’اختلاف رائے کی وجہ سے غیر محب وطن قرار نہیں دے سکتے‘

  • سارہ حسن
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
آئی ایس پی آر

،تصویر کا ذریعہISPR

،تصویر کا کیپشن

فوج کے ترجمان نے مختلف صحافیوں اور سوشل میڈیا پر سرگرم افراد کی تصاویر پر مشتمل ایک سلائیڈ دکھائی تھی اور کہا تھا کہ یہ لوگ ٹوئٹر پر غیر ریاستی پراپیگنڈے میں مصروف ہیں۔

پاکستان میں صحافیوں کی تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ نے پاکستانی فوج کی جانب سے صحافیوں پر حال ہی میں عائد کیے جانے والے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انھیں بے بنیاد اور غیر ضروری قرار دیا ہے۔

پی ایف یو جے کا یہ بیان رواں ہفتے کے آغاز میں فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور کی اُس پریس کانفرنس کے تناظر میں سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے مختلف صحافیوں اور سوشل میڈیا پر سرگرم افراد کی تصاویر پر مشتمل ایک سلائیڈ دکھائی تھی اور کہا تھا کہ یہ لوگ ٹوئٹر پر غیر ریاستی پراپیگنڈے میں مصروف ہیں۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

اس سلسلے میں منگل کو پاکستانی صحافیوں کی تنظیم کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں فوج سے مطالبہ کیا ہے کہ صحافیوں کو 'غیر ریاستی عناصر' قرار دینے پر مبنی بیان واپس لیا جائے۔

بیان میں آزادی اظہار رائے کے بارے میں آئین کی شق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’کوئی کسی کی مخصوص بیان، تبصرے اور رائے سے اختلاف کا حق رکھتا ہے لیکن اسے غیر محب وطن کام قرار نہیں دیا جا سکتا اور یہ قومی سلامتی کے ایک ادارے کی جانب سے ایک غیر معمولی اقدام ہے۔‘

پی ایف یو جے کا کہنا ہے کہ آئی ایس پی آر کے اس اقدام نے ان صحافیوں کی زندگیوں کو خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ ماضی میں اس طرح کی الزام تراشی سے قومی مفاد اور سلامتی کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ چکا ہے۔

پی ایف یو جے کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب پاکستان میں ٹی وی چینلز کو بند کیا جا رہا ہے اور اخبارات کی ترسیل میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔

حالیہ برسوں میں پاکستان میں صحافیوں پر ریاستی اداروں کی جانب سے تشدد کے الزامات تو سامنے آتے رہے ہیں لیکن صحافتی تنظیموں نے ریاستی اداروں خصوصاً پاکستانی فوج کے خلاف اس طرح کے بیانات جاری نہیں کیے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP

پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ’ریاست پر تنقید کرنے والے لوگوں کو اطلاعات کے مطابق سکیورٹی فورسز کی طرف سے جس تواتر اور آزادی کے ساتھ نشانہ بنایا جا رہا ہے، اس پر پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق (ایچ آرسی پی) کو شدید تکلیف ہے۔

پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق کے چیئرپرسن ڈاکٹر مہدی حسن کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ’ ڈی جی ایس پی آر نے 4 جون کو اپنی پریس کانفرنس میں سوشل میڈیا پرسرگرم افراد کے ناموں اور تصاویر پر مشتمل ایک سلائیڈ دکھائی اورانھیں 'ریاست مخالف' عناصر قرار دیا جس پر ایچ آر سی پی کو شدید تشویش ہے۔‘

بیان میں مزید کہا گیا کہ’ایسے وقت پر جب انتخابات میں دو ماہ سے بھی کم مدت رہ گئی ہے، ایک انتہائی ناخوشگوار صورتحال پیدا ہوتی نظر آ رہی ہے۔ یہاں تک کہ بہت معمولی سیاسی اختلاف رائے کو بھی، خاص طور پر اگر اس کا اظہار صحافیوں اورسوشل میڈیا کے کارکنوں کی طرف سے ہو، ’ریاست مخالف‘ قرار دیا جاتا ہے‘ اور ان کی زندگی خطروں میں گھر جاتی ہے۔‘

میڈیا پر بڑھتا ہوا دباؤ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

تجزیہ کار مظہر عباس کا کہنا ہے کہ پاکستان میں حکومتیں بہت کمزور ہو گئی ہیں اور آزادی اظہار رائے پر دباؤ بہت بڑھ گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ چینل بند ہوتے تھے، اخبار کی ترسیل متاثر ہوتی تھی لیکن حکومت سے جب پوچھا جاتا تھا تو انھیں کچھ معلوم نہیں ہوتا تھا۔

ڈان لیکس کے معاملے میں حکومت سے میڈیا پر دباؤ کے بارے میں بات کی گئی تو انھوں نے بےبسی کا اظہار کیا، جس کے بعد متعلقہ ادراوں سے رابطہ کیا گیا۔

یاد رہے کہ فوج کے ترجمان نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ بعض صحافی سوشل میڈیا پر ریاست مخالف پراپیگنڈے میں مصروف ہیں۔

مظہر عباس نے کہا کہ اتنی ذمہ دار فوج کے ترجمان کی جانب سے اگر چارٹ کے ذریعے یہ بتایا جائے گا کہ ان صحافیوں کی سرگرمیاں ریاست کے خلاف ہیں تو یہ بہت تشویشناک ہے۔

انھوں نے کہا کہ 'آپ نے کچھ صحافیوں کو ریاست مخالف قرار دے دیا ہے اور اُن پر کوئی مقدمہ بھی نہیں ہے، یہ خطرناک موڑ ہے۔'

سوشل میڈیا صحافت نہیں ذاتی رائے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

غالباً نیا دور کے بلاک ہونے کی وجہ وہ آرٹیکلز ہیں جو ملک کے مختلف اخبارات چھاپ نہیں رہے تھے خصوصاً پشتون تحفظ موومنٹ کے حوالےسے: رضا رومی

مظہر عباس کا کہنا ہے کہ یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سوشل میڈیا کسی میڈیا ہاؤس یا اخبار کی پالیسی نہیں ہے بلکہ یہ کسی صحافی کی ذاتی رائے ہے۔

انھوں نے کہا کہ کسی صحافی کی پہچان سوشل میڈیا پر سرگرم ہونا نہیں بلکہ اُس کی صحافت ہے۔ جب اسے میڈیا ہاوسز سے منسلک کیا جاتا ہے تو اس پر دباؤ بڑھتا ہے۔

مظہر عباس کا یہ بھی کہنا ہے کہ ماضی کے مقابلے میں اب میڈیا ہاؤسز اور صحافتی تنظیموں میں بہت دھڑا بندی ہے اور اب میڈیا ہاؤسز کو بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ میڈیا ہاؤسز اور میڈیا اداروں کی تقسیم کی وجہ سے آزادی اظہار رائے کی جدوجہد نہ صرف مشکل ہو گئی ہے بلکہ ناممکن دکھائی دے رہی ہے۔