اس پیشے سے منسلک پورے حصے کو بااختیار تسلیم رہے ہیں۔ آپ اس خاتون پر اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں کہ وہ بھی اس منصب کی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے اتنی ہی اہل ہے جتنا کوئی بھی مرد ہو سکتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ انھیں یقین ہے کہ ان کی تقرری ایک وکیل کے طور پر ان کی قابلیت کو سامنے رکھتے ہوئے کی گئی ہے نہ کہ صرف اس لیے کہ وہ ایک خاتون ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عاصمہ حامد لاہور ہائی کورٹ میں قانون کی اعلیٰ افسر ہوں گی

وہ سمجھتی ہیں کہ صوبہ بھر میں با اعتماد اور قابل خواتین وکلا بڑی تعداد میں موجود ہیں جبکہ یہ ایک مردوں کا معاشرہ ہے جہاں وکالت کے پیشہ میں خصوصا مردوں کا غلبہ ہے۔

عاصمہ حامد کی نظر میں اسی وجہ سے معاشرتی رکاوٹوں کے علاوہ دو وجوہات ایسی ہیں جن کی بنا پر زیادہ خواتین ہائی کورٹ یا اس سے اوپر کی سطح تک نہیں پہنچ پاتیں۔ ’ایک تو لوگ یا مؤکل خواتین پر زیادہ اعتماد کا اظہار نہیں کرتے اور دوسرا زبان سے ناآشنائی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے خود ایسی تمام رکاوٹیں محنت سے عبور کیں۔ ’قانون اور قانونی مسائل پر گرفت مطالعے اور مشق ہی سے ملتی ہے، اس کے لیے کوئی مرد ہو یا عورت کسی کے پاس کوئی درمیانہ راسطہ نہیں ہے۔‘

’میں نے اسی طرح کام کیا جس طرح کوئی مرد کر سکتا ہے۔ اگر مجھے راتوں کو دیر تک رکنا پڑا تو میں نے اس کو قبول کیا، اگر ایک ماہ کے لیے راولپنڈی بنچ میں تعینات کیا گیا تو میں وہاں گئی۔ ایک عورت ہونے کے ناتے مجھے کوئی خصوصی سہولیات فراہم نہیں تھیں۔ میں نے ویسے ہی کام کیا جیسے کوئی بھی مرد کر سکتا ہے۔‘

اس طرح ایک فائدہ ان کو یہ بھی ہوا کہ ان کے ساتھ کام کرنے والے مرد حضرات کو بھی ان کے ساتھ اُسی آزادی اور اعتماد سے کام کرنے کا موقع ملا جس طرح وہ اپنے کسی بھی مرد ساتھی کے ساتھ کام کرتے ہوئے محسوس کرتے ہوں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عاصمہ حامد کا کہنا تھا کہ مستبقل میں بھی ان کا کام ریاست کے مفاد کا دفاع کرنا ہو گا۔ کس کی حکومت آتی ہے اور کس کی نہیں، اس سے ان کا کوئی سروکار نہیں

پاکستان تحریکِ انصاف کی طرف سے ان کی تعیناتی کے خلاف چیف الیکشن کمشنر کو لکھے گئے خط کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ’اگر انھیں ایسا کرنا ہی تھا تو کوئی بہتر جواز ڈھونڈنا چاہیے تھا۔‘

وہ سنہ 2014 میں اسی حکومت کی جانب سے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل مقرر کی گئیں تھیں اور وہ لاہور ہائی کورٹ میں قانون کی اعلیٰ افسر ہوں گی۔

’میں صوبہ پنجاب کی نمائندگی کرتی ہوں، حکومتِ پنجاب کی نہیں۔‘ ان کا کہنا تھا انھوں نے ہمیشہ سے عوامی مفاد کا دفاع کیا ہے نہ کہ کسی کے ذاتی مفاد کا ’اور اس کے لیے میں نہ صرف لاہور ہائی کورٹ بلکہ سپریم کورٹ میں بھی جانی جاتی ہوں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ مستبقل میں بھی ان کا کام ریاست کے مفاد کا دفاع کرنا ہو گا۔ کس کی حکومت آتی ہے اور کس کی نہیں، اس سے ان کا کوئی سروکار نہیں۔

عاصمہ حامد سابق گورنر پنجاب شاہد حامد کی صاحبزادی اور سابق وفاقی وزیرِ قانون زاہد حامد کی بھتیجی بھی ہیں۔

اسی بارے میں