شاہد خاقان عباسی کی نااہلی کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر، فواد چوہدری کو الیکشن لڑنے کے اجازت

واضح رہے کہ شاہد خاقان عباسی اسلام آباد سے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 53 سے بھی حصہ لے رہے ہیں تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption واضح رہے کہ شاہد خاقان عباسی اسلام آباد سے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 53 سے بھی حصہ لے رہے ہیں

پاکستان کے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے الیکشن لڑنے کے لیے نااہل قرار دیے جانے کے فیصلے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر دی ہے۔

یاد رہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے ایپلٹ ٹرائبیونل نے شاہد خاقان عباسی کے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 57 سے کاغذاتِ نامزدگی مسترد کر دیے تھے۔

جس کے بعد مسلم لیگ نواز کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

ایپلٹ ٹرائبیونل کے جج جسٹس عبید الرحمن لودھی پر مشتمل ایک رکنی ایپلٹ بینچ نے سابق وزیراعظم کو ووٹر سے حقائق چھپانے کا مرتکب قرار دیتے ہوئے انھیں آئین کی شق باسٹھ ون ایف کے تحت نااہل قرار دے دیا۔

الیکشن 2018 پر بی بی سی اردو کی خصوصی کوریج

ادھر لاہور ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری کی نااہلی کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے انھیں الیکشن لڑنے کے لیے اہل قرار دیا ہے۔

لاہور ہائی کورٹ کے ایپلٹ ٹرائیبونل نے فواد چوہدی کے کاغداتِ نامزدگی مسترد کرتے ہوئے انھیں نااہل قرار دیا تھا۔

پاکستان کے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو نا اہل قرار دیے جانے کےعدالتی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ ’شاہد خاقان عباسی نے اپنے ووٹرز سے معلومات چھپائیں جس کی وجہ سے وہ صادق اور امین نہیں رہے۔ اس لیے آئین کی شق 62 ون ایف کے تحت وہ مجلس شوریٰ کے رکن منتخب ہونے کے اہل نہیں ہیں۔ ‘

نااہل قرار دیے جانے کے فیصلے کے بعد شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ بطور وزیراعظم انھوں نے اداروں کو سمجھانے کی کوشش کی تھی کہ الیکشن کو غیر متنازع بنائیں اور ’خدا نہ کرے کہ یہ الیکشن متنازع ہوں‘۔

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ٹرائیبونل کے جج نے ان پر ذاتی الزامات عائد کیے ہیں اور کس نے انھیں اس کی اجازت دی؟

شاہد خاقان عباسی نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 57 سے کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے۔ یہ علاقہ مری اور کہوٹہ کی تحصیلوں پر مشتمل ہے جہاں سے شاہد خاقان عباسی گذشتہ سات انتخابات میں حصہ لے چکے ہیں۔

الیکشن 2018 سے متعلق یہ بھی پڑھیے

نئے کاغذاتِ نامزدگی میں کیا نہیں ہے؟

عمران خان، فاروق ستار، پرویز مشرف کے کاغذات نامزدگی مسترد

ریٹرنگ افسر کی جانب سے سابق وزیر اعظم کے کاغذات نامزدگی منظور کیے جانے کے فیصلے کے خلاف درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ شاہد خاقان عباسی نے کاغذات نامزدگی میں ٹمپرنگ کی ہے، اس کے علاوہ اپنے اثاثے بھی چھپائے ہیں۔

عدالت نے الیکشن کمیشن سے کہا ہے کہ وہ اس علاقے کے لیے نیا ریٹرنگ افسر تعینات کریں۔

واضح رہے کہ شاہد خاقان عباسی اسلام آباد کے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 53 سے بھی حصہ لے رہے ہیں اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایپلٹ بینچ نے ریٹرنگ افسر کی طرف سے ان کے کاغذات نامزدگی نامنظور کیے جانے خلاف دائر کی گئی اپیل کو سماعت کے لیے منظور کرلیا تھا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایپلٹ بینچ نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو بھی اسی حلقے سے انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دے دی ہے۔

اسی بارے میں