کوئٹہ کہانیاں:’ریمپ بنوانا ہی ہماری لیے بڑی کامیابی تھی‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
اِن خواتین نے اپنی جسمانی معذوری کو کبھی رکاوٹ نہیں سمجھا

بی بی سی کی نئی سیریز 'کوئٹہ کہانیاں' میں نامہ نگار موسیٰ یاوری نے آپ کو اس شہر کے کچھ کرداروں ملوایا۔ اس سلسلے میں آخری قسط میں ملیے اُن خواتین سے جنھوں نے اپنی جسمانی معذوری کو کبھی رکاوٹ نہ سمجھا بلکہ اپنی جیسی معذور خواتین کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے 'بریکنگ بریئرز ویمن' کے نام سے گروپ بنایا جس کا مقصد ویمن ود ڈس ایبلٹی یعنی جسمانی معذوری کی شکار کو بااعتماد بنانا اور اُن میں حقوق کے لیے آگاہی پیدا کرنا ہے۔ کوئٹہ جیسے شہر میں اس سماجی سرگرمیوں کی بنیاد رکھنے والی خواتین نے اپنی کہانی کچھ یوں سنائیں۔

میرا نام زرغونہ ہے اور میں نے انگلش لٹریچر میں ماسٹرز اور ایل ایل بی بھی کیا ہے۔

آج کل میں سوشل ایکٹیویسٹ کے طور پر بریکنگ بیریئر کے ساتھ ہوں۔ اور ہم لوگ ویمن ود ڈس ابیلیٹی کے لیے کام بھی کر رہی ہیں، یہ گروپ چلا بھی رہے ہیں۔

بریکنگ بیریئرز ویمن، معذور خواتین کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرتا ہے۔ ان کا پہلا مقصد ہے کہ معذور خواتین میں خود اعتمادی لائے تاکہ وہ معاشرے میں باہر نکل سکیں اور لوگوں کا سامنا کریں۔ اس طرح جب وہ لوگوں کے ساتھ گھل مل جائیں گے تو ان کو معاشرے کا بھی پتہ چلے گا اور ان کو اپنے حقوق کا بھی پتہ چلے گا جس کے بعد وہ اپنے حقوق کا دفاع بھی کر سکیں گی۔

چند مہینے پہلے ہی اس گروپ کا آغاز کیا گیا تھا جس میں صرف چار پانچ خواتین تھیں مگر اب اس گروپ میں بارہ خواتین ہیں۔ گروپ کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں کوئی خاص عہدہ نہیں ہے اور سب برابر ہے جس میں سب سے مشورے لیے جاتے ہیں اور سب کے مشوروں کو برابر اہمیت دی جاتی ہے۔

Image caption ہماری سب سے بڑی کامیابی ہے کہ ان سب عورتوں کو ایک ساتھ اکھٹا کرنا ہے: سماجی کارکن

ہمارے لیے سب سے بڑی کامیابی یہ گروپ بنانا ہے کیونکہ کوئٹہ اور بلوچستان کا نام لیتے ہی باقی صوبوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ اس صوبے کی عام خواتین گھر سے بھی باہر نہیں نکل سکتی مگر اس صوبے میں معذور خواتین کا اتنا بڑا گروپ بنانا اور پھر ان کا مختلف سماجی سرگرمیوں میں حصہ لینا اور کسی بھی چیز میں پیچھے نہ رہنا اپنے آپ میں ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔

اگر عام افراد کا بھی اپنے ساتھ موازنہ کروں تو ان کو بھی بہت سارے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جہاں اپنی بات منوانی ہو تو وہاں عام آدمی کو بھی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن ہمارے معاملے میں یہ چیزیں کچھ زیادہ بڑھ جاتی ہیں، جہاں بھی ہم اپنا مسئلہ لے کر جاتے ہیں تو تھوڑا پہلے آگے پیچھے ہوتے ہیں مگر آخر میں مثبت جواب مل ہی جاتا ہے۔

آپ اپنے حق کے لیے خود کھڑے ہوں، اپنے حقوق کے بارے میں جانیں جب تک اپنے حقوق کے بارے میں نہیں جانیں گے تب تک آپ کی مدد کوئی نہیں کر سکتا، لیکن آخر میں آپ کو کامیابی مل ہی جائے گی۔ جب تک آپ اپنے لیے کچھ نہیں کرتے، کوئی اور آپ کے لیے کچھ نہیں کر سکتا۔

اسی گروپ کی ایک رکن فوزیہ لونی ہیں وہ ایم فل ایجوکیشن کر رہی ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ جب بھی ہم کہیں نکلتے تھے ہمیں وہاں پہنچنے میں کافی مسئلہ ہوتا تھا کیونکہ وہاں سیڑھیاں ہوتی تھیں۔ حالانکہ لوگ ہماری مدد کرتے تھے مگر ہمیں اچھا نہیں لگتا تھا۔ پھر ہم نے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ ہم گروپ کی شکل میں جاتے تھے اور وہاں ریمپ بنانے کے لیے درخواست کرتے تھے۔ مختلف جگہوں پر یہ ریمپ بنوانا ہی ہماری سب سے بڑی کامیابی ہے۔

Image caption بلوچستان میں خواتین کی معذوری پر کام کرنے والی یہ واحد تنظیم ہے۔

ہماری سب سے بڑی کامیابی ہے کہ ان سب عورتوں کو ایک ساتھ اکھٹا کرنا۔ چند سال پہلے تک جب میں گھر سے بہت کم نکلتی تھی تو میرا یہ خیال تھا کہ صرف میں ہی وہیل چیئر استعمال کرنے والی ہوں لیکن جب میں ماسٹرز کے بعد گھر سے باہر نکلی اور مختلف اداروں میں کام کرنا شروع کیا تو مجھے پتہ چلا کہ باقی لوگ بھی ہیں۔ آہستہ آہستہ ہمارا گروپ بڑھتا گیا اور ہم ایک سے دو اور دو سے چار ہوئے۔

شازیہ بتول نے فائن آرٹس پڑھا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ بلوچستان میں ویمن ڈس ایبلیٹی پر کام کرنے والی یہ واحد تنظیم ہے۔ یہاں کی معذور خواتین اکثر اپنے گھروں تک ہی محدود رہتی ہیں اور انھیں اپنے حقوق کا پتہ نہیں ہوتا اس لیے ہم انھیں مختلف ٹریننگ دیتے ہیں تاکہ وہ زندگی میں آگے بڑھ سکیں۔ ہم ایسے ایونٹ بھی منعقد کرتے ہیں جس میں ان کی قابلیت لوگوں کے سامنے آ سکے۔ جیسے میں آرٹسٹ ہوں تو اپنی پینٹگ کی نمائش کرتی ہوں، کوئی دستکاری کا کام کرتی ہے تو وہ ان اشیا کی نمائش کرتے ہیں تا کہ آمدن بھی ہو سکے۔

ہم چاہتے ہیں کہ جو مسائل ہمیں درپیش رہے ہیں وہ ہمارے بعد والوں کو پیش نہ آئیں۔ تعلیمی ادارے، ریسٹورانٹ، اور بینک وغیرہ میں ہم نے ریمپ بنوائیں ہیں تاکہ ہماری طرح کے لوگوں کو اور مسئلہ نہ ہو۔

ہم معذوروں افراد کے لیے ملازمتوں میں مخصوص کوٹے پر عمل درآمد کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں اور لوکل ٹرانسپورٹ میں معذور افراد کے لیے نظام بنایا جائے۔ ان سب کا مقصد یہی ہے کہ ہماری طرح کی خواتین جو پہلے گھر میں ہی بیٹھ جاتی تھیں وہ اب باہر نکلیں اور عام لوگوں کی طرح آزادانہ طور پر گھوم پھر سکیں۔

معذور وہ لوگ ہیں جن کے پاس سب کچھ ہوتے ہوئے بھی وہ کچھ نہیں کرتے۔ ہم وہیل چیئر پر تو ہیں مگر ہم وہ سب کچھ کر رہے ہیں جو ہمارے معاشرے میں عام لوگ کر رہے ہیں، بلکہ بعض اوقات ہم ان سے زیادہ کام کرتے ہیں۔

اسی بارے میں