آئی ایس آئی ہیڈ کواٹر کے سامنے بند سڑک کو کھولا جائے: اسلام آباد ہائی کورٹ

اسلام آباد ہائی کورٹ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اسلام آباد ہائی کورٹ نے متعقلہ حکام کو فوج کے خفیہ ادارے انٹر سروسز انٹیلیجنس (آئی ایس آئی) کے ہیڈ کوارٹر کے سامنے عرصہ دراز سے بند سڑک کو ایک ہفتے میں دوبارہ کھولنے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے کہا ہے کہ فوج پر بھی اسی طرح قانون کی پاسداری ضروری ہے جس طرح عام شہریوں پر ہے۔

خیابان سہروردی اسلام آباد کی سب سے پرانی شاہراہوں میں سے ایک ہے۔ اس شاہراہ پر آئی ایس آئی کے ہیڈ کوارٹر کے علاوہ اسلام آباد کی آبپارہ مارکیٹ بھی قائم ہے۔

پاکستان کے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں سنہ 2005 میں اس شاہراہ کے دو کلو میٹر کے حصے کو بند کردیا گیا تھا جہاں آئی ایس آئی کا ہیڈ کوارٹر واقع ہے۔ متعقلہ حکام اس حصے سے ٹریفک کو متبادل راستوں سے گزارتے ہیں۔

جسٹس شوکت صدیقی کی سربراہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے سنگل بینچ نے جمعے کو اسلام آباد میں تجاوزات ہٹانے سے متعلق نوٹس کی سماعت کی۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق وزارت دفاع کے جوائنٹ سیکریٹری محمد یونس عدالت میں پیش ہوئے۔

یہ بھی پڑھیے

عمران خان کا طیارہ فوجی اڈے سے اڑنے پر جواب طلب

سوشل میڈیا پر موجود توہین آمیز مواد فوراً بلاک کرنے کا حکم

عدالتِ عالیہ نے بچیوں کی تصاویر دکھانے پر جواب مانگ لیا

عمران خان کی گرفتاری کا وارنٹ معطل

بینچ کے سربراہ نے کہا کہ عدالت نے تو سیکریٹری دفاع کو طلب کیا تھا وہ کیوں پیش نہیں ہوئے۔

وزارت دفاع کے جوائنٹ سیکریٹری محمد یونس کا کہنا تھا کہ چند اہم سرکاری مصروفیات کی وجہ سے وہ عدالت میں پیش نہیں ہوئے جس پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دیے کہ شاید سیکریٹری دفاع عدالت میں پیش ہونے میں اپنی توہین سمجھتے ہیں۔

عدالت نے وزارت دفاع کے جوائنٹ سیکریٹری سے سڑک بند کرنے کی وجہ پوچھی تو اُنھوں نے جواب دیا کہ اسلام آباد کے ترقیاتی ادارے یعنی سی ڈی اے کی مشاورت سے اس شاہراہ کو بند کیا گیا تھا۔

عدالت نے جب اس حوالے سے کوئی دستاویز پیش کرنے کو کہا تو جوائنٹ سیکریٹری محمد یونس نے کہا کہ مشاورت زبانی ہوئی تھی جس پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ ان کے پاس سڑک بند کرنے کا کوئی اجازت نامہ نہیں ہے۔

بینچ کے سربراہ نے محمد یونس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی وزارت یہ دعویٰ کرتی ہے کہ ملک سے شدت پسندی کا خاتمہ کر دیا گیا اور اگر ایسا ہے تو پھر اس سڑک کو کھولا کیوں نہیں جاتا ہے؟

عدالت کا کہنا تھا کہ شدت پسندی کے خلاف جنگ میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے دی گئی قربانیوں سے انکار ممکن نہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ لوگوں کے حقوق کا تحفظ کرنا بھی عدالت کی ذمہ داری ہے۔

بینچ کے سربراہ نے وزارت دفاع کے جوائنٹ سیکریٹری سے کہا کہ وہ اپنی حدود میں بے شک سیسہ پلائی دیوار تعمیر کر لیں اس پر عدالت کو کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن شاہراہ کو اب سکیورٹی کے نام پر مذید بند نہیں رہنے دیا جائے گا۔

عدالت نے سی ڈی اے حکام کو حکم دیا کہ وہ ایک ہفتے کے اندر اندر خیابان سہروردی کو خالی کروائیں اور ایسا نہ ہونے پر قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔

عدالت نے اس نوٹس کی سماعت ایک ہفتے کے لیے ملتوی کردی۔

اسی بارے میں