رسول بخش پلیجو: ’استاد نے اتنی کتابیں پڑھی ہیں جتنی کسی اور نے کم از کم پاکستان میں تو نہیں پڑھی ہوں گی‘

  • جاوید سومرو
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن
رسول بخش پلیجو
،تصویر کا کیپشن

رسول بخش پلیجو گو بہت اچھے منتظم اور سیاسی رہنما تھے، لیکن ان کی اپنی پارٹی عوامی تحریک متعدد بار انتشار کا شکار ہوئی

دسمبر کی وہ ٹھنڈی صبح مجھے اچھی طرح یاد ہے جب میں رسول بخش پلیجو سے پہلی مرتبہ ملا تھا۔ ان کا تصور میرے لیے ایک دیومالائی تھا۔

1985 کی اس صبح سے پہلے میں نے رسول بخش پلیجو کا صرف نام سنا تھا اور ہمارے کامریڈ دوست بتاتے تھے کہ وہ انتہائی پڑھے لکھے، ذہین، بہادر اور کرشمہ ساز شخصیت کے مالک ہیں۔

پلیجو کے بیشتر قریبی ساتھی انہیں استاد کہہ کہ یاد کرتے تھے۔ میرے ایک کامریڈ دوست نے مجھے بتایا تھا 'استاد نے اتنی کتابیں پڑھی ہیں جتنی کسی اور نے کم از کم پاکستان میں تو نہیں پڑھی ہوں گی۔'

رسول بخش پلیجو جنرل ضیاالحق کے مارشل لا کے دوران کئی برس سے جیل میں تھے اور ان کو بلوچستان کی بدنام زمانہ مچھ جیل اور کوٹ لکھپت جیل میں رکھا گیا تھا لیکن ملک میں فوج کے زیرِ سایہ قائم ہونے والی، وزیراعظم محمد خان جونیجو کی حکومت میں سیاسی قیدیوں کو بعض آزادیاں ملیں اور ان ہی کے تحت رسول بخش پلیجو سمیت بائیں بازو کے کئی دیگر کئی قیدی جیلوں سے نکال کر ہسپتالوں میں منتقل کیے گئے تھے۔

دسمبر کی اس صبح میں بھی ایک دوست کے ہمراہ جناح ہسپتال کراچی کے سپیشل وارڈ میں زیر علاج پلیجو صاحب سے ملنے گیا۔ انھوں نے انتہائی پیار اور اپنائیت سے بات کی، میرا تعارف پوچھا، معلوم کیا کہ میں کہاں سے ہوں، کیا پڑھتا ہوں وغیرہ وغیرہ۔

وہ دن میرے لیے بہت خوشی کا دن تھا۔ بائیں بازو کا ادب اور سیاسی کتابیں پڑھ کر اور کارل مارکس سے لے کر ماؤزے تنگ اور ہو چی من جیسے لوگوں کی داستانیں پڑھ کر میں نے اپنے رسول بخش پلیجو کا خاکہ بھی کچھ اس طرح کا بنایا ہوا تھا۔ لیکن جب ان سے ملاقات ہوئی تو وہ مجھے ایک شفیق استاد جیسے لگے۔

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

ان سے پہلی ملاقات میں ہی لگا کہ وہ بات کرنے، دلیل دینے، کتابوں سے حوالے پیش کرنے اور سندھی، اردو، فارسی اور عربی میں اشعار سنانے کے بہت بڑے ماہر تھے۔ میں بس ان کی باتیں ہی سنتا رہا۔

اور پھر سلسلہ اس طرح شروع ہوا کہ میں تقریباً روزانہ سات آٹھ اخبار لے کر انھیں دینے پہنچ جاتا تھا، ان سے حالات پر گفتگو ہوتی، ان سے ملنے کے لیے لوگ آتے جاتے رہتے اور میں ان کے لیے چائے وغیرہ کا بندوبست کرتا رہتا۔

اسی برس محمد خان جونیجو نے سیاسی قیدیوں کو رہا کیا تو رسول بخش پلیجو بھی رہا کردیے گئے۔

پلیجو سندھ میں قومی حقوق کے لیے چلنے والی اہم تحریکوں، جیسا کہ کراچی کو بمبئی سے الگ کرو تحریک، ون یونٹ مخالف تحریک، سندھی میں انتخابی لسٹیں چھپواؤ تحریک، کالا باغ ڈیم مخالف تحریک اور تحریک بحالی جمہوریت یا ایم آر ڈی میں اہم کردار ادا کیا۔

رسول بخش پلیجو ایوب خان، ذوالفقار علی بھٹو اور جنرل ضیاالحق کے ادوار میں اپنے سیاسی نظریات کی وجہ سے لگ بھگ گیارہ برس جیل میں رہے اور 1983میں ایمنسٹی انٹرنیشنل نے انھیں ضمیر کا قیدی قرارد دیا تھا۔

رسول بخش پلیجو گو بہت اچھے منتظم اور سیاسی رہنما تھے، لیکن ان کی اپنی پارٹی عوامی تحریک متعدد بار انتشار کا شکار ہوئی۔

ان کے نقاد کہتے ہیں کہ وہ کسی اور طاقتور شخصیت کو برداشت نہیں کر سکتے تھے اور ایسے حالات پیدا کردیتے تھے کہ لوگ ان سے الگ ہو جائیں۔ پلیجو سیاسی اتحادوں میں بھی نہیں چل پاتے تھے۔ وہ کئی سیاسی اتحادوں کا حصہ بنے لیکن پھر بہت جلد ان پر الزامات عائد کرکے الگ ہوجاتے تھے۔ زندگی کے آخری برسوں میں وہ اپنہ بیٹے ایاز لطیف پلیجو کے بھی سیاسی مخالف ہوگئے اور اس سے الگ اپنی پرانی جماعت کو بحال کرلیا تھا۔

انھوں نے انیس سو اٹھاسی اور نوے کے انتخابات میں ٹھٹہ سے قومی اسمبلی کے لیے انتخاب لڑا لیکن وہ پیپلزپارٹی کے امیدوار کے ہاتھوں شکست کھاگئے۔

رسول بخش پلیجو نے پڑھنے لکھنے سے شوق رکھنے والے کارکنوں کی اتنی بڑی تعداد تیار کی تھی کہ لوگ کہتے ہیں اگر ان کی جماعت اتنی مرتبہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار نہ ہوتی تو آج سندھ کی صورتحال انتہائی مختلف ہوتی اور شاید وہ پیپلز پارٹی بہت سخت مقابلہ دینے کے قابل ہوتی۔

سندھ کی سیاست میں انھوں نے بہت گہرے اثرات چھوڑے ہیں۔ بلاشبہ ان کے کئی نظریات اور پالیسیوں سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، لیکن انہوں نے سیاست میں جس طرح خواتین کو شریک کیا اور جس طرح کسان طبقے کو منظم کیا وہ ان ہی کا خاصہ تھا۔

رسول بخش پلیجو سے قبل دیہی سندھ میں کامریڈ حیدر بخش جتوئی نے کسان تحریک کو منظم کیا تھا، لیکن اس کام کو پلیجو جس سطح پر لے گئے وہ اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔