الیکشن 2018 : ہمدردی، طاقت اور مذہب کا ووٹ بینک

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
الیکشن 2018: اسٹیبلشمنٹ، مذہبی ووٹ اور ’فیک نیوز‘ کا کردار

پاکستان میں عام انتخابات ہونے جا رہے ہیں اور سیاسی جماعتوں کی انتخابی مہم آہستہ آہستہ زور پکرتی جا رہی ہے۔

اس حقیقت کے برعکس کہ ہر چیز آئینی طریقہ کار اور وقت کے مطابق ہو رہی ہے پھر بھی ایک نامعلوم خوف پایا جاتا ہے، غیر یقینی کا ماحول ہے کہ انتخابات کسی بھی سطح پر ملتوی یا کسی رکاوٹ کا شکار ہو سکتے ہیں۔

الیکشن 2018 پر بی بی سی اردو کی خصوصی کوریج

انتخابات میں کامیابی کے حوالے سے کئی فرضی باتیں اور نظریات پائے جاتے ہیں کہ کون جیتنے جا رہا ہے۔ ہم نے سیاست پر نظر رکھنے والے تین ماہرین سے بات کی اور ان سے پوچھا کہ ان کے مطابق وہ کون سے عناصر ہیں جو انتخابات کے نتائج پر قابل ذکر طور پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

پاکستان کی پارلیمان کی کارکردگی پر نظر رکھنے والی تنظیم پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈویلپمنٹ اینڈ ٹرانسپرنسی (پلڈاٹ) کے سربراہ احمد بلال محبوب، سینیئر صحافی، ٹی وی میزبان اور سیاسی امور کے تجزیہ کار سہیل وڑائچ، سیاسی امور کی ماہر اور اس وقت کولمبیا یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کی سکالر سارہ خان جیسے ماہرین کے تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ پانچ ایسے عناصر ہیں جو انتخابات میں حصہ لینے والے قد آور سیاست دانوں کے لیے اچھے یا برے ہو سکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

1: نواز شریف کے لیے ہمدردی کی لہر

پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف پاناما پیپرز کے کیس میں 28 جولائی 2017 کو سپریم کورٹ سے اپنے عہدے کے لیے نااہل ہو گئے اور آئندہ ماہ ہونے والے انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتے ہیں لیکن وہ اپنی جماعت مسلم لیگ نون کی انتخابی مہم کی قیادت کر رہے ہیں اور ان کی جماعت کے سربراہ اس وقت ان کے چھوٹے بھائی شہباز شریف ہیں۔

تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ سنہ 2018 کے انتخابات کے نتائج نواز شریف کے نعرے ’ مجھے کیوں نکلا‘ پر فیصلہ ہوں گے اور اگر عوام اس بات پر قائل ہیں کہ انھیں غیر قانونی طریقے سے نکلا گیا تو اس صورتحال میں مسلم لیگ نون پہلے سے زیادہ طاقت کے ساتھ دوبارہ اقتدار میں آ جائے گی۔

سہیل وڑائچ کے مطابق نواز شریف نے اپنے بیانیے کا جواز یہ بنایا ہے کہ وہ مظلوم ہیں اور ان کو اقتدار سے الگ کیا گیا ہے۔

نواز شریف گذشتہ برس سے اب تک اسلام آباد کی احتساب عدالت میں 70 بار سے زیادہ پیش ہو چکے ہیں اور ان کی جماعت ان کی عدالت میں پیشی کو اس طرح پیش کر رہی ہے کہ یہ سابق وزیراعظم کے خلاف عدلیہ کی انتقامی کارروائی ہے۔

احمد بلال محبوب کے مطابق ’نواز شریف خود کو مظلوم کے طور پر پیش کرنے میں کامیاب رہے ہیں اور لوگ ان کو سن رہے ہیں اور بہت سارے اس بات پر قائل ہو گئے ہیں کہ ملک کے طاقتور اداروں نے ان سے ناانصافی کی۔‘

نواز شریف کی اہلیہ کی طبیعت بھی انتہائی سنجیدہ ہے اور انھیں گذشتہ برس اگست میں ان میں کینسر کی تشخیص ہوئی تھی۔ وہ اس وقت لندن کے ہسپتال میں زیر علاج ہیں اور اس وقت انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں مصنوعی طریقے سے سانس دیا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ بیگم کلثوم نواز کی بیماری بھی نواز شریف اور ان کی جماعت کے لیے ووٹرز کی ہمدردی حاصل کر سکتی ہے

سنہ 2008 کے عام انتخابات سے چند ہفتے قبل بے نظیر بھٹو کے قتل کے نتیجے میں ان کی جماعت پیپلز پارٹی دوبارہ اقتدار میں آ گئی تھی۔

سیاسی تجزیہ کار سارہ خان کا کہنا ہے کہ’ ہمدردی کی لہر کم مدتی عنصر ہے اور یہ دوسری سیاسی جماعتوں کی بنیادی حمایت کو تبدیل نہیں کر سکتی لیکن ایسے حلقے جہاں پر مقابلہ کانٹے کا ہو گا اور واضح کامیابی مشکل ثابت ہو گی وہاں پر نواز شریف کا خود کو مظلوم کے طور پر پیش کرنا ان ووٹرز پر اثر انداز ہو سکتا ہے جنھوں نے ابھی کسی جماعت کو ووٹ دینے کے بارے میں فیصلہ نہیں کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

2 :اسٹیبلشمنٹ

اس حقیقت کے برعکس کے فوج کے ترجمان نے حالیہ پریس کانفرنسوں میں دعویٰ کیا ہے کہ عام انتخابات کا انعقاد کرنا الیکشن کمیشن کا استحقاق ہے تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فوج اب بھی سیاست میں ایک طاقتور فریق ہے۔

احمد بلال محبوب کا کہنا ہے کہ ہم نے ماضی میں دیکھا ہے کہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے کسی بھی جماعت کی جیت یا ہار سے جڑے مفادات فیصلہ کن عنصر رہا ہے۔

’پاکستان کے حوالے سے یہ واضح طور پر اہم ہے کہ ان کا مختلف سیاسی جماعتوں کے بارے میں کیا رویہ ہے۔‘ تاہم سہیل وڑائچ اس کو مختلف انداز میں دیکھتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ’ ملٹری کی طاقت اور اس کا اثرو رسوخ ایک حقیقت ہے لیکن ان کا ایک بہت بڑا ووٹ بینک ہے۔ ملک میں سکیورٹی اہلکاروں کی تعداد آٹھ لاکھ کے قریب ہے اور اگر ان کے خاندان کو شامل کیا جائے اور اس کے ساتھ ان افراد کے خاندانوں کو شامل کیا جائے جن کے مالی مفادات فوج سے جڑے ہیں تو یہ تعداد ایک کروڑ کے قریب بن جاتی ہے۔‘

سارہ خان کے نزدیک فوج ’ ایسا سیاسی ماحول پیدا کر سکتی ہے جہاں آزاد اور شفاف انتخابی مقابلہ نہیں ہو گا، جس میں پریس کی آزادی پر کریک ڈاؤن اور دیگر طریقۂ کار شامل ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

3: دائیں بازو کا مذہبی ووٹر

پاکستان میں مذہب کا لوگوں کی زندگیوں اہم کردار رہا ہے اور انتخابات بھی اس میں شامل یا اس کو استثنیٰ حاصل نہیں ہے۔

پاکستان میں حال ہی میں متعدد سیاسی اتحاد اور ان کے دوبارہ ابھرنے کو دیکھا ہے اور ان کی موجودگی پہلے سے زیادہ دیکھنے میں آئی ہے۔

احمد بلال محبوب کا خیال ہے کہ اگرچہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کی پاکستان مسلم لیگ (نون) اور سابق کرکٹر عمران خان کی پاکستان تحریک انصاف کے درمیان سخت مقابلہ ہے لیکن آنے والے انتخابات میں مذہبی اتحاد اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

اگر کسی حلقے میں جیت کا فرق کم ہے تو مذہبی جماعتیں ووٹ کاٹنے والی پارٹی ثابت ہو سکتی ہیں اور ان پر کسی امیدوار کی جیت اور ہار منحصر ہوگی۔

سہیل ورائچ کا کہنا ہے کہ مذہبی جماعتوں نے پہلے ہی ضمنی انتخابات میں نون لیگ کے ووٹ بینک میں سیندھ لگا دی ہے۔

سارہ خان کہتی ہیں: ’ملک کی سیاست میں مذہب سب سے طاقتور سیاسی طور پر یکجا کرنے والا حربہ ہے اور یہ حالیہ صورت حال میں بھی حسب حال ہے۔ ہم نے حال ہی میں مذہبی جماعتوں کی جانب سے توہین رسالت کے خلاف بہت سرگرمی دیکھی ہے۔‘

لیکن یہ دیھکنا ابھی باقی ہے کہ کیا وہ ان انتخابات میں کوئی معنی خیز اثرات ڈالنے میں بھی کامیاب ہوتے ہیں یا پھر ماضی کی طرح اقتدار کی گلیوں سے دور مظاہروں اور دھرنوں تک ہی محدود رہیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

4: معیشت/ترقی

پاکستان میں عام طور پر لوگوں کی نگاہ انتخابی منشوروں بطور خاص سیاسی پارٹیوں کے معاشی ایجنڈوں پر نہیں ہوتی ہے۔ لیکن ان کی زندگی کو چھوتے ہوئے مسئلے جیسے روزگار کے مواقع، بجلی، لوڈ شیڈنگ، بنیادی ڈھانچوں کی ترقی وغیرہ ان کے دل کے قریب رہے ہیں اور ان چیزوں نے ماضی میں ووٹروں کے فیصلوں کو بہت حد تک متاثر کیا ہے۔

سارہ خان کا خیال ہے کہ ووٹرز وسیع تر معاشی اشاریوں کی بنیاد پر فیصلہ نہ کریں لیکن وہ اپنے نمائندے کا انتخاب کرنے سے قبل مقامی سطح پر معاشی مسائل اور اپنے انتخابی حلقے میں ترقیات کے معاملے کو ضرور خاطر میں لائیں گے۔

پلڈیٹ کے احمد بلال محبوب نے بتایا کہ انھوں نے گذشتہ عام انتخابات سے قبل ووٹروں کو متاثر کرنے والے عوامل کو جاننے کے لیے سنہ 2013 میں ایک سروے کروایا تھا جس میں سب سے بڑا واحدا فیکٹر ترقی سامنے آیا تھا۔

سہیل ورائچ کا خیال ہے کہ عوام یہ جاننا چاہتی ہے کہ کیا عمران خان تبدیلی لاسکتے ہیں اور ملک کو ترقی کی راہ پر ڈال کر معاشی تبدیلی لا سکتے ہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

5: میڈیا/جعلی خبریں

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ میڈیا (دونوں سوشل اور مین سٹریم میڈیا) اور جعلی خبریں ملک میں انتخابی عمل کو متاثر کر سکتی ہیں۔ جعلی خبریں دنیا بھر میں نئی بات ہے جس کا سنہ 2016 کے امریکی صدارتی انتخابات میں انکشاف ہوا اور اس کے بعد سے اس پر بحث جاری ہے۔

پاکستان میں تمام سرکردہ سیاسی پارٹیوں کے سرگرم سوشل میڈیا سیل ہیں اور تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ وہ اپنی سوشل میڈیا حکمت عملی کے طور پر اپنی پالیسیوں کی اشاعت اور اپنے بیانیہ کو پیش کرنے کے لیے سینکڑوں جعلی فیس بک اور ٹوئٹر اکاؤنٹس چلاتی ہیں۔

سارہ خان کہتی ہیں: ’غلط معلومات بطور خاص سوشل میڈیا پر گمراہ کن ہو سکتی ہیں۔ اس لیے یہ میں سٹریم میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ جعلی خبروں کی تردید کرے اور ووٹرز کی مناسب رہنمائی کرے۔‘

لیکن مین سٹریم میڈیا میں صحافت کی کوالٹی کو دیکھتے ہوئے کیا وہ ایسا کرنے کی اہل ہے؟ اس کے جواب میں سہیل ورائچ کہتے ہیں کہ یہ خاصا مشکل کام ہے۔

انھوں نے کہا: 'مین سٹریم میڈیا منقسم اور گروہوں میں بٹا ہوا ہے۔ وہ جانبدار ہیں۔ اس لیے اس بات کی توقع بہت کم ہے کہ وہ جعلی خبروں کا مقابلہ کر سکیں گے۔‘

احمد بلال محبوب کا خیال ہے کہ سوشل میڈیا کی رسائی دس سے 15 فیصد لوگوں تک محدود ہے اس لیے مین سٹریم میڈیا ہی آنے والے انتخابات میں رائے عامہ بنانے اور موڑنے کا کام کرے گا۔

اسی بارے میں