80 طالبات سے جنسی ہراس: ’چپ ہو جائیں۔۔ ابھی آپ چپ ہو جائیں‘

بحریہ کالج، جنسی ہراسگی تصویر کے کاپی رائٹ facebook
Image caption ایک طالبہ نے آواز اٹھائی تو ان کے ساتھ ان کی ساتھی طالبات نے بھی خود پر بیتی اذیت کو شیئر کرنا شروع کیا۔ اب تک 18 طالبات استاد کے نامناسب رویے کے بارے میں تحریری بیان ٹوئٹر پر اپ لوڈ کر چکی ہیں۔

'میں اب تک مکمل طور پر صدمے میں ہوں کہ ہمیں اس سب سے گزرنا پڑا۔ اس دن تقریباً80 طالبات کو جنسی طور پر ہراساں کیا گیا تھا اور ہماری ٹیچر نے ہمیں کہا کہ خاموش رہو کیونکہ وہ نہیں چاہتی تھیں کہ ہمارے نمبر کم آئیں۔۔۔ میرے پاس اس واقعے کو بیان کرنے کے لیے الفاظ نہیں۔۔۔ اس نے مجھے دو مرتبہ دبوچ لیا ایک بار تب جب میں ماڈل کے بارے میں بتانےگئی اس نے میرے کولہوں سے مجھے دبوچ لیا اور دوسری بار تب جب میں سلائیڈ بنا رہی تھی وہ میرے پیچھے آیا اور اس نے میری برا کا سٹریپ چھوا۔۔۔ اور تیسری بار جب میں نے مینڈک کے اندرونی اعضا کا معائنہ کرنے کے لیے اسے چاک کیا۔۔۔اس نے کہا کہ یہ مادہ مینڈک ہے تم دیکھتی نہیں اس میں بیضہ دانی ہے جو تمھارے اندر بھی ہے۔'

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کےایک نامور کالج میں گذشتہ ہفتے بارہویں جماعت کی طالبات کا بیالوجی (حیاتیات) کا پریکٹیکل تھا۔ جس میں شامل طالبات میں سے ایک نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک پر پریکٹیکل کے مسلسل تین دن بیالوجی لیب میں پیش آنے والے واقعات کے بارے میں لکھا جو جنسی ہراسانی کے زمرے میں ہیں۔

ان کا یہ پیغام وائرل ہو گیا اور ٹوئٹر پر بھی اسی حوالے سے #PunishSadatBashir کا ٹرینڈ نظر آرہا ہے۔ جبکہ اسی حوالے سے ایک آن لائن پٹیشن کو بھی سائن کیا جا رہا ہے جس پر اب تک 14 ہزار سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں۔

کالج کی اس لیب میں فیڈرل بورڈ کی جانب سے ڈیوٹی پر مامور استاد سعادت بشیر پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انھوں نے طالبات کو جسمانی طور پر ہراساں کیا اور ان سے غلط انداز میں سوالات کیے۔

دوسری جانب وفاقی نظامت تعلیمات نے اس معاملے کی تحقیقات کے لیے دو رکنی کمیٹی تشکیل دے دی۔ اس کمیٹی میں پروفیسر ڈاکٹر عطا محمد اور بلقیس نبی شامل ہیں جبکہ کمیٹی کو سات روز میں تحقیقات کے بعد رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

مزید پڑھیے

جنسی ہراس: سکول ٹیچر کے خلاف الزام کے بعد کارروائی

قصور: ’ہمیں سکول آنے سے ڈر لگتا ہے‘

ایک طالبہ نے آواز اٹھائی تو ان کے ساتھ ان کی ساتھی طالبات نے بھی خود پر بیتی اذیت کو شیئر کرنا شروع کیا۔ اب تک 18 طالبات استاد کے نامناسب رویے کے بارے میں تحریری بیان لکھ چکی ہیں جسے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر اپ لوڈ کیا جا چکا ہے۔

ہر بیان میں جنسی ہراس اور دوسری جانب کالج انتظامیہ کی خاموشی کا تذکرہ ملتا ہے۔

کچھ طالبات کے مطابق ان کے والدین نے پرنسپل سے ملنے کی کوشش کی لیکن انھیں انکار کیا گیا اور کسی بھی قسم کی تسلی نہیں دی گئی۔

بی بی سی کی جانب سے رابطہ کرنے پر کالج انتظامیہ نے نمبر لے کر کہا کہ متعلقہ انتظامی اہلکار آپ سے خود فون پر رابطہ کریں گے لیکن کئی گھنٹے کے بعد بھی کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔ تاہم اسی کالج میں لڑکوں کے پریکٹیکل کے دوران ڈیوٹی سرانجام دینے والی ایک ٹیچر نے بی بی سی کو بتایا کہ معاملے کی تحقیقات ہو رہی ہیں تاہم انھوں نے کہا کہ ان کی ڈیوٹی کے دوران ایسا کچھ نہیں ہوا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

انھیں طالبات میں سے سوشل میڈیا پر اس پیٹشین اور مہم کو چلانے والی ایک طالبہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میرا پریکٹیکل آخری دن تھا ہم نے اپنی ایک استاد سے منت کی کہ وہ ہمیں اکیلا نہ چھوڑیں کیونکہ جب ہم جا رہے تھے تو ہماری ایک دوست روتی ہوئی باہر نکلی۔ ہم نے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ کو بتایا تو انھوں نے کہا کہ ہم اس سے ڈیل کر لیں گے ابھی اس کے پاس ہمارے نمبر ہیں ابھی آپ چپ رہیں۔ پھر میں ایڈمن کو رپورٹ کروں گی ہم دیکھیں گے کہ کیا ہوتا ہے۔۔۔۔‘

وہ کہتی ہیں کہ تین دن تک اساتذہ کو بتایا جاتا رہا لیکن جب کالج کا ردعمل اتنا برا دیکھا تو پہلے میری ایک ساتھی نے فیس بک پر لکھا اور پھر میں نے اسے ٹوئٹر پر لکھا جس کے بعد ہماری ایک اور ساتھی نے باقی طالبات سے تحریری گواہی اکٹھی کی اور اب تک 18 طالبات یہ شیئر کر چکی ہیں۔

لیکن اس معاملے میں الزامات کی زد میں آنے والے لیکچرر سعادت بشیر کا کہنا ہے کہ یہ سب جھوٹ ہے انھوں نے ایسا کچھ نہیں کیا۔

وہ کہتے ہیں کہ میں معمول کے مطابق گذشتہ 12 سال سے بی ایس سی اور ایف ایس سی کے پریکٹیکل لینے کے لیے جاتا رہتا ہوں۔

’میں نے خود بھی محنت سے پڑھا ہے اور پرفارم کرواتا ہوں تھوڑی سختی کرتا ہوں، اس میں پھر فورسز والے کالج ہوتے ہیں انھیں یہ بات پسند نہیں آتی۔ وہ کہتے ہیں کچھ نہ کہو بیٹھے رہو نمبر پورے دے کر جاؤ ورنہ ایسی صورتحال کے لیے تیار رہو۔۔۔۔۔ میں دو بچیوں کا باپ ہوں میں انھیں اپنی بچیوں کی طرح سمجھتا ہوں۔۔۔ میں نے کچھ نہیں کیا میں بے گناہ ہوں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

انھوں نے بتایا کہ بحریہ کالج کی درخواست کے بعد مجھے میرے سکول کے پرنسپل نے فیڈرل بورڈ کے ڈائریکٹر جنرل کے پاس بھیجا تھا۔ اب میں تحریری بیان داخل کراؤں گا۔

’پرنسپل نے کنٹرولر برائے امتحانات میڈم فاطمہ طاہرہ کے پاس بھجوایا میں نے انھیں کہا کہ آپ نے میری گرلز کالج میں ڈیوٹی کیوں لگوائی۔۔۔ ہماری طرح 40 سال کا ینگ آدمی جاتا ہے سختی کرتا ہے تو اگر کوئی الزام لگا دے تو یہ کوئی مشکل نہیں، کوئی مشکل نہیں۔‘

سعادت بشیر کا کہنا تھا کہ میں نے متعلقہ حکام کو بتایا ہے کہ سات سوال تھے میں نے چار چار لڑکیوں ک بٹھا کر وائیوا کیا ہے تاکہ تین گھنٹے میں پورا کر سکوں۔

وہ کہتے ہیں کہ معاملے کی انکوائری ہو رہی ہے جو فیصلہ آئے گا قبول کروں گا۔

آپ پر اس سے قبل بھی سنہ 2014 میں ایسا ہی الزام راولپنڈی کے آرمی پبلک سکول میں لگا تھا اور انکوائری بھی ہوئی تھی؟

اس کے جواب میں انھوں نے کہا کہ وہ الزام بھی جھوٹا تھا اور وہ ایک اکیڈمی میں پڑھنے والی پانچ طالبات نے لگایا تھا کیونکہ اکیڈمی کے ساتھ میرا پیسوں کا جھگڑا تھا۔

’درخواست ہوئی پھر انکوائری ہوئی تھی اس میں کچھ نہیں نکلا میرے حق میں فیصلہ آیا تھا۔۔ بس میری یہ سختی میرے آڑے آئی ہے۔۔۔ لیکن فیصلے یہ بھی لکھا گیا کہ اب مجھے کسی گرلز کالج میں نہیں جانے دیا جائے اب اس فیصلے کی کاپی مجھے نہیں دی گئی گا لیکن بورڈ والے میری ڈیوٹیاں لگاتے رہے۔۔۔‘

اس معاملے کی انکوائری کا نتیجہ کیا نکلے گا یہ ابھی معلوم نہیں لیکن گذشتہ دنوں اسی شہر میں ایک نامور پرائیوٹ سکول میں بھی بچیوں نے میل ٹیچر پر ہراسانی کے الزامات لگائے تھے جس کے بعد سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی گئی۔

اس واقعے کے خلاف آن لائن مہم چلانے والی طالبہ کا کہنا ہے کہ انھیں جہاں حمایت دیکھنے کو مل رہی ہے وہیں ان پر کڑی تنقید بھی کی جا رہی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ ’ہم جھوٹ بول رہے ہیں، ہمارے پاس ویڈیو ثبوت ہونے چاہییں۔ طالبات کو اسی وقت جوتے اتار کر مارنا چاہیے تھے، اسی وقت شور مچانا چاہیے تھا۔‘

ایک ایسا وقت جب ہمارے حکام ابھی پرائمری سطح کے بچوں کو اپنا بنیادی تحفظ کرنے اور ’گڈ ٹچ اور بیڈ ٹچ‘ کی تعلیم کے لیے سلیبس اور اساتذہ کی تربیت پر غور کر رہے ہیں اس قسم کے واقعات یہ سوال ایک بار پھر اٹھاتے ہیں کہ کیا ہمارا معاشرہ جنسی ہراس کو معمول کا حصہ سمجھ چکا ہے اور کالج کی لیکچرر کی طرح یہی کہہ رہا ہے چپ ہو جائیں، ابھی چپ ہو جائیں۔۔۔

اسی بارے میں