ایڈیشنل سیشن جج لاڑکانہ گل ضمیر سولنگی کا ’مبینہ استعفیٰ موصول نہیں ہوا‘

جسٹس ثاقب نثار تصویر کے کاپی رائٹ Supreme court of Pakistan

سندھ ہائی کورٹ کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ ایڈیشنل سیشن جج لاڑکانہ گل ضمیر سولنگی کا مبینہ استعفیٰ انہیں تاحال موصول نہیں ہوا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ استعفیٰ کسے اور کب بھیجا ہے اس کے بارے میں وہ ہی بتا سکتے ہیں۔

اس سے قبل منگل کو سندھ ہائی کورٹ کے ترجمان نے گل ضمیر سولنگی کے استعفے کو جعلی قرار دیا تھا۔

ان کا یہ بیان اس وقت آیا جب مقامی ذرائع ابلاغ میں یہ خبر نشر کی کی گئی کہ لاڑکانہ کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ضمیر سولنگی مستعفی ہو گئے ہیں۔ انھوں نے اپنے استعفے کی وجہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار کا ’ہتک آمیز رویہ‘ قرار دیا ہے۔

سندھ ہائی کورٹ کے ترجمان میڈیا کو جاری کیے گئے اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ مختلف ٹی وی چینلز پر ایڈیشنل سیشن جج لاڑکانہ گل ضمیر سولنگی کی استعفے کی وائرل ہونے والے خبر جعلی لیٹر پر مبنی ہے اور بغیر کسی تصدیق کے اس کی سوشل میڈیا پر تشہیر کی گئی۔

چیف جسٹس کی سکرٹ کے متنازع بیان پر خواتین سے معافی

’عدالت عظمیٰ کے بارے میں بداعتمادی کو ختم کرنا ہوگا‘

ترجمان کا کہنا تھا کہ نہ ہی یہ استعفیٰ بھیجا گیا ہے اور نہ ہی رجسٹرار کے دفتر کو موصول ہوا ہے، میڈیا ہاؤسز کو مشورہ ہے کہ عدلیہ کے بارے میں کسی بھی خبر کی نشر و اشاعت سے قبل اس کی تصدیق کر لیں۔

دوسری جانب ایڈیشنل سیشن جج لاڑکانہ گل ضمیر سولنگی سے رابطے کی کوشش کی گئی لیکن ان کے دونوں موبائل نمبر بند ہیں۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار گذشتہ ہفتے لاڑکانہ کے دورے پر گئے تھے جہاں وہ ڈسٹرکٹ سیشن کورٹ کے دورے پر بھی پہنچے، اسی دوران وہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ضمیر سولنگی کے کمرہ عدالت میں داخل ہوگئے۔

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق ٹی وی چینلز پر نشر ہونے والی فٹیج کے مطابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے سیاہ چشمہ لگایا ہوا تھا اور وہ ایک جج کے ٹیبل پر پہنچتے ہیں اور سوال کرتے ہیں کہ وہ کیا کر رہے ہیں؟ جج کا جواب انہیں سمجھ میں نہیں آتا، جس کے بعد وہ آواز لگاتے ہیں کہ ’یہ سیشن جج کہاں ہے؟‘

تصویر کے کاپی رائٹ Geo

سیشن جج چیف جسٹس کے سامنے پیش ہوتے ہیں، جسٹس ثاقب نثار کہتے ہیں کہ اس سے (جج سے) پوچھو یہ کیا کر رہا ہے۔ جج ضمیر سولنگی انہیں بتاتے ہیں کہ وہ فائل پڑھ رہے ہیں، اس کے ساتھ ہی چیف جسٹس روانہ ہوتے ہیں اور ٹیبل کے کونے پر پہنچ کر جج کا موبائل فون اٹھاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ’آپ یہ کمرے میں رکھتے ہیں‘ اس کے ساتھ ہی وہ موبائل فون ٹیبل پر پٹخ دیتے ہیں۔

اس پوری کارروائی کے دوران ٹی وی چینلز کے کیمرے کمرہ عدالت میں ہی موجود رہے جس کے بعد یہ منظر ٹی وی چینلز کی خبروں میں دن بھر حاوی رہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں