بھٹ شاہ: ’300 برس سے کلام کا وہی ساز و انداز‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
300 برس سے راگ کا یہ سلسلہ یوں ہی جاری ہے، اس کے سروں میں کوئی تبدیلی آئی ہے اور نہ ہی ساز و انداز میں

پاکستان میں کئی لوگوں کے لیے مزاروں کی مذہبی اہمیت ہے لیکن ملک کے کئی شہروں، قصبوں اور دیہات میں یہ مزار وہاں کی معیشت، سیاست اور ثقافت سے بھی منسلک ہیں۔ تین قسطوں پر مشتمل اِس سیریز میں بی بی سی نے اِن مزاروں کے مختلف پہلوں کا جائزہ لینے کی کوشش کی ہے۔ قوالی اور محفل سماع مزاروں کا ایک لازمی جزو ہے۔ بعض صوفی بزرگوں کی درگاہیں ایسی ہیں جہاں آج بھی صوفی راگ اُسی انداز سے پیش کیا جاتا ہے جیسے صدیوں پہلے گایا جاتا تھا۔ ان میں سندھ کے صوفی شاعر شاہ عبدالطیف بھٹائی کا مزار بھی شامل ہے۔

تو حبیب، تو طبیب، تو درد کی دوا‘ شاہ عبدالطیف بھٹائی کے مزار کے صحن میں پانچ فقیر تنبورو میں کورس کے انداز میں یہ کلام گا رہے ہیں تقریباً تمام نے ہی سیاہ لباس پہن رکھا ہے۔

گذشتہ تین سو سالوں سے راگ کا یہ سلسلہ یوں ہی جاری ہے، اس کے سروں میں کوئی تبدیلی آئی ہے اور نہ ہی ساز و انداز میں۔ شاہ عبدالطیف کی زندگی میں اس محفل سماع کا آغاز ہوا تھا جو اب تک بغیر کسی وقفے سے جاری ہے۔

شاہ عبدالطیف بھٹائی کا کلام صرف تنبورے پر گایا جاتا ہے، اس میں طبلہ، ڈھول، ہارمونیم یا اور کوئی ساز استعمال نہیں ہوتا ہے۔

شاہ عبدالطیف نے پانچ تاروں پر مشتمل یہ ساز تنبورہ ایجاد کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

’علاقے کی معیشت بابا فرید کے دربار سے جڑی ہے‘

صوفی درگاہوں میں خواتین کی گائیکی

’شدت پسندی کا مقابلہ صوفی موسیقی سے‘

جمن فقیر جمعرات کو اس محفل کی سربراہی کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ برصغیر میں صوفی ازم کے جتنے بھی دربار ہیں جہاں صوفی کلام گایا جاتا ہے ان میں شاہ عبدالطیف کا کلام منفرد ہے۔

’اس میں گانے اور سیکھنے کا انداز مختلف ہے، اس میں کتنی پیچیدگیاں ہیں، اس میں آیوری اور امروہی بھی ہے، اس میں کلاسیکل اور دلنپت بھی ہے، یعنی کہ سارا کلاسیکل راگ اس میں سمایا ہوا ہے جو اسے ایک الگ شناخت دیتا ہے۔

شاہ عبدالطیف بھٹائی کا کلام 30 سروں پر مشتمل ہے، اس کلام کو ’شاہ جو رسالو‘ کہا جاتا ہے۔

شاہ عبدالطیف نے رومانوی داستانوں کو خواتین کے کردار کے ذریعے بیان کیا، سوہنی، سسّی، ماروی، مومل سمیت ان سات خواتین کو شاہ کی سورمیاں کہا جاتا ہے۔ یہ شاعری لازوال عشق، وصل کے درد اور محبوب کے حصول کی جہدوجہد پر مبنی ہے۔

شاہ عبدالطیف بھٹائی کے مزار کے صحن میں روزانہ شام کو محفل سماع ہوتی ہے، یہ راگ برسوں سے شاہ عبدالطیف کے فقیر گھرانے گاتے ہیں اور ہر رات ایک گھرانے کی ڈیوٹی ہوتی ہے۔

فقیر قادر بخش خاصخیلی کے آباؤ اجداد بھی یہ کلام گاتے تھے۔ انھوں نے اپنے چھوٹے بیٹے کو بھی اس کی تربیت دی ہے۔

’یہ کلام اور دھنیں سب شاہ عبدالطیف کی اپنی ہیں، تنبورو کی پانچ تاروں میں سے دو کو جاڑی (جڑواں) کہتے ہیں ایک کو ٹیپ (سزا) دوسری کو گھور (قربان) اور تیسری کو زبان کہتے ہیں۔ ان میں سے دو کی آواز ایک جیسی جبکہ تین کی مختلف ہے۔

تنبورو کی تاروں کا تال میل ایک منفرد سُر پیدا کرتا ہے۔ فقیر قادر بخش کہتے ہیں کہ یہ روحانی راگ ہے اس میں شاہ عبدالطیف نے پوری دنیا میں امن کی دعا کی ہے۔ انھوں نے کسی ایک مذہب یا فرقے کی بات نہیں کی، انھوں نے محبت اور بھائی چارے کا پیغام دیا ہے، انھوں نے وحدانیت، امامت اور نبوت کا بھی ذکر کیا ہے لیکن فرقہ واریت کی بات نہیں کی۔

فقیر جمن کہتے ہیں کہ دیگر کلاسیکل راگ سے شاہ عبدالطیف کا کلام سیکھنا مشکل ہے کیکہ اس کے لیے پہلے خود کو فنا کرنا پڑتا ہے، خواہشات کا خاتمہ کرنا ہوتا ہے۔ ’جب ہم خدا کی وحدانیت میں ڈبکی لگاتے ہیں اس میں سے جو کچھ ہمیں ملتا ہے ہم اس کو بانٹتے ہیں۔‘

Image caption شاہ عبدالطیف بھٹائی کے مزار کے صحن میں روزانہ شام کو محفل سماع ہوتی ہے، یہ راگ برسوں سے شاہ عبدالطیف کے فقیر گھرانے گاتے ہیں اور ہر رات ایک گھرانے کی ڈیوٹی ہوتی ہے

شاہ عبدالطیف بھٹائی کی شاعری عام انسانوں کی مشکلات کے بارے میں ہے۔ انھوں نے پہاڑوں، بیابانوں، ساحلی علاقوں کی خاک چھانی اور مشاہدہ کیا، انھوں نے ماہی گیروں، جوگیوں، سنیاسیوں سے ملاقاتیں کر کے ان کے انداز، فکر، درد اور تکلیف کو اپنے کلام میں سمو دیا۔

شاہ عبدالطیف بھٹائی کا دور سلطنت مغلیہ کے آخری ایام کا دور تھا، جب سندھ میں کلھوڑا خاندان کی حکومت تھی۔

سندھی ادب و شاعری کے نقاد اور صحافی ناز سھتو کہتے ہیں کہ شاہ عبدالطیف نے پسے ہوئے طبقے کے لوگوں کو اپنا کردار بنایا اور یہی وجہ ہے کہ ان کے کلام میں جولھائے، چرواہے، خانہ بدوش، جوگی، سنیاسی، سامی نظر آئیں گے، انھوں نے انھیں سورماؤں کی شکل میں پیش کیا ہے۔

ناز سھتو کا کہنا ہے کہ شاہ عبدالطیف کی شاعری میں دائمیت ہے یہی وجہ ہے کہ مسنگ پرسنز کا معاملہ ہو یا شادی بیاہ کا، شاہ عبدالطیف کی شاعری ہی رہنمائی کرتی ہے۔

’سندھ میں ایسے بھی کئی لوگ ہیں جب مشکلات میں آتے ہیں تو شاہ جو رسالو کھولتے ہیں اور وہاں سے راستے نکالتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ شاہ عبدالطیف نے محبت اور جدوجہد کا پیغام دیا ہے۔ ان کی محبت مقامی نہیں بین الاقومی سطح پر ہے۔

شاہ عبدالطیف سمیت برصغیر میں کئی صوفی بزرگوں کی درگاہوں پر محفل سماع ہوتی ہے، جو راگ اور ساز کی پرورش کرتے ہیں۔

جھوک شریف کے صوفی شاہ عنایت ہوں، درازاں کے سچل سرمست، قصور کے بلے شاہ ہوں یا بابا فرید ان بزرگوں کے مزاروں پر ان محفلوں سے لوگوں کو امن، برداشت، بھائی چارے اور انسان دوستی کا پیغام ملتا ہے۔

اسی بارے میں