انتخابات 2018: عمران خان، فاروق ستار، پرویز مشرف کے کاغذات نامزدگی مسترد

عمران تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عمران خان کے اسلام آباد کے حلقہ این اے 53 کے لیے جمع کروائے گئے کاغذات نامزدگی مسترد جبکہ لاہور اور کراچی سے منظور

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان، ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار اور سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے انتخابات 2018 کے لیے جمع کرائے گئے کاغذاتِ نامزدگی مسترد ہو گئے ہیں۔

سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور نون لیگ رہنما مہتاب خان عباسی کے کاغذات نامزدگی بھی مسترد کر دیے گئے ہیں۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق عمران خان کے اسلام آباد کے حلقہ این اے 53 کے لیے جمع کروائے گئے کاغذات نامزدگی مسترد کیے گئے ہیں جبکہ بنوں، لاہور اور کراچی سے ان کے کاغذات نامزدگی منظور کر لیے گئے ہیں۔

پی ٹی آئی کی ناراض رکن عائشہ گلالئی اور نون لیگ رہنماؤں شاہد خاقان عباسی اور مہتاب خان عباسی نے بھی اسی حلقے سے کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے جنھیں مسترد کر دیا گیا۔

کراچی کے حلقہ این اے 245 کے لیے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار کے کاغذات نامزدگی مسترد ہوئے جبکہ حلقہ این اے 247 اور این اے 241 کے لیے منظور کر لیے گئے ہیں۔

حلقہ این اے 245 کے ریٹرننگ افسر احسان خان کے مطابق ڈاکٹر فاروق ستار دو مقدمات میں مفرور ہیں جبکہ کاغذاتِ نامزدگی میں انھوں نے دونوں مقدمات کا ذکر نہیں کیا تھا۔

سابق صدر اور آل پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ جنرل (ر) پرویز مشرف کے چترال کے حلقہ 1 سے جمع کرائے گئے کاغذاتِ نامزدگی بھی مسترد کر دیے گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پرویز مشرف کے چترال کے حلقہ 1 سے جمع کرائے گئے کاغذاتِ نامزدگی مسترد ہوئے

خیال رہے کہ جن امیدواروں کے کاغذاتِ نامزدگی مسترد ہوئے ہیں انھیں اس فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا حق ہے۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق ملک بھر سے قومی اورصوبائی اسمبلیوں کے لیے 21482 کاغذات نامزدگی جمع کرائے گئے ہیں۔

ان کاغذات نامزدگی کی جانچ کا عمل پڑتال منگل کو مکمل کیا جائے گا۔

25 جولائی کو منعقد ہونے والے عام انتخابات کے لیے قومی اسمبلی کی 343 نشستوں کے لیے چھ ہزار تریسٹھ امیدوارانتخاب میں حصہ لیں گے جبکہ صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں کے لیے 15419 کاغذات نامزدگی جمع کرائے گئے ہیں۔

انتخابی شیڈول کے مطابق کاغذات نامزدگی منظور یا مسترد ہونے کے خلاف اپیلیں 22 جون تک کی جاسکتی ہیں۔

اپیلٹ ٹریبونلز 27 جون تک ان اپیلوں پر فیصلہ کریں گے جس کے بعد اگلے روز امیدواروں کی نظرثانی شدہ فہرست جاری کی جائے گی۔

اسی بارے میں