مفتی نور ولی محسود تحریکِ پاکستان طالبان کے نئے امیر مقرر

طالبان تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption طالبان ذرائع کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان میں جب پاکستانی افواج نے آپریشن ضربِ عضب شروع کیا تو مفتی نور ولی محسود نے اس محاذ میں پاکستانی افواج کے خلاف لڑائی میں شرکت کی۔

کالعدم دہشتگرد تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان نے اپنے سربراہ ملا فضل اللہ کی امریکی حملے میں ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے نور ولی محسود کو تنظیم کا نیا سربراہ مقرر کر دیا ہے۔ملا فضل اللہ تیرہ جون کو امریکی ڈرون سے داغے جانے والے میزائل کا نشانہ بنے تھے۔ افغان اور پاکستانی حکام ان کی ہلاکت کا دعوی کر رہے تھے جس کی تصدیق طالبان نے سنیچر کو ایک بیان میں کی ہے۔بیان کے مطابق تنظیم کی رہبری شوریٰ نے کثرت رائے سے مفتی نورولی محسود کو تحریک طالبان پاکستان کا مرکزی امیر اور مفتی مزاحم المعروف مفتی حفظہ اللہ کو نائب امیر مقرر کیا ہے۔

نور ولی محسود کو رواں برس فروری میں خالد سجنا کی ہلاکت کے بعد حلقہ محسود کے شدت پسندوں کا امیر مقرر کیا گیا تھا۔ مفتی نور ولی سابق امیر بیت اللہ محسود کے قریبی ساتھی تھے اور ماضی میں تحریک کی اہم ذمہ داریاں سنبھالتے آ رہے ہیں۔

چالیس سالہ مفتی نور ولی نے طالبان کی تاریخ پر ایک کتاب بھی تحریر کی تھی جس میں کئی اہم انکشافات جیسے کہ بےنظیر کے قتل میں ٹی ٹی پی کا ہاتھ اور فنڈنگ کہاں کہاں سے ہوتی تھی سامنے آئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

’پاکستانی طالبان کے سربراہ ملا فضل اللہ ڈرون حملے میں ہلاک‘

پاکستانی طالبان نے سید سجنا کی ہلاکت کی تصدیق کر دی

ڈاکے اور بھتے سے رقم اکٹھی کی، پاکستانی طالبان کا اعتراف

پاکستانی انٹیلیجنس کے ذرائع نے بی بی سی اردو کو بتایا تھا کہ 13 جون کو ملا فضل اللہ کنّڑ کے ضلع مروارہ میں واقع بچائی مرکز میں منعقدہ افطار پارٹی میں گئے تھے۔ اطلاعات تھیں کہ رات دس بج کر 45 منٹ پر جب وہ اپنی گاڑی میں بیٹھے تو اس پر ڈرون حملہ ہوا۔ اس وقت ان کے ہمراہ ان کے تین ساتھی بھی موجود تھے۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ حملے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے جن کی لاشیں جل گئیں اور انھیں 13 جون کی شب ہی بچائی میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔

مفتی نور ولی محسود کون ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Pakistani Taliban
Image caption اپنی کتاب میں مفتی نور ولی نے اعتراف کیا تھا کہ طالبان گروہ اور تنظیمیں ماضی میں اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے تحریک ہی کی چھتری تلے ڈاکہ زنی، بھتہ خوری، اجرتی قتال جیسی کارروائیوں میں ملوث رہیں۔

نور ولی محسود جنوبی وزیرستان کے علاقے تیارزہ میں پیدا ہوئے اور وہ فیصل آباد، گوجرانوالہ اور کراچی کے مختلف مدارس میں زیر تعلیم رہ چکے ہیں۔

طالبان ذرائع کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان میں جب پاکستانی افواج نے آپریشن ضربِ عضب شروع کیا تو مفتی نور ولی محسود نے اس محاذ میں پاکستانی افواج کے خلاف لڑائی میں شرکت کی۔

سنہ 2014 میں امریکی ڈرون نے جنوبی وزیرستان کے علاقے سروکئی میں نور ولی محسود کے ایک ٹھکانے کو بھی نشانہ بنایا تھا تاہم وہ اس حملے میں محفوظ رہے تھے اور آٹھ طالبان مارے گئے تھے۔

نومنتخب امیر مفتی نور ولی محسود نے حال ہی میں 690 صفحات پر مبنی 'انقلاب محسود، ساؤتھ وزیرستان - فرنگی راج سے امریکی سامراج تک' نامی ایک تفصیلی کتاب لکھی تھی۔

اس کتاب میں پہلی مرتبہ تحریکِ طالبان پاکستان کی جانب سے پیپلز پارٹی کی رہنما اور سابق وزیراعظم بےنظیر بھٹو پر کارساز، کراچی اور راولپنڈی میں حملوں کی بھی ذمہ داری قبول کی گئی ہے۔ اس سے قبل طالبان اس سے انکار کرتے رہے ہیں۔

مفتی نور ولی محسود کے بقول اس کا مقصد یہ تھا کہ شدت پسند ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ سکیں اور انھیں مستقبل میں نہ دہرائیں۔ ایک اور وجہ ان کے بقول تجزیہ نگاروں، محققین اور مورخین کی 'تصحیح' کی جاسکے۔

کتاب میں مفتی نور ولی نے اعتراف کیا تھا کہ طالبان گروہ اور تنظیمیں ماضی میں اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے تحریک ہی کی چھتری تلے ڈاکہ زنی، بھتہ خوری، اجرتی قتال جیسی کارروائیوں میں ملوث رہیں۔

کتاب میں اپنی ذرائع آمدن کے بارے میں تحریک نے بتایا کہ سال 2007 میں جنوبی وزیرستان میں اہلکاروں کے علاوہ مختلف قسم کے اسلحے اور گاڑیوں سے لیس ایک فوجی قافلے کے اغوا کے واقعے کے بعد حکومت سے ایک معاہدے کے تحت یہ سب کچھ مبینہ طور پر چھ کروڑ روپے کے بدلے واپس لوٹائی گئی تھیں۔

طالبان نے ان فوجیوں کو کئی ماہ تک اپنی حراست میں رکھا تھا اور بات چیت کے نتیجے میں انہیں رہا کر دیا گیا تھا۔ اس وقت اس رہائی اور سامان کی واپسی پر کسی رقم کا کسی نے کوئی ذکر نہیں کیا تھا۔ اس بارے میں فوج سے رابطہ کیا گیا لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔ بی بی سی اردو کو اس وقت طالبان کے رہنما حکیم اللہ محسود نے ان اغوا شدہ فوجیوں میں سے چند سے ملنے کی اجازت بھی دی تھی۔

اسی بارے میں