وانا میں پی ٹی ایم اراکین پر حملے کے بعد کرفیو نافذ، دو ہلاک متعدد زخمی

منظور پشتین
Image caption منظور احمد پشتین بد امنی سے متاثرہ قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان کے ایک تعلیم یافتہ گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں

پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان کی مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وانا میں پشتون تحفظ موومنٹ کے اراکین پر مسلح افراد کی فائرنگ سے کم سے کم دو کارکن ہلاک ہوئے ہیں اور متعدد کارکن زخمی ہیں جس کے بعد علاقے میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔

جنوبی وزیرستان کے ہیڈ کوارٹر وانا میں اتوار کی شب پشتون تحفظ موومنٹ کے سرکردہ رکن علی وزیر کے پیٹرول پمپ پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کی جس کے بعد صورتحال کشیدہ ہو گئی۔

ہمارے نامہ نگار نے بتایا کہ مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ صورتحال کشیدہ ہونے کے سبب شہر میں گذشتہ شب سے کرفیو نافذ ہے۔

اس حملے میں علی وزیر تو محفوظ رہے لیکن مقامی سیاسی انتظامیہ کے اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ مسلح افراد کی فائرنگ سے پشتون تحفظ موؤمنٹ کے دو کارکن ہلاک ہوئے ہیں۔

اطلاعات ہیں کہ اس حملے میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں اور زخمیوں میں ایک مقامی صحافی نور علی بھی شامل ہیں۔

اس بارے میں مزید جانیے کے لیے پڑھیے

گڈ اور بیڈ طالبان کون ہیں؟

منظور پشتین کون ہے؟

’منظور پشتین ہمارا اپنا بچہ ہے، ہم انھیں سنیں گے‘

’منظور پشتین نے ہمارا خوف ختم کر دیا ‘

کیا فوج اور پشتین ایک پیج پر نہیں؟

مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ قبائلی عمائدین پر مشتمل جرگہ آج بلوایا گیا ہے، جس میں موجودہ صورتحال پر بات کی جائے گی۔

قبائلی عوام کے حقوق کے لیے آواز اُٹھانے والی تنظیم پی ٹی ایم کا کہنا ہے کہ اس حملے میں ’امن کمیٹی عین اللہ کے افراد‘ ملوث ہیں۔ مقامی طور پر ان افراد کو 'گڈ طالبان' کہا جاتا ہے۔

اس حملے کے بعد پی ٹی ایم کے رہنما منظور پشتین نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ طالبان نے علی وزیر اور پی ٹی ایم کے کارکنوں پر فائرنگ کی۔

انھوں نے کہا کہ 'فائرنگ کے جواب میں جب طالبان پر پتھراؤ کیا گیا تو انھوں نے کیمپ میں پناہ لے لی۔'

Image caption پی ٹی ایم کے اراکین پر اس حملے کے بعد اسلام آباد، پشاور اور کوئٹہ سمیت دیگر علاقوں میں احتجاج ہوا۔

انھوں نے کہا کہ 'پشتون تحفظ موومنٹ نے گذشتہ پانچ ماہ سے آئین کے لیے جدوجہد کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اور اس عرصے میں ایک روڈ بھی بند نہیں کی، ایک بلب بھی نہیں توڑا لیکن ریاستی اداروں نے ہم پر ظلم کیے۔'

انھوں نے پاکستان سمیت دنیا بھر میں پشتون عوام سے مطالبہ کیا کہ جب بھی موقع ملے تو اس واقعے کے خلاف احتجاج کریں اور جہاں بھی اقوام متحدہ کے دفاتر ہیں وہاں مظاہرہ کریں کیونکہ حکومت ہماری بات نہیں سنتی ہے۔

ادھر وانا میں اس حملے کے بعد سے حالات کشیدہ ہیں رستم بازار اور عالم مارکیٹ میں پی ٹی ایم کے سرگرم افراد نے امن کمیٹی کے عین اللہ گروپ کے دفتر کا محاصرہ کر لیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق 'گڈ طالبان' کے دفاتر کو نذرِ آتش کر دیا ہے۔

وانا میں پی ٹی ایم کے اراکین پر اس حملے کے بعد اسلام آباد، پشاور اور کوئٹہ سمیت دیگر علاقوں میں احتجاج ہوا۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

اس حملے کے بعد سے ٹویٹر پر Wana اور # stopUsingTalibanAgainistPTMکا ہیش ٹرینڈ ٹرینڈ کر رہا ہے۔

سوشل میڈیا پر کئی افراد نے وانا میں کشیدہ صورتحال کی ویڈیوز اور تصاویر پوسٹ کی ہیں۔

ٹویٹر پر مختلف شہروں میں ہونے والے احتجاج کی تصاویر بھی پوسٹ کیں ہیں۔

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما افسریاب خٹک نے ٹویٹ کی ہے کہ ’پشتون کیسے اُن ریاستی اداروں کی مذاکرات کی پیشکش کو کیسے سنجیدگی سے لے سکتے ہیں، جب ریاستی پراکسیز نے اُن کے گھروں کو تباہ کر دیا ہے اور اُن کے بچوں کا خون بہایا ہے۔‘

ٹوئٹر پر ایک اور صارف عمران خان نے لکھا کہ 'یہ جو نامعلوم ہیں وہ ہمیں معلوم ہیں۔

اسی بارے میں