سپریم کورٹ: کراچی میں بحریہ ٹاؤن کو پلاٹس کی رقم وصول کرنے سے روک دیا گیا

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption عدالت نے بحریہ ٹاون کے مالک کو 27 جون تک پانچ ارب روپے جمع کراونے کا حکم دیا

پاکستان کی سپریم کورٹ نے نجی تعمیراتی کمپنی بحریہ ٹاؤن کی انتظامیہ کو کراچی میں شروع کیے گئے منصوبے میں پلاٹ خریدنے والوں سے رقم وصول کرنے سے روک دیا ہے۔

عدالت نے رقم کی وصولی کو عدالتی احکامات کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ قانون کے خلاف کوئی اقدام قابل قبول نہیں ہے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے زمین خریدنے والوں سے کہا ہے کہ وہ یہ رقم عدالت عظمیٰ کے حکم پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹ میں جمع کروائیں۔

مزید پڑھیے

ضرورت ہے، ملک ریاض کو

بحریہ ٹاؤن کے خلاف تحقیقات کا باقاعدہ آغاز

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق سپریم کورٹ نے یہ احکامات عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے خلاف بحریہ ٹاؤن کی طرف سے دائر کی گئی نظرثانی کی درخواست پر دیے۔ نظرثانی کی یہ درخواست بحریہ ٹاؤن کے وکیل اور نگراں وزیر قانون ایس ایم ظفر کی طرف سے دائر کی گئی تھی تاہم بیرسٹر اعتزاز احسن بحریہ ٹاؤن کی طرف سے عدالت میں پیش ہوئے۔

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کو سرکاری زمین کی الاٹمنٹ اور تبادلے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے بحریہ ٹاؤن کراچی کو رہائشی، کمرشل پلاٹوں اور عمارتوں کی فروخت سے روک دیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ملک ریاض پاکستان میں بحریہ گروپ آف کمپنیز کے مالک ہیں

حال ہی میں ریٹائر ہونے والے سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کے اکثریتی فیصلے میں اس معاملے کو قومی احتساب بیورو (نیب) کو بھیجنے اور تین ماہ میں تحقیقات مکمل کر کے ذمہ داران کے خلاف ریفرنسز دائر کرنے کا حکم دیا تھا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بحریہ ٹاؤن کی انتظامیہ کس حکم سے لوگوں کو پیسے جمع کروانے کے لیے نوٹس بھجوا رہی ہے۔

بحریہ ٹاون کی انتظامیہ کے وکیل اعتزاز احسن نے کہا کہ ان کے موکل کی طرف سے ایسا کوئی نوٹس لوگوں کو نہیں بھجوایا گیا جس پر بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’تو پھر ابھی بحریہ ٹاؤن کے سربراہ کو بلا لیتے ہیں، معاملہ صاف ہو جائے گا‘۔

بحریہ ٹاؤن کے وکیل اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ بحریہ ٹاؤن کے مالک نے ’صحرا میں شہر کھڑا‘ کر دیا ہے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’اگر کوئی رابن ہڈ کی طرح لوگوں کا مال چوری کر کے عوام میں بانٹ دے اور صحرا میں شہر بنا دے تو کیا اس کے عمل کو درست قرار دیا جاسکتا ہے‘۔

عدالت کا کہنا تھا کہ ہمیں اس شخص سے کوئی ہمدردی نہیں جو غیرقانونی کام کر کے لوگوں کو نقصان پہنچائے۔

سماعت کے دوران عدالت نے بحریہ ٹاؤن کے وکیل سے استفسار کیا کہ سپریم کورٹ نے کراچی میں بلند عمارتوں کی تعمیر پر پابندی عائد کر رکھی ہے تو بحریہ ٹاؤن کو کراچی میں 20 منزلہ عمارت تعمیر کرنے کی اجازت کس نے دی۔

اس پر اعتزاز احسن نے کہا کہ پابندی اب لگی ہے جبکہ تعمیرات پہلے ہوئی ہیں۔ بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ تعمیرات اب بھی جاری ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بحریہ ٹاون کا مقدمہ نیب کے پاس پہلے سے ہے۔ اُنھوں نے اعتزاز احسن سے کہا کہ وہ اپنے موکل (ملک ریاض) سے کہیں کہ نیب کے سامنے پیش ہوں۔

سماعت کے دوران اعتزاز احسن نے کہا کہ بحریہ ٹاؤن کے پیسے حکومت کی طرف نکلتے ہوں گے جس پر چیف جسٹس نے ملک ریاض کا نام لیے بغیر کہا کہ ’حاجی صاحب (ملک ریاض) کو کہیں کہ عدالت کے سامنے آ کر کھڑے ہو جائیں اور یہاں آکر بات کریں‘۔ اُنھوں نے کہا کہ ’کیا اُنھیں عدالت میں آکر کھڑا ہونا معیوب لگتا ہے؟‘

جب ملک ریاض عدالت میں پیش ہوئے

عدالت کی طرف سے سماعت ملتوی کرنے کے بعد ملک ریاض اپنے وکلا کے ہمراہ کمرہ عدالت میں پیش ہوئے اور وہ عدالت کو بحریہ ٹاؤن کی طرف سے رفاہ عامہ کے کام کے بارے میں بتایا جس پر بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’کسی کو رشوت دینے یا غیر قانونی ذرائع سے حاصل کی گئی آمدنی سے رفاہ عامہ کے کام کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے‘۔

عدالت نے بحریہ ٹاؤن کے مالک کو 27 جون تک پانچ ارب روپے جمع کراونے کا حکم دیا اور کہا کہ بحریہ ٹاؤن کراچی کو اپنا کام دوبارہ شروع کرنے کے معاملے کو بھی دیکھا جائے گا۔

عدالت نے نظرثانی کی درخواست کی سماعت کو 20 جولائی تک ملتوی کر دیا ہے۔

متعلقہ عنوانات