کال کوٹھڑی میں پنکھا تو لگوا دو، قیدیوں کی عدالت سے اپیل

سزائے موت کے منتظر قیدیوں نے جب تک زندگی ہے تب تک آسانی سے سانس لینے کی سہولت کا مطالبہ کیا ہے اس کے علاوہ پینے کے لیے صاف پانی اور سونے کے لیے سرہانے کے استعمال کے لیے اجازت بھی طلب کی ہے۔

پشاور میں سابق ڈپٹی اٹارنی جنرل خورشید خان ایڈووکیٹ کو خیبر پختونخوا کے ضلع مردان میں سینٹرل جیل سے 12 قیدیوں نے خط لکھا ہے جس میں انھوں نے ہائی کورٹ سے مدد کی اپیل کی ہے۔ ان قیدیوں نے کہا ہے کہ سخت گرمی میں کال کوٹھڑی شدید گرم ہوتی ہے جس میں پانچ سے آٹھ افراد ہوتے ہیں جبکہ یہ ڈیتھ سیل صرف ایک یا دو افراد کے لیے ہوتا ہے۔

ان قیدیوں کا کہنا تھا کہ اس کال کوٹھڑی میں حبس ہو جاتا ہے جس میں سانس لینا مشکل ہوتا ہے اس لیے قیدیوں نے مطالبہ کیا ہے کہ انھیں ایگزاسٹ فین ( پنکھا) نصب کرنے کی اجازت دی جائے تاکہ اس چھوٹے قبر نما کمرے سے تپش خارج کرکے آکسیجن یا سانس لینے کی سہولت پیدا کی جا سکے۔

خورشید خان ایڈووکیٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ قیدیوں کو یہ سہولت ہری پور جیل میں فراہم کی گئی تھی لیکن جب ان قیدیوں کو مردان جیل منقتل کیا جا رہا تھا تو ہری پور جیل انتظامیہ نے اپنا سامان ساتھ لے جانے سے انکار کر دیا تھا۔

خورشید خان ایڈووکیٹ نے بتایا کہ شدید گرمی کی وجہ سے سزائے موت کے منتظر قیدیوں کے لیے مختص کمرے کال کوٹھڑی میں حبس ہوتا ہے اور سانس لینے میں مشکل ہوتی ہے۔ پنکھا یا ایگزاسٹ فین لگانے سے سانس لینے میں قدرے سہولت پیدا ہو جاتی ہے ۔

ان سے جب پوچھا کہ کیا جیل قوانین کے تحت ایگزاسٹ فین استعمال کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ جیل کی بیرکس میں پنکھے لگے ہوتے ہیں تو ایگزاسٹ فین کی اجازت بھی ہونی چاہیے۔

قیدیوں نے پینے کے صاف پانی کی فراہمی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

اس خط میں قیدیوں نے لکھا ہے کہ جیل میں پانی نمکین ہے جس سے ماہرین کے مطابق جگر کی بیماریاں پیدا ہو رہی ہیں۔ قیدیوں کا کہنا تھا کہ انھیں پینے کا صاف پانی فراہم کیا جائے۔

ان قیدیوں نے جیل میں موتیوں کا کام کرنے کی اجازت بھی طلب کی ہے تاکہ اپنے ہنر سے وہ اپنے جیل کے اخراجات پورے کر سکیں۔

قیدیوں نے سونے کے لیے سرہانے، جیل کے پی سی او ٹیلیفون پر ایک گھنٹے کے بجائے چھ گھنٹے تک بات کرنے کی اجازت دی جائے۔ اس وقت قیدیوں کو دن میں صرف ایک گھنٹہ بات کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔

جیل حکام کا کہنا ہے کہ جیل قوانین میں اس کا ایسا کوئی خاص ذکر نہیں ہے تاہم ہری پور جیل میں ایگزاسٹ فین لگانے کی جگہ موجود تھی جہاں یہ نصب کیے جا سکتے تھے اور ہو سکتا ہے مردان جیل میں اب تک کال کوٹھڑی میں ایگزاسٹ لگانے کی جگہ موجود نہ ہو۔ مردان جیل کی تعمیر حال ہی مکمل ہوئی ہے اور اب مختلف جیلوں سے قیدیوں کو اس نئی جیل میں منتقل کیا جا رہا ہے۔

حکام نے بتایا کہ چونکہ ایگزاسٹ فین دیوار میں سوراخ کرکے نصب ہوتا ہے اور جیل کی دیوار کو توڑنا بڑا جرم ہے اس لیے ہو سکتا ہے کہ ان قیدیوں کو اجازت نہ دی گئی ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ جن قیدیوں کا سامان ہری پور جیل میں رہ گیا ہے اگر وہ مردان جیل کے سپرنٹنڈنٹ کی وساطت سے درخواستیں ہری پور جیل بھجوا دیں تو ان قیدیوں کو ان کا تمام سامان فراہم کر دیا جائے گا۔

اسی بارے میں