بس ہوسٹس کا قتل: ’میری بیٹی نے عزت بچاتے ہوئے جان دی‘

تصویر کے کاپی رائٹ Social media
Image caption واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سوشل میڈیا پر متعدد بار شیئر کی گئی

’اس نے میری آنکھوں کے سامنے میری بیٹی کو گولی ماری۔ ہم پہلے گھر پر دستانے بناتے تھے لیکن خرچ پورا نہیں ہوتا تھا پھر مہوش نے نوکری شروع کر دی۔ وہ میری بیٹی نہیں بیٹا تھی۔ اس نے اپنی عزت بچاتے ہوئے جان دی ہمیں انصاف چاہیے ہم کچھ نہیں جانتے بس ہمیں انصاف چاہیے۔‘

یہ الفاظ چند دن قبل فیصل آباد میں ایک بس اڈے پر سکیورٹی گارڈ کے ہاتھوں قتل ہونے والی بس ہوسٹس مہوش کی والدہ کے ہیں۔

مزید پڑھیے

جنسی ہراس: بحریہ کالج کی طالبات کے تحریری بیانات

’غیرت‘ کے نام پر قتل اور میڈیا

سرگودھا روڈ پولیس سٹیشن میں بس ہوسٹس مہوش ارشد کے قتل کا مقدمہ درج ہونے کے نو دن بعد پنجاب حکومت نے بھی لواحقین کو انصاف دلانے کی یقین دہانی کرواتے ہوئے نوٹس لیا ہے۔

نو جون کی شب ساڑھے آٹھ بجے کے قریب سرگودھا روڈ پر واقع بس اڈے پر معمول کے مطابق مسافروں کی آمدورفت تھی۔ ملتان سے آنے والی مسافر بس کی ہوسٹس مہوش بھی اپنی ڈیوٹی مکمل کر کے ٹرمینل پر اتریں۔

وہ انپی والدہ اور ماموں سے ملاقات کے بعد اپنے ہوسٹل کی جانب بڑھ رہی تھیں لیکن اس سے قبل ہی انھیں کسی نے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

ایف آئی آر کے مطابق گولی چلانے والا شخص مہوش کا سابقہ دوست اور اڈے کا سابق سکیورٹی گارڈ تھا۔

مہوش کی والدہ نے بی بی سی کو بتایا کہ اُن کی بیٹی نے ابھی اٹھارہویں برس میں قدم رکھا تھا۔ پانچ سال پہلے اس کے ابو طویل بیماری کے بعد فوت ہو گئے تھے اور اب گھر چلانے کی ذمہ داری مہوش کے کندھے پر تھی۔

پولیس کے تحقیقاتی افسر ظفر اقبال نے بی بی سی کو بتایا کہ مہوش کے قاتل کوہستان ٹریول کے سابق سکیورٹی گارڈ عمر دراز کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ اُن کے مطابق ملزم نے اقبال جرم کیا ہے اور اُسے مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ ’یہ بس ہوسسٹس اور عمر دراز کوہستان سٹار بس پر 18 ماہ تک اکھٹے کام کرتے تھے۔ عمر دراز مہوش کو شادی پر مجبور کرتا تھا۔ لڑکی نے وہ نوکری چھوڑ کرالہلال والوں کے پاس نوکری کر لی۔ اس دن بھی یہ ملتان سے واپس اتری ہے، ہاسٹل جا رہی تھی۔ عمر دراز واش روم جا رہا تھا اس نے وہاں آ کر مہوش کا ہاتھ پکڑا اور مہوش نے جھنجوڑا تو اس نے اسے گولی مار دی۔‘

اس واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سوشل میڈیا پر متعدد بار شیئر کی گئی جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک شخص مہوش کا ہاتھ پکڑتا ہے اور جس پر وہ احتجاج کرتی ہیں اور کچھ ہی سیکنڈ میں انھیں گولی مار دی جاتی ہے اور وہ سیڑھیوں پر ہی گر جاتی ہے۔

لڑکی کی والدہ رمضانہ کوثر کی جانب سے درج کروائی گئی ایف آئی آر میں بھی کہا گیا ہے کہ مہوش نے عمر دراز کی شکایت کوہستان ٹریول انتظامیہ اور ہم سے بھی کی تھی کہہ وہ اسے شادی پر مجبور کرتا ہے۔

مہوش کے ماموں جن کے بقول وہ واقعے کے عینی شاہدین میں شامل ہیں کا کہنا ہے کہ ’ہم نے مہوش کو لوگوں سے پیسے لے کر کفن دیا۔ قاتل نے ایک نہیں چار افراد کا قتل کیا ہے کیونکہ وہ باقی تینوں کی بھی واحد کفیل تھی۔ مہوش کو اڈے انتظامیہ نے ہسپتال پہنچایا اور کہا کہ اب ہماری ڈیوٹی ختم ہو گئی تھی۔ نہ کسی نے جنازے میں شرکت کی اور نہ ہی کوئی تعاون کیا ہے۔‘

انھوں نے دعویٰ کیا کہ اڈے کی انتظامیہ پوری فوٹیج نہیں دکھا رہی کیونکہ موقع پر موجود سکیورٹی گارڈ نے کچھ نہیں کیا اور قاتل نے گولی مارنے کے بعد وہیں کھڑے ہو کر سگریٹ پی اور موٹر سائیکل پر فرار ہو گیا۔

گو کہ بی بی سی سے گفتگو میں مہوش کی والدہ نے کہا کہ وہ عمر دراز کو جانتی تک نہیں نہ ہی کبھی بیٹی نے اس کے بارے میں شکایت کی تھی۔

تاہم واقعے کی تحقیقات کرنے والے پویس افسر کا کہنا ہے کہ خاندان کی عزت کی وجہ سے بیان کی تبدیلی کوئی نئی بات نہیں۔

پاکستان میں حالیہ عرصے میں بس سروس فراہم کرنے والی ایجنسیوں میں لڑکیوں کی تعیناتی کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے لیکن خواتین بس ہوسٹس کی سکیورٹی کے حوالے کسی بھی سطح پر خاطر خواہ اقدام نہیں کیا گیا۔

اسی بارے میں