الیکشن 2018:’امیدواروں نے حقائق چھپائے تو توہین عدالت کی کارروائی ہو گی‘

پاکستان الیکشن تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سپریم کورٹ نے آئندہ ماہ ہونے والے عام انتخابات میں امیدواروں کے لیے بیان حلفی کو لازمی قرار دیا ہے جس میں وہ تمام معلومات درج ہوں گی جو اس کے اثاثوں اور غیر ملکی شہریت کے بارے میں ہوں گی۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے الیکشن کمیشن کو اس بیان حلفی کا متن تیار کر کے عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

کاغذاتِ نامزدگی سے متعلق لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سابق سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق اور الیکشن کمیشن کی نظرثانی کی درخواست کی سماعت میں عدالت کا کہنا تھا کہ بیان حلفی کے متن کو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنانے کے بعد تین روز میں امیدواران بیان حلفی ریٹرنگ افسران کے پاس جمع کروا سکیں گے۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

نئے کاغذاتِ نامزدگی میں کیا نہیں ہے؟

بھٹو خاندان کی تیسری نسل کا عملی سیاست میں قدم

بدمعاش امیدوار!

’اس بار نئے سے نئے مسائل پیدا ہو رہے ہیں‘

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر اس بیان حلفی میں امیدوار کی طرف سے کوئی حقائق چھپائے گئے تو ایسا تسلیم کیا جائے گا کہ یہ حقائق سپریم کورٹ سے چھپائے گئے ہیں اور ایسا کرنے والے کے خلاف توہین عدالت سمیت دیگر قوانین کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

اُنھوں نے کہا کہ ووٹرز کا یہ حق ہے کہ وہ اپنے امیدوار کے بارے میں ملعومات حاصل کرے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ووٹرز کو آنکھوں پر پٹی باندھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

عدالت نے درخواست گزار اور قومی اسمبلی کے سپیکر سردار ایاز صادق کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان کے موکل کون سی ایسی معلومات ہیں جو اپنے ووٹرز سے مخفی رکھنا چاہتے ہیں۔

اس پانچ رکنی بینچ میں شامل جسٹس عظمت سعید نے قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق کے وکیل سے استفسار کیا کہ وہ لاہور ہائی کورٹ کے سنگل بینچ کے فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل دائر کیے بغیر سپریم کورٹ میں کیسے آ گئے۔

اُنھوں نے کہا کہ ابھی ان کی درخواست پر اعتراضات ختم نہیں ہوئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت عظمیٰ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دیا جانے والا حکم امتناعی واپس بھی لے سکتی ہے پھر چاہے میڈیا پر یہ خبر ہیڈ لائن کے طور پر لی جائے۔

واضح رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے پارلیمنٹ سے منظور ہونے والے انتخابی اصلاحات ایکٹ سنہ2017 کے تحت امیدواروں کے نامزدگی فارم میں کم معلومات کے خلاف دائر درخواست پر فیصلہ دیتے ہوئے اسے کالعدم قرار دیا تھا۔

عدالت نے واضح کیا کہ عام انتخابات بروقت ہوں گے اور کسی قسم کی تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ امید ہے کہ عام انتخابات شفاف ہوں گے اور ایک اچھی قیادت ملک کو میسر ہو گی۔

اسی بارے میں