الیکشن 2018: ’پاکستان میں سیاسی جماعتوں کا منشور سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا‘

شہباز شریف تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان میں آئندہ عام انتخابات کے لیے بڑی سیاسی جماعتوں مسلم لیگ ن، پاکستان تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی نے اپنی انتخابی مہم کا آغاز تو کر دیا ہے لیکن ان کی جانب سے تاحال انتخابی منشور کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

پاکستان مسلم لیگ ن کے سربراہ شہباز شریف نے پیر کو اپنی انتخابی مہم کا آغاز کراچی سے کیا۔ وہ ملک کے اس سب سے بڑے شہر میں قومی اسمبلی کے حلقے 249 سے امیدوار بھی ہیں۔

سیاسی جماعت مسلم لیگ ن کے قیام کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ اس کے سربراہ کراچی سے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ کراچی سے ہی پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو اور تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان بھی پہلی بار انتخابات میں اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔

الیکشن 2018 پر بی بی سی اردو کی خصوصی کوریج

الیکشن 2018: ’ایک عورت ہو کر کیسے سیاست کر لی‘

الیکشن 2018 میں امیدواروں کے لیے پانچ اہم عناصر

شہباز شریف نے اپنے خطاب میں کراچی آپریشن اور قیام امن کا سہرا اپنی حکومت کے سر باندھا اور انتخابات میں کامیابی کی صورت میں پینے کے پانی، صفائی اور ٹرانسپورٹ کی فراہمی کا وعدہ کیا۔ تاہم انھوں نے آئندہ حکومت کے لیے مجموعی منشور پیش کیا اور نہ ہی اس کا کوئی ذکر کیا۔

شہباز شریف سے قبل عمران خان میانوالی سے اپنی انتخابی مہم کا آغاز کر چکے ہیں لیکن ان کی انتخابی مہم بھی منشور کے اعلان کے بغیر ہی جاری ہے۔

مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کے علاوہ پاکستان پیپلز پارٹی بھی انتخابی منشور پیش نہیں کرسکی ہے۔

پاکستان میں انتخابات کے نگراں ادارے فری اینڈ فیئر الیکشن کے سربراہ مدثر رضوی کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے تک ایسا ہوتا تھا کہ انتخابات کے شیڈول کے اعلان سے قبل سیاسی جماعتوں کے منشور آجاتے تھے لیکن اس بار ایسا نہیں ہوسکا ہے۔

’الیکشن تو پروگرام کی بنیاد پر ہی لڑا جاتا ہے بغیر پروگرام کے تو انتخابات نہیں رہا۔ پھر لوگوں کے پاس پسند یا ناپسند کی کیا چوائس ہے۔ ان کے پاس تو کوئی موازنہ ہی نہیں ہے، جب کوئی پروگرام یا ایجنڈا ہی نہیں تو پھر فیصلہ کس چیز پر کریں گے، بس ایک روایتی سیاست ہوگی کہ کچھ لوگوں کو کچھ لوگ پسند ہیں اور انھیں منتخب کردیا گیا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

کراچی یونیورسٹی کے سابق استاد اور تجزیہ نگار ڈاکٹر جعفر احمد کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سیاسی جماعتوں کا منشور سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا، انہیں یقین ہے کہ نوے فیصد امیدوار اپنی جماعت کے منشور تک سے لاعلم ہوتے ہیں۔

’اگر منشور بنا بھی دیا تو یہ میڈیا کی تشہیر کے لیے ہوگا، جس طرح عمران خان نے لاہور میں جلسے سے خطاب کرتے دس نکات بتا دیے لیکن اس پر بحث مباحثہ نہیں ہوا، کسی نے یہ سوال نہیں کیا کہ اس میں خارجہ پالیسی پر تو ایک لفظ نہیں ہے، اس میں ملک کی سکیورٹی پالیسی کے لیے ایک لفظ شامل نہیں، بس کچھ جماعتیں اپنے کارنامے بتا رہی ہوں گی یا دوسروں پر الزامات لگا رہی ہوں گی۔‘

الیکشن کمیشن کے سابق سیکریٹری کنور دلشاد کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کا بھی سیاسی جماعتوں کے منشور سے کوئی تعلق نہیں ہے، جماعت کی رجسٹریشن کے لیے صرف پارٹی کا آئین طلب کیا جاتا ہے۔ تاہم منشور کے بارے میں کبھی ہدایت جاری نہیں کی گئی ہیں۔

حلقوں کی سیاست

کراچی یونیورسٹی کے سابق استاد اور تجزیہ نگار ڈاکٹر جعفر احمد کا کہنا ہے کہ امیدوار قومی سیاست کے بجائے حلقوں تک محدود رہتے ہیں اور اس کی ابتدا جنرل ضیاالحق کے دور حکومت سے ہوئی جب سنہ 1985 کے غیر جماعتی انتخابات منعقد کیے گئے۔

ڈاکٹر جعفر احمد کے مطابق ان انتخابات میں جو کامیاب ہوئے انھوں نے حلقوں کی سیاست کرنا شروع کردی۔ جس کے نتیجے میں قومی ایشوز بحث مباحثے سے باہر ہوگئے تب سے یہ ہی رجحانات موجود ہیں اور سیاسی جماعتیں بھی اسی میں ڈھلتی چلی گئیں۔

اسی بارے میں