'جب ووٹ نہیں ڈالتے تو احساس کمتری کا شکار ہوتے ہیں'

سخی جان
Image caption سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں اس وقت معذور افراد کی آبادی 32 لاکھ سے زیادہ ہے

پشاور سے نواحی علاقے ارمڑ کے رہائشی 38 سالہ سخی جان اگرچہ بچپن سے دونوں پیروں سے معذور ہیں لیکن جب سے وہ ووٹ ڈالنے کے اہل ہوئے ہیں انھوں نے ہر الیکشن میں ووٹ کا استعمال ضرور کیا ہے۔

میں ان سے ملنے جب ان کے حجرے میں پہنچا اور ویل چیئر پر بیٹھے سخی جان کی کہانی سنی تو اس کا لب لباب یہی تھا کہ پاکستان میں معذور افراد کے لیے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کرنا بھی جوئے شیر لانے سے کم نہیں۔

الیکشن 2018 پر بی بی سی اردو کی خصوصی کوریج

سخی جان ان مشکلات کا عملی مظاہرہ دکھانے کے لیے ہمیں اپنے علاقے میں واقع ایک نامزد پولنگ سٹیشن میں لے کر گئے جس کے داخلی دروازے کے سامنے رکاوٹ ہونے کی وجہ سے ان کی ویل چیئر کو ہاتھوں میں اٹھانا پڑا۔

سخی جان کا کہنا تھا کہ ’آپ جو یہ مشکلات دیکھ رہے ہیں یہ ہمیں سوچنے پر مجبور کر دیتی ہیں کہ ہم معاشرے کے دوسرے لوگوں سے کمتر ہیں۔‘

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں اس وقت معذور افراد کی آبادی 32 لاکھ سے زیادہ ہے تاہم ان کا شکوہ ہے کہ ان کے لیے پولنگ سٹیشنز میں بنیادی سہولیات بھی میسر نہیں ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

مردم شماری فارم میں معذور افراد کا خانہ بنانے کا حکم

بلوچستان میں معذور افراد کی ریلی اور دھرنا

غیر سرکاری تنظیم پاکستان الائنس فار انکلوسیو الیکشنز کی حالیہ رپورٹ کے مطابق صرف اسلام آباد میں 90 فیصد سے زیادہ پولنگ سٹیشنز میں معذور افراد کے لیے سہولیات جیسا کہ داخلی دروازے کی 32 انچ تک چوڑائی، نیم نابینا افراد کے لیے روشنی کی سہولت، ریمپ کی موجودگی اور داخلی دروازے کی عمارت کے ساتھ ایک ہی لیول پر نہ بننا شامل ہے۔

اسی طرح پشاور کے حلقے این اے 29 میں جو پہلے این اے چار تھا، ضمنی انتخابات کے دوران ایک سروے میں اسی تنظیم کی بنائی ہوئی رپورٹ کے مطابق 80 فیصد سے زیادہ پولنگ سٹیشنز میں یہ سہولیات میسر نہیں تھیں۔

Image caption سہولیات فراہم نہ کر پانے کے بعد الیکشن کمیشن نے معذور افراد کو پوسٹل بیلٹ کے ذریعے ووٹ ڈالنے کی اجازت دی ہے

سخی جان کا کہنا تھا کہ ’ہم بھی اس معاشرے کے افراد ہیں اور ہمارے بھی اتنے ہی حقوق ہیں جتنے ایک عام شہری کے ہیں۔ اسی غیر منصفانہ رویے کی وجہ سے معذور افراد احساس کمتری کا شکار ہو کر یا تو خاندان پر بوجھ بنتے ہیں یا بازاروں میں بھیک مانگنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔'

ان کا کہنا تھا کہ اسمبلی میں اقلیتوں کے لیے مخصوص نشستیں ہیں، خواتین کی بھی مخصوص نشستیں ہیں لیکن معذور افراد کے حقوق کے لیے کوئی بھی آواز اٹھانے کو تیار نہیں ہے۔

’معذور افراد بھی یہی چاہتے ہیں کہ اپنی پسند کے رکن کو ووٹ دے کر اسے اسمبلی پہنچائیں تاکہ وہ ان کے حقوق کی بات کر سکے۔‘

الیکشن کمیشن نے معذور افراد کے حقوق پر کام کرنے والی تنظیموں کے ساتھ مختلف نشستوں میں یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ سنہ 2018 کے الیکشن تک تمام پولنگ سٹیشنز میں معذور افراد کی رسائی یقینی بنائے گا لیکن ان تنظیموں کے مطابق ابھی تک یہ وعدہ پورا نہیں ہوا ہے۔

پشاور میں معذور افراد کے حقوق پر کام کرنے والی تنظیم 'فرینڈز آف پیراپلیجک' کے ایک رکن مشتاق حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت معذور افراد کو ملک کا شہری ہی تصور نہیں کرتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے وعدہ کیا تھا کہ معذور افراد کے لیے پولنگ سٹیشنز میں تمام سہولیات فراہم کی جائیں گی تاہم اس حوالے سے ابھی تک کوئی اقدام نہیں کیا گیا۔

Image caption الیکشن کمیشن آف پاکستان نے وعدہ کیا تھا کہ معذور افراد کے لیے پولنگ سٹیشنز میں تمام سہولیات فراہم کی جائیں گی

پشاور میں الیکشن کمیشن کے ترجمان سہیل احمد سے جب اس بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ پہاڑی علاقوں میں پولنگ سٹیشنز کے اندر معذور افراد کے لیے سہولیات فراہم کرنا ناممکن ہے لیکن پھر بھی ہم دوسرے سٹیک ہولڈرز کے ساتھ اس حوالے سے کام کر رہے ہیں۔

انھوں نے تسلیم کیا کہ آنے والے عام انتخابات میں معذور افراد کو یہ سہولیات فراہم کرنا ممکن نہیں کیونکہ انتخابات سر پر ہیں اور یہی وجہ ہے کہ الیکشن کمیشن نے معذور افراد کو پوسٹل بیلٹ کے ذریعے ووٹ ڈالنے کی اجازت دی ہے۔

اسی بارے میں