ڈیرہ اسماعیل خان: ایک ہی محلے کے آٹھ نوجوان لڑکے لاپتہ

  • عزیز اللہ خان
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام
حمزہ علی (دائیں) اور حسنین (بائیں)

،تصویر کا ذریعہپولیس ذرائع

،تصویر کا کیپشن

لاپتہ ہونے والوں میں حمزہ علی (دائیں) اور حسنین (بائیں) بھی شامل ہیں

خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے ایک محلے کے آٹھ نوجوان لڑکے پر اسرار طور پر لاپتہ ہو گئے ہیں اور ان کی تلاش کے لیے پولیس نے کوششیں شروع کر دی ہیں۔

ان لڑکوں کا تعلق محلہ حیات اللہ اور اس کے قریبی گلی کوچوں سے بتایا گیا ہے اور ان کی عمریں اٹھارہ سے بیس سال کے درمیان ہیں۔

پولیس تھانے میں موجود اہلکار نے بتایا کہ ان لڑکوں کے والدین اور بھائیوں نے مختلف اوقات میں درخواستیں دی ہیں کہ ان کے بچے غائب ہیں۔ یہ لڑکے بیس جون کو ایک ہی وقت میں لاپتہ ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

پولیس کے مطابق ان کے پاس جو درخواستیں پہنچی ہیں ان میں گمشدگی کا ایک ہی وقت درج ہے اور بظاہر ایسا لگتا ہے کہ یہ تمام لڑکے ساتھ ہیں۔

تھانہ سٹی کے انسپکٹر دمساز خان نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے انکوائری کا حکم دے دیا ہے اور ابتدائی تفتیش کے مطابق ’انھیں کسی نے اغوا نہیں کیا بلکہ وہ خود کہیں گئے ہیں‘۔

انھوں نے بتایا کہ تمام لڑکے چند دن قبل ڈیرہ اسماعیل خان سے پچاسی کلومیٹر دور بلوچستان کی سرحد پر واقعے علاقے دھانہ سر گئے تھے۔ اسی کے ایک روز بعد یہ تمام لڑکے لاپتہ ہوئے ہیں۔ ان میں بیشتر لڑکے اپنے ساتھ کوئی سامان یا کپڑے نہیں لے کر گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہو سکتا ہے کہ یہ لڑکے خود کسی دوسرے شہر گئے ہوں تاہم انکوائری کے بعد معلوم ہو سکے گا کہ یہ لڑکے اغوا ہوئے ہیں یا خود کہیں گئے ہیں۔

تفتیشی افسر محمد سلیم نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ان لڑکوں میں سے چند نے اپنے گھر والوں سے کہا تھا کہ وہ تبلیغ کے لیے جا رہے ہیں تاہم تبلیغی مرکز سے جب معلوم کیا گیا تو وہاں اُن کے نام درج نہیں تھے۔