الیکشن 2018: پاکستان میں 10 لاکھ یا اُس سے زیادہ آبادی والے چھ حلقے

تصویر کے کاپی رائٹ ARIF ALI
Image caption نئی حلقہ بندیوں کے تحت پنجاب میں قومی اسمبلی کے کل حلقے کم ہو کر141 رہ گئے ہیں

پاکستان میں 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات کے لیے کی جانے والی حلقہ بندیوں کے تحت ملک میں چھ حلقے ایسے ہیں جہاں آبادی کی تعداد دس لاکھ یا اس سے زیادہ ہے۔

سب سے زیادہ تعداد میں آبادی والے ان حلقوں میں سے سندھ اور خیبر پختونخوا کے دو دو اور پنجاب اور بلوچستان کا ایک ایک قومی اسمبلی کا حلقہ شامل ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ان میں سے ایک بھی حلقہ ملک کے زیادہ آبادی والے شہروں کراچی، حیدرآباد اور لاہور کا نہیں ہے بلکہ یہ سب دیہی حلقے ہیں۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

نئی حلقہ بندیاں: کس کا فائدہ، کس کا نقصان؟

پاکستان میں انتخابی حلقہ بندیوں کے چار بڑے مسئلے

نئے کاغذاتِ نامزدگی میں کیا نہیں ہے؟

بھٹو خاندان کی تیسری نسل کا عملی سیاست میں قدم

یاد رہے کہ نئی حلقہ بندیوں کے تحت پنجاب میں قومی اسمبلی کے حلقے کم ہو کر141 رہ گئے ہیں۔

10 لاکھ سے زیادہ آبادی والے ان حلقوں میں پہلے نمبر پرخیبرپختونخوا کے علاقے بنوں کا حلقہ این اے 35 ہے جہاں مرد خواتین اور بچوں کی مجموعی تعداد 11 لاکھ 66 ہزار892 ہے۔

دوسرے نمبر پر صوبہ پنجاب کے علاقے حافظ آباد کا حلقہ این اے 87 ہے جہاں کی آبادی کی تعداد گیارہ لاکھ، 56 ہزار نو سو 57 ہے۔

آبادی کے لحاظ سے تیسرا حلقہ صوبہ سندھ کے علاقے کشمور کا حلقہ این اے 197 ہے جہاں دس لاکھ 89 ہزار ایک سو 69 افراد ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

چاغی جوہری دھماکوں کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہونے والا بلوچستان کا علاقہ ہے اوراس کا حلقہ این اے 268 ہے جس میں کچھ حصہ مستونگ کا بھی شامل ہے۔ اس کا شمار آبادی کے لحاظ سے چوتھے نمبر پر ہوتا ہے جہاں 10 لاکھ 83 ہزار 497 افراد رہتے ہیں۔

اس کے بعد سندھ کے علاقے جیکب آباد کے حلقہ 196 کا نمبر آتا ہے جہاں کی آبادی 10 لاکھ چھ ہزار 297 ہے۔

خیبر پختونخوا کے علاقے ہری پور کا حلقہ ین اے 17 اس لحاظ سے آخری نمبر پر ہے جہاں کی آبادی 10 لاکھ 3 ہزار 21 ہے۔

تصحیح: بی بی سی اردو کی اس خبر میں ابتدائی طور پر حلقوں میں آبادی کی بجائے ووٹروں کی تعداد کو دس لاکھ سے زیادہ لکھا گیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں