طیبہ تشدد کیس: سابق جج اور ان کی اہلیہ کی سزا میں دو برس کا اضافہ

راجہ خرم علی
Image caption اسلام آباد کے ایڈووکیٹ جنرل طارق محمود جہانگیری کے مطابق اس سزا کے بعد راجہ خرم علی دوبارہ اپنی نوکری پر بحال نہیں ہو سکتے

اسلام آباد ہائی کورٹ نے کمسن گھریلو ملازمہ پر تشدد کے مقدمے میں سابق ایڈیشنل سیشن جج راجہ خرم اور اُن کی بیوی کی سزا کے خلاف اپیل مسترد کرتے ہوئے ان کی سزا میں دو برس کا اضافہ کر دیا ہے۔

طیبہ نامی گھریلو ملازمہ پر تشدد کے مقدمے میں راجہ خرم علی اور ان کی اہلیہ ماہین ظفر کو 17 اپریل کو ایک، ایک سال قید اور پچاس پچاس ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی۔

اسی بارے میں

استحصال کی کہانیاں، کم سن ملازماؤں پر تشدد

طیبہ تشدد کیس میں کب کیا ہوا؟

طیبہ کیس: والد کی معافی پر ملزمان کی ضمانت منظور

طیبہ کیس: ’انگوٹھا لگاؤ اور بچی لے جاؤ‘

طیبہ کے جسم پر تشدد کے نشانات واضح ہیں: رپورٹ

تاہم ان دونوں کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ کے سامنے سزا پر نظرِ ثانی جبکہ وفاق کی جانب سے مجرمان کی سزا میں اضافے کے لیے اپیلیں دائر کی گئی تھی جن پر پیر کو فیصلہ سنایا گیا۔

جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب پر مشتمل دو رکنی بینچ نے نہ صرف ملزمان کی اپیل مسترد کر دی بلکہ انھیں دی جانے والی سزا میں بھی اضافہ کر دیا۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق فیصلے کے مطابق راجہ خرم علی اور ان کی اہلیہ کو اب ایک برس کی جگہ تین برس قید کاٹنا ہو گی جبکہ ان پر عائد پچاس ہزار روپے جرمانے کو بڑھا کر پانچ لاکھ روپے کر دیا گیا ہے۔

اپیل مسترد ہونے کے بعد راجہ خرم علی کو کمرۂ عدالت سے ہی گرفتار کر کے جیل منتقل کر دیا گیا تاہم مجرم کی اہلیہ اور شریک مجرم ماہین ظفر اس وقت عمرے کی ادائیگی کے لیے ملک سے باہر ہیں۔ خیال رہے کہ وہ اس مقدمے میں ایک سال کی سزا ملنے کے بعد ضمانت پر رہا تھیں۔

عدالت نے مجرمان کو گھریلو ملازمہ پر تشدد اور 12 سال سے کم عمر بچے سے جبری مشقت کروانے کے جرم میں ضابطہ فوجداری کی دفعہ 328 کے تحت سزا سنائی۔ اس قانون میں زیادہ سے زیادہ سزا سات سال ہے۔

اسلام آباد کے ایڈووکیٹ جنرل طارق محمود جہانگیری کے مطابق اس سزا کے بعد راجہ خرم علی دوبارہ اپنی نوکری پر بحال نہیں ہو سکتے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption راضی نامہ سامنے آنے پر پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے معاملے کا از خود نوٹس لیا تھا

اسلام آباد ہائی کورٹ کی انتظامی کمیٹی پہلے ہی مجرم راجہ خرم علی کے خلاف تحقیقات کر رہی ہے۔

خیال رہے کہ چیف جسٹس کے حکم پر تشدد کا شکار ہونے والی طیبہ کو سویٹ ہوم بھجوایا دیا گیا تھا اور وہ اب بھی وہیں قیام پذیر ہیں۔

طیبہ پر تشدد کا واقعہ 27 دسمبر 2016 کو اسلام آباد کے سیکٹر آئی ایٹ میں پیش آیا تھا اور تھانہ آئی نائن کی پولیس نے 29 دسمبر کو سابق ایڈیشنل سیشن جج راجہ خرم کے گھر سے طیبہ کو تحویل میں لے کر تشدد کے واقعے میں ملوث دونوں ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا تھا۔

تین جنوری 2017 کو اس مقدمے میں اہم موڑ اس وقت آیا جب طیبہ کے والدین کی جانب سے راجہ خرم اور ان کی اہلیہ کو معاف کرنے کی اطلاعات سامنے آئیں اور اسلام آباد کی ضلعی عدالت کے جج نے اس راضی نامے پر ملزمان کی ضمانت منظور کی۔

تاہم راضی نامہ سامنے آنے پر پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے معاملے کا از خود نوٹس لیا تھا۔

سپریم کورٹ کے حکم پر پولیس نے طیبہ کو بازیاب کروا کے پیش کیا جبکہ عدالتی حکم پر 12 جنوری 2017 کو راجہ خرم علی خان کو بطور جج کام کرنے سے روک دیا گیا تھا۔

بعد ازاں چیف جسٹس آف پاکستان نے مقدمے کا ٹرائل اسلام آباد ہائی کورٹ کو بھجوا دیا تھا جہاں 16 مئی 2017 کو ملزمان پر فرد جرم عائد کی گئی تھی۔

اس مقدمے میں مجموعی طور پر 19 گواہان کے بیانات قلمبند کیے گئے جن میں 11 سرکاری جبکہ طیبہ کے والدین سمیت 8 غیر سرکاری افراد شامل تھے۔

اسی بارے میں