’پہلے خواتین نے ووٹ ڈالا اب ایک قدم آگے جانا چاہتی ہوں‘

حمیدہ تصویر کے کاپی رائٹ AlamZeb
Image caption ضلع دیر بالا سے حمیدہ شاہد اس بار براہ راست انتخاب لڑنے کے لیے میدان میں اتری ہیں

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں دِیر وہ علاقہ ہے جو ماضی میں خواتین کو ووٹ ڈالنے کی اجازت نہ دیے جانے کی وجہ سے خبروں میں رہا ہے۔

تاہم اس مرتبہ ضلع دیر بالا سے ایک خاتون حمیدہ شاہد 2018 کے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے میدان میں اتری ہیں۔ وہ صوبائی اسمبلی کی نشست پی کے10 سے امیدوار ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

فاٹا میں خواتین کے ووٹوں میں 36 فیصد اضافہ

دیر: انتخاب میں خواتین کے ووٹوں کا تناسب مردوں سے زیادہ

دیر: یونین کونسل میں کسی بھی خاتون نے ووٹ نہیں ڈالا

دس فیصد خواتین ووٹرز کے لازم ہونے پر تحفظات

اب اس علاقے سے بطور امیدوار انتخاب میں حصہ لینے کے بارے میں حمیدہ کا کہنا تھا کہ ’یہ بات درست ہے کہ ہمارے پسماندہ علاقوں میں خواتین کے لیے انتخاب لڑنا ایک مشکل عمل ہے لیکن آپ کو یہ بھی معلوم ہوگا کہ کچھ ماہ قبل ضمنی انتخاب کے دوران یہاں خواتین کی ایک بڑی تعداد نے ووٹ ڈالا جو ایک مثبت قدم تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’میں اس سے ایک قدم آگے جانا چاہتی ہوں اور دیر جیسے دور افتادہ ضلع سے براہ راست الیکشن لڑ کر خواتین کمیونٹی کی حوصلہ افزائی اور رہنمائی کرنا چاہتی ہوں تاکہ وہ بھی دوسرے علاقوں کے خواتین کی طرح ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرتی رہیں۔‘

یاد رہے کہ رواں برس فروری میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں مقامی آبادی کے مطابق اپر اور لوئر دیر میں خواتین نے تقریباً چار دہائیوں کے بعد بڑی تعداد میں حقِ رائے دہی استعمال کیا تھا۔

60 سالہ علی بیگم سابق بیوروکریٹ ہیں اور ان کا تعلق کرّم ایجنسی سے ہے۔ وہ آئندہ ماہ ہونے والے انتخابات میں قومی اسمبلی کے حلقے این اے 46 سے انتخابی میدان میں اتری ہیں۔

قبائلی علاقوں سے کسی خاتون کا براہِ راست انتخابات میں حصہ لینا کوئی انہونی نہیں اور یہ اعزاز سب سے پہلے باجوڑ کی 45 سالہ بادام زری نے حاصل کیا تھا جنھوں نے سنہ 2013 کے انتخابات میں قومی اسمبلی کی نشست پر انتخاب لڑا اور ان پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے خواتین کے لیے سیاست میں قدم رکھنے کا جواز فراہم کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AlamZeb
Image caption علی بیگم کے مطابق دور دراز کے علاقوں تک رابطہ اور بجلی کا نہ ہونا ایسے چیلنجز ہیں جو مشکلات پیدا کرتے ہیں

البتہ اس مرتبہ علی بیگم کا انداز مختلف اور دلیرانہ ہے۔ وہ باقاعدہ طور پر اپنی سیاسی مہم چلارہی ہیں۔ کارنر میٹنگز منعقد کر رہی ہیں اور اور گھر گھر جا کر لوگوں سے ووٹ بھی مانگ رہی ہیں۔

ہم نے جب علی بیگم سے پوچھا کہ ان کے انتخابی میدان میں اترنے کی وجہ کون سے عوامل بنے اور انھیں اب تک کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے تو ان کا کہنا تھا ’میں چاہتی ہوں کہ عام لوگوں خصوصاً خواتین کے لیے ایسے مواقع پیدا کروں کہ وہ زندگی میں آگے بڑھ سکیں۔ یہی مقصد لے کر انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ کرم میں گذشتہ الیکشن میں خواتین ووٹرز کا ٹرن آؤٹ شاندار رہا۔ یہی وجہ ہے کہ خواتین اور نوجوان طبقہ میری اولین ترجیح ہے۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’میرے لوگ میری بات سنتے ہیں اور میری انتخابی مہم بھی اچھی جا رہی ہے۔ البتہ دور دراز کے علاقوں تک رابطہ اور بجلی کا نہ ہونا ایسے چیلنجز ہیں جو مشکلات پیدا کرتے ہیں۔‘

پانچ سال پہلے صرف بادام زری انتخابی میدان میں تھیں لیکن اس بار یہ دلیرانہ قدم علی بیگم تک محدود نہیں رہا۔ دیکھا جائے تو گذشتہ نصف دہائی میں خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقوں کی خواتین نے اہم معاملات میں متاثر کن کردار ادا کیا ہے۔ خیبر پختونخوا اور فاٹا کے انضمام میں بھی قبائلی نوجوانوں اور مشران کے ساتھ وہاں کی تعلیم یافتہ خواتین نے اپنا کردار ادا کیا۔

ان خواتین میں خیبر ایجنسی سے تعلق رکھنے والی ناہید آفریدی بھی شامل ہیں۔ انضمام کے حوالے سے قبائلی علاقوں کی خواتین کے متحرک کردار کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے یاد ہے 2005 میں جب ہم نے خواتین کی حقوق کی جنگ لڑنی شروع کی تو اس وقت کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ پھر جب 2012 میں ہم نے تکڑہ قبائلی خواندو (بہادر قبائلی بہنیں) کی تنظیم کی بنیاد ڈالی تو لوگوں کو اندازہ ہونے لگا کہ خواتین قبائلی علاقوں میں کتنا متحرک ہو چکی ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ جب فاٹا انضمام کی بات شروع ہوئی تو ہم خواتین سب سے آگے موجود تھیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AlamZeb
Image caption گذشتہ نصف دہائی میں خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقوں کی خواتین نے اہم معاملات میں متاثر کن کردار ادا کیا ہے

خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقوں کی خواتین حال ہی میں ایک اور حوالے سے بھی خاصی متحرک نظر آئیں اور وہ تھی پشتون تحفظ مومنٹ۔ اس تحریک کے منفی یا مثبت پہلو سے قطع نظر اس میں بھی نوجوان اور تعلیم یافتہ خواتین کا کردار انتہائی نمایاں رہا۔

اس بار کسی مخصوص طبقے یا خاندان کا سہارا لیے بغیر خواتین کی خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقوں کی سیاست میں شمولیت سے ایک مجموعی تبدیلی کا رجحان نظر آ رہا ہے۔ آنے والے الیکشن میں علی بیگم، حمیدہ بی بی اور ان جیسی کئی خواتین کا حصہ لینا اس سلسلے کی پہلی کڑی ہے اور انتخابات میں چاہے خاتون امیدوار ہوں یا خاتون ووٹر دونوں اپنی اہمیت اور موجودگی کا بھرپور احساس دلائیں گی۔

الیکشن کمیشن کے اعدادوشمار کے مطابق اس وقت خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقوں میں مجموعی طور پر 76 لاکھ سے زیادہ خواتین ووٹر ہیں۔ تاہم کئی عشروں سے رجسٹرڈ خواتین ووٹرز کی اتنی بڑی تعداد ہونے کے باوجود خواتین کی پارلیمان میں براہ راست نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے اور انھیں اکثر مخصوص نشستوں کا سہارا لینا پڑتا ہیں۔

اس مرتبہ حمیدہ بی بی اور علی بیگم جیسے امیدواروں کا میدان میں آنا مرد سیاستدانوں کے لیے اگر خطرے کی گھنٹی نہیں تو ایک چیلنج ضرور ہے اور یہ بات واضح ہے کہ مسقبل قریب میں صوبے اور ملک کے سیاسی میدان میں ان کا کلیدی کردار ہو گا۔

اسی بارے میں