کاغذات نامزدگی ایک حلقے میں منظور، دوسرے میں مسترد کیوں؟

الیکشن تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption عمران خان کے کاغذات نامزدگی تین حلقوں میں منظور جبکہ دو میں مسترد

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے دو حلقوں سے کاغذات نامزدگی مسترد ہوئے ہیں جبکہ کم از کم تین حلقوں سے کاغذات نامزدگی منظور ہوگئے ہیں۔

جن اہم سیاسی رہنماؤں کے کاغدات نامزدگی مسترد ہوئے ہیں ان میں عمران خان کے علاوہ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، سابق فوجی صدر ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف اور ایم کیو ایم کے ڈاکٹر فاروق ستار کے نام شامل ہیں۔

پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کے کاغذات نامزدگی پانچ حلقوں کے ریٹرننگ افسران کے پاس جمع کرائے گئے تھے۔ خیبر پختونخوا کے ضلع بنّوں میں این اے 35، لاہور کے این اے 131 اور کراچی کے این اے 243 سے کاغذات نامزدگی منظور ہو چکے ہیں۔

تاہم اسلام آباد کے این اے 53 اور میانوالی کے این اے 95 سے تیکنیکی بنیادوں پر عمران خان کے کاغذات نامزدگی مسترد ہو گئے ہیں۔ عمران خان 22 جون تک اسلام آباد کے اس حلقہ کے ریٹرننگ آفیسر کے فیصلے کے خلاف الیکشن ٹرائبیونل میں اپیل دائر کرسکتے ہیں۔

عمران خان کے کاغذاتِ نامزدگی مسترد ہونے کی وجہ ان کا نامکمل حلف نامہ ہونا بتائی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ ان کاغذات میں شق این میں اس سوال کا جواب نہیں دیا گیا تھا کہ بطور رکنِ اسمبلی گذشتہ پانچ برس میں انھوں نے اپنے حلقے کے لیے کیا کام کروائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Election Commission of Pakistan
Image caption کاغذاتِ نامزدگی کے ساتھ جمع ہونے والے حلف نامے کی شق ’این‘ میں یہ بتانا ہوتا ہے کہ بطور رکنِ اسمبلی گذشتہ پانچ برس میں امیدوار نے اپنے حلقے کے لیے کیا کام کروائے۔

اسی طرح سابق وزیر اعظم خاقان عباسی، جنرل پرویز مشرف اور ڈاکٹر فاروق ستار بھی اپنے حلقوں کے ریٹرننگ افسران کے فیصلوں کے خلاف اپیل دائر کرسکتے ہیں۔

یہ ٹرائبیونلز27 جون تک ان اپیلوں پر فیصلہ دینے کے پابند ہیں تاکہ 28 جون کو امیدواروں کی نظرثانی شدہ فہرست جاری کی جاسکے۔ تاہم بالفرض الیکشن ٹرائبیونلز بروقت فیصلے نہیں سنا سکتے ہیں تو ریٹرننگ افسر کے فیصلہ برقرار رہیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بلاول بھٹو کے کاغذات نامزدگی دونں حلقوں سے منظور ہوگئے

عموماً ایک امیدوار ایک ہی حلقے سے انتخاب لڑتا ہے مگر کبھی کبھار ایک معروف امیدوار ایک سے زائد حلقوں سے کاغذات نامزدگی جمع کراتے ہیں۔ پی ٹی آئی کے عمران خان اور پیپلز پارٹی کے بلاول بھٹو زرداری نے ایک سے زائد حلقوں سے کاغذات جمع کرائے تھے۔ بلاول کے کاغذات نامزدگی دونوں حلقوں میں منظور کیے جا چکے ہیں۔

اگرچہ ایک امیدوار کے کئی حلقوں میں انتخاب لڑنے کی صورت میں ہر حلقے کی لیے کاغذات نامزدگی الگ الگ جمع کرائے جاتے ہیں، لیکن جو معلومات ایک حلقے کے کاغذات نامزدگی میں دی جاتی ہیں وہی دوسرے حلقے کے کاغذات نامزدگی میں بھی دی جاتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ایم کیو ایم کے ڈاکٹر فاروق ستار کا فیصلہ ہونا ہے۔

لیکن پھر بھی اس بات کا امکان ہوتا ہے کہ ایک حلقے کا ریٹرننگ افسر امیدوار کے کاغذات نامزدگی مسترد کردیتا ہے اور دوسرے حلقے کا ریٹرننگ افسر اُسی امیدوار کے کاغذات نامزدگی منظور کرلیتا ہے۔

اس کی بنیادی وجہ ہر حلقے کے الگ الگ ریٹرننگ افسر کا ہونا ہے اور یہ کہ وہاں کے مقامی ووٹر یا مخالف امیدوار نے کیا کیا اعتراضات اٹھائے۔ ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ کاغذات نامزدگی میں معمولی سی غلطی ہوئی ہو۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی بھی ایک حلقے سے کاغذات نامزدگی مسترد ہوئے ہیں۔

کاغذات نامزدگی میں نامزد کرنے والے اور تائید کرنے والوں کا اس حلقے کا مقامی ووٹرز ہونا ضروری ہے، اس لیے یہ نامزد کنندہ اور تائید کنندگان ہر حلقے میں مختلف ہوں گے، اور ان کی وجہ سے بھی ایک امیدوار کے کسی ایک حلقے کے کاغذات نامزدگی میں کوئی ایک سقم رہ گیا ہو۔

تاہم اگر کسی ایک امیدوار کے کاغذات نامزدگی ایک بڑے اور ٹھوس قانونی نکتے کی وجہ سے مسترد ہوئے ہوں تو پھر تمام حلقوں میں کاغذات نامزدگی کے مسترد کیے جانے کا امکانات بڑھ جائیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سابق فوجی صدر کے کاغذات نامزدگی مسترد ہوگئے ہیں۔

اور اگر کسی معمولی اور تکنیکی وجہ سے ایک امیدوار کے کاغذات نامزدگی مسترد ہوئے ہیں اور باقی حلقوں سے کاغذات نامزدگی منظور ہوگئے ہیں تو غالب امکان ہے کہ الیکشن ٹرئیبیونل اس امیدوار کے کاغذات نامزدگی منظور کرلے گا۔

عمران خان کے کاغذات نامزدگی دو حلقوں سے تیکنیکی بنیاد پر مسترد ہوئے ہیں جبکہ باقی تمام حلقوں میں منظور ہوچکے ہیں لہٰذا غالب امکان ہے کہ جب وہ الیکشن ٹرئیبیونل کے سامنے اپیل کریں گے تو ان کے کاغذات نامزدگی اسلام آباد اور میانوالی کے حلقوں سے بھی منظور ہوجائیں۔

ڈاکٹر فاروق ستار اور شاہد خاقان عباسی بھی ٹرئیبیونل میں جا کر ریلیف حاصل کرسکتے ہیں۔ لیکن شاید جنرل مشرف کے کاغذات نامزدگی اپیل میں بھی مسترد ہوسکتے ہیں کیونکہ ان کے کاغدات نامزدگی قانونی بنیاد پر مسترد ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں