رسول بخش پلیجو چل بسے، پاکستان میں مزاحمتی سیاست کا ایک باب بند ہو گیا

  • علی حسن
  • صحافی، حیدرآباد
رسول بخش پلیجو
،تصویر کا کیپشن

رسول بخش پلیجو نے ون یونٹ کے خاتمے کے لیے مہم میں بھی بھرپور کردار ادا کیا تھا

پاکستان کے صوبہ سندھ میں مزاحمتی سیاست کا ایک بڑا نام سیاستدان رسول بخش پلیجو طویل علالت کے بعد جمعرات کی صبح کراچی کے ایک نجی ہسپتال میں وفات پا گئے ہیں۔

ان کی عمر 89 برس تھی۔ رسول بخش پلیجو گذشتہ چند سالوں سے طویل العمری کی وجہ سے بیماریوں کا شکار تھے لیکن بیماری کے باوجود وہ سیاسی طور پر متحرک تھے۔

رسول بخش پلیجو کی جماعت کے ترجمان کے مطابق ان کی تدفین جمعے کی صبح ضلع ٹھٹہ کے علاقہ جنگ شاہی میں کی جائے گی۔

عملی سیاست میں قدم رکھنے سے وفات تک رسول بخش پلیجو کی سیاست میں مزاحمتی رنگ واضح تھا۔اپنی زندگی کے آخری ایام میں انھوں نے اپنے بیٹے ایاز لطیف پلیجو کی سیاست سے اختلاف کرتے ہوئے عوامی تحریک کو دوبارہ بحال کیا اور اس کے سربراہ بن گئے تھے۔

رسول بخش پلیجو نے پوری زندگی سندھ کے حوالے سے سیاست کی لیکن ان کی زندگی میں ایک دور ایسا بھی آیا جب وہ عوامی نیشنل پارٹی کے جنرل سیکریٹری مقرر ہوئے تھے۔ کچھ عرصہ بعد اختلافات کے بعد انھوں نے اے این پی سے کنارہ کشی اختیار کر لی تھی۔ انھوں نے کئی درجن کتابیں اور کتابچے تحریر کیے۔

رسول بخش پلیجو نے ون یونٹ کے خاتمے کے لیے مہم میں بھی بھرپور کردار ادا کیا تھا اور بنگلہ دیش میں فوجی کارروائی، بھٹو دور میں بلوچستان میں فوجی کارروائی کے خلاف بھی احتجاجی تحریک چلائی تھی۔

رسول بخش پلیجو کی 1970 میں قائم کی جانے والی عوامی تحریک نے اس وقت بڑا نام کمایا جب جنرل ضیاالحق کے دور میں پاکستان پیپلز پارٹی نے مارشل لا کی مخالف قوتوں کے ساتھ مل کر تحریک برائے جمہوریت (ایم آر ڈی) کی بنیاد ڈالی اور جیل بھرو تحریک کا آغاز کر دیا۔

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

اس تحریک میں عوامی تحریک نے پیپلز پارٹی کے شانہ بشانہ حصہ لیا تھا اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے رسول بخش پلیجو کو ضمیر کا قیدی بھی قرار دیا تھا۔ انھوں نے مختلف اوقات میں طویل قید و بند کی سزا کاٹی تھی۔

رسول بخش پلیجو نے اپنی جماعت کو انتخابی سیاست سے دور رکھا ہوا تھا۔ وہ ایسے کارکن تیار کرتے تھے جنھیں معاشرتی تبدیلی اور نظام حکومت کی تنزیلی کے علاوہ کوئی اور سروکار نہیں تھا۔

رسول بخش ایک ہی وقت میں فکری محاذ، تنظیمی محاذ، سیاسی اور سماجی محاذ پر اپنی قوتیں صرف کرتے تھے۔

وہ سندھ کے ممکنہ طور پر ان چند رہنماؤں میں سے تھے جو بیک وقت کئی سیاسی جماعتوں اور مختلف اوقات میں قائم کئے جانے والے سیاسی اتحادوں کا حصہ بھی رہے۔

2008 میں اپنی جماعت کے انتخابات کے دوران جب انھیں اپنے ہی بیٹے ایاز لطیف پلیجو کی سیاست کا طرزِ عمل پسند نہیں آیا تو انھوں نے ایاز لطیف کے نام ایک کھلا خط لکھا تھا۔ وہ ایک خط تھا بلکہ ایک چارج شیٹ تھی جو ایک والد کی طرف سے بیٹے کے نام نہیں تھی بلکہ ایک سیاسی جماعت کے باضابطہ منتخب صدر کے نام تھی۔

اس خط کے ایک ماہ بعد انھوں نے ایک پریس کانفرنس کی جس میں انھوں نے قومی عوامی تحریک سے اپنی ساتھیوں اور حامیوں سمیت علیحدگی کا اعلان کیا اور عوامی تحریک کو بحال کر دیا تھا۔

رسول بخش پلیجو نے اپنے پسماندگان میں پانچ بیٹوں اور بیٹیوں کے علاوہ کارکنوں کی بڑی تعداد کو سوگوار چھوڑا ہے۔