دیر بالا میں چیک پوسٹوں پر فوج کی بجائے اب پولیس

دیر بالا

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے شورش زدہ علاقے ملاکنڈ ڈویژن میں فوج نے امن کی بحالی کے بعد اختیارات سول اداروں کو منتقل کرنے کا باقاعدہ آغاز کردیا ہے۔ اس ضمن میں پہلے مرحلے میں دو اضلاع دیر بالا اور دیر پائین میں دس چیک پوسٹوں پر سکیورٹی کے فرائض پولیس کے حوالے کردی گئی ہے۔

دیر بالا کےحدود میں داخل ہوتے ہی سب سے پہلے آخگرام کا چیک پوسٹ نظر آتا ہے جہاں تقریباً دس سالوں سے فوج کے اہلکار سکیورٹی کی ذمہ داری سرانجام دے رہے تھے۔ تاہم حالیہ دنوں میں اختیارات سول اداروں تک منتقلی کے فیصلے کے بعد اب دیر بالا میں واقع سکیورٹی فورسز کی تقریباً تمام چیک پوسٹوں کو پولیس کے حوالے کردیا گیا ہے۔اس ضلع میں اب ایسا کوئی چیک پوسٹ نہیں رہا جہاں فوجی اہلکار تعینات ہوں۔

تاہم دیر پائین میں کچھ چیک پوسٹیں ابھی تک موجود ہیں جہاں تلاشی کے عمل پر تو پولیس اہلکار مامور ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ پولیس کی مدد کےلیے وہاں فوجی اہلکار بھی تعینات ہیں۔

دیر بالا کے ڈی ایس پی آیاز محمود کا کہنا ہے کہ تقریباً دس سال تک علاقے میں سکیورٹی کی ذمہ داری فوج کے سپرد رہی لیکن حالات میں بتدریج بہتری کے بعد بالاآخر یہ کام پولیس کے حوالے کردیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پولیس اختیارات لینے کےلیے نہ صرف بھرپور صلاحیت رکھتی ہے بلکہ پہلے سے زیادہ تیار اور مستعد ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک دیہائی کے دوران مالاکنڈ ڈویژن میں جو حالات گزرے اس سے ہر لحاظ سے ناقابل تلافی نقصان پہنچا ، سینکڑوں پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں کی جانیں گئیں لیکن اس سے پولیس کی تربیت اور استبدار بھی بڑھی ہے جس سے اب وہ نہ صرف زیادہ باصلاحیت ہوگئی ہے بلکہ جدید سازو سامان اور ہتھیاروں سے بھی لیس ہے۔

آیا ز محمود کے مطابق پولیس کو صرف امن و امان برقرار رکھنے کی ذمہ داری نہیں دی گئی ہے بلکہ انہیں سرچ اینڈ سٹرائیک آپریشنوں کا کام بھی حوالے کیا گیا ہے جو اس سے پہلے فوج کی ذمہ داری تھی۔

ملاکنڈ ڈویژن میں اختیارات سول اداروں تک منتقلی کے ضمن میں گزشتہ ماہ دیر پائین کے صدر مقام تیمرگرہ میں ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں اعلی سول و فوجی حکام نے شرکت کی۔ اس تقریب میں اعلی فوجی اہلکاروں نے ملاکنڈ ڈویژن کے کمثنر اور ریجنل پولیس افسر کو باقاعدہ طورپر روایاتی قلی لونگی پہنا کر ان کو اختیارات حوالے کرنے کا آغاز کیا۔

سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاکنڈ ڈویژن میں اختیارات سول اداروں تک منتقلی کا فیصلہ 2017 میں ہونے والے ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق اس اجلاس میں فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے اس عمل کو تیز کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

ملاکنڈ ڈویژن میں سن 2007 میں کشیدگی کے بعد شدت پسند تنظیموں کے خلاف فوجی آپریشن کا آغاز کیا گیا تھا۔ ملاکنڈ کے چار اضلاع سوات، بونیر دیر پائین اور دیر بالا شدت پسندی اور دہشت گردی کی وجہ سے بری طرح متاثر ہوئے تھے۔ آپریشنوں اور شدت پسندوں کی کاروائیوں کا وجہ سے متاثرہ اضلاع سے تقربناً تیس لاکھ کے قریب افراد نے گھر بار چھوڑ کے محفوظ علاقوں میں پناہ گزین ہوگئے تھے۔

تاہم دو ہزار نو میں ہونے والے موثر فوجی کاروائیوں کی وجہ سے شدت پسندوں کا خاتمہ کردیا گیا اور بیشتر اہم طالبان کمانڈر مارے گئے یا سرحد پار کرکے افغانستان منتقل ہوگئے۔ تاہم اس دوران امن و امان برقرار رکھنے کےلیے سکیورٹی فورسز کی طرف سے تمام متاثرہ اضلاع میں درجنوں چیک پوسٹیں قائم کی گئیں۔

ان چیک پوسٹوں پر گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاروں اور دیگر سختیوں کی وجہ سے مقامی افراد کو کئی قسم کے مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ بعض علاقوں میں مقامی شہریوں نے اس کے خلاف وقتاً فوقتاً احتجاج بھی کرتے رہے ہیں۔ تاہم حالیہ تبدیلی سے چیک پوسٹوں پر لمبی لمبی قطاروں میں بھی کافی حد تک کمی آئی ہے اور جس پر مقامی لوگ خوشی کا اظہار بھی کررہے ہیں۔

آخاگرام چیک پوسٹ پر دیر بالا کے ایک موٹر سائیکل سوار الطاف قریشی نے کہا کہ پولیس کے آنے سے لوگوں کے مشکلات میں کافی حد تک کمی آئی ہے اور چیک پوسٹوں پر لمبی لمبی قطاروں بھی کم ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اہلکار مقامی ہوتے ہیں اور انہیں مقامی روایات کے بارے میں معلوم بھی ہوتا ہے لہذا اگر کوئی مریض ہو یا کوئی جلدی میں ہو تو اہلکاروں کو درخواست کرکے مشکل حل ہوجاتی ہے۔

علاقے کے ایک سرکردہ ملک میاں عامر شاہ نے کہا کہ علاقے میں پائیدار امن کے قیام کےلیے فوج اور پولیس اہلکاروں نے جو قربانیاں دی ہیں اس سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہا کہ انہی قربانیوں کی بدولت آج پورے ڈویژن میں مستقل طورپر امن قائم ہے۔ ٭٭٭

اسی بارے میں