الیکشن 2018: پاکستان پیپلز پارٹی کا منشور، کیا نیا کیا مشکل

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نئے منشور کو 'بی بی کا وعدہ نبھانا ہے، پاکستان کو بچانا ہے' کا نام دیا گیا ہے

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا جاتا ہے کہ گذشتہ پانچ دہائیوں میں اس جماعت کا دسواں انتخابی منشور اسلام آباد میں والد اور دیگر اہم مرکزی قائدین کی موجودگی میں پیش کر دیا۔ ہمیشہ کی طرح ووٹروں کو متوجہ کرنے کے لیے نئے وعدوں سے بھرپور ارسٹھ صفحات کی اس دستاویز میں جماعت نے چند ایسے اعلانات کیے ہیں جو شاید اس کے لیے وفا کرنے مشکل ہوں۔

نوجوان نسل کا حصہ ہونے کی وجہ سے اگرچہ بلاول خود تو پاکستان کے امیر ترین سیاستدانوں میں سے ایک ہیں لیکن ان کے دل میں نوجوانوں کا غم ضرور ہے۔ انہیں اپنے کاروبار یا منصوبے شروع کرنے سے زیادہ ملازمتیں دینے کا وعدہ کیا ہے۔

الیکشن 2018 پر بی بی سی اردو کی خصوصی کوریج

ان کا کہنا ہے کہ 40 لاکھ نوجوانوں کو سالانہ نوکریاں چاہیے ہوتی ہیں لہذا اس مقصد کے لیے ایک نیا سرکاری ادارہ قائم کیا جائے گا۔ شاید اس ادارے میں ہی کچھ اپنے کچھ پرائے کھپ جائیں گے۔

بھوک مٹاؤ جیسے کارڈ پر مبنی نئے پروگرام کا اعلان بھی ہے حالانکہ اسے بےنظیر بھٹو انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے ہی کیوں نہیں دیکھا جانے کا سوچا؟ کیوں غربا کے فائدے کے لیے الگ کارڈ الگ طریقے سے نافذ کیا جائے گا؟

کسانوں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش اور زرعی پیداوار میں اضافے کے لیے کاشتکاروں کو سبسڈی دیے جانے کی بات کی ہے، یوریا کھاد کی قیمت 500 روپے اور ڈی اے پی کھاد کی قیمت 1700 روپے کرنے کا اعلان کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

بھٹو خاندان کی تیسری نسل کا عملی سیاست میں قدم

’سیاسی جماعتوں کا منشور سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا‘

خارجہ پالیسی کی سطح پر عالمی سطح پر پاکستان کی تنہائی کو ختم کرنے جیسے اہداف بھی شامل ہیں۔ پارلیمان کو جس کے بارے میں سابق حکمراں جماعت مسلم لیگ (ن) پر نظر انداز کرنے کا الزام تھا، بلاول کا کہنا ہے کہ اس جمہوری ستون کو اعتماد میں رکھیں گے۔

یہ تمام کام اگر اضافی وسائل میسر ہوں تو شاید کر لیے جائیں۔ منشور میں معیشت کی بہتری کے لیے اقدامات کے لیے بات تو کی گئی ہے لیکن ان فلاحی اقدامات کے لیے خصوصاً اضافی رقوم کے بارے میں کوئی ذکر نہیں ہے کہ وہ کیسے حاصل کی جائیں گی۔ کیا مزید قرضوں کے ذریعے ایسا ممکن بنایا جائے گا؟

انتخابی منشور کے مشکل اہداف

لیکن منشور میں چند انتہائی مشکل اہداف بھی مقرر کیے گئے ہیں۔ ان میں سے ایک سرفہرست ٹرتھ اینڈ رکنسیلیشن کمیشن کے تشدد سے متاثرہ علاقوں میں قیام کے لیے قانون سازی کا عزم ہے۔ اس کمیشن کے ذریعے یہ جماعت ملک میں تشدد سے ستائے علاقوں خصوصاً کراچی میں سیاسی تشدد کے پیچھے عوامل اور کردار جاننے کی کوشش کرے گی۔

یہ مطالبہ سابق حکومت بھی اپنے آخری ایام میں کرتی رہی لیکن اس وقت کسی نے اس کی حمایت نہیں کی تھی۔ اب کیا یہ ممکن ہوگا؟ اس پر سیاسی اتفاق رائے شاید اگر ناممکن نہیں تو انتہائی مشکل ضرور ہوگا، شاید اسی لیے پیپلز پارٹی نے اسے اتفاق رائے سے باندھ دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عالمی سطح پر پاکستان کی تنہائی کو ختم کرنے جیسے اہداف بھی منشور میں شامل ہیں

اس نئے منشور کو ’بی بی کا وعدہ نبھانا ہے، پاکستان کو بچانا ہے‘ نام دیا گیا ہے۔ پیپلز پارٹی کی آخری حکومت اندرونی دباؤ کے باوجود سزائے موت پر اس وقت لگی پابندی ختم کرنے کے خلاف رہی تھی۔ اب اس نے موقف میں نرمی لاتے ہوئے کہا ہے کہ جن جرائم پر سزائے موت مل سکتی ہے انہیں 27 سے کم کرنے کے لیے نظر ثانی کی جائے گی۔

فوجی عدالتوں کی کارکردگی کے جائزے کی بات بھی کی گئی ہے۔ پاکستان اس کے حق میں رہا ہے۔ نظرثانی کا اعلان بغیر عدالتی نظام کی مضبوطی کے مشکل ثابت ہو سکتا ہے؟

مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل نے منشور کی رونمائی میں سب سے پہل کی، اب ایک،ایک کر کے دوسری جماعتیں بھی ٹکٹوں کی تقسیم کے تقریباً مکمل ہونے کے بعد اس لازمی انتخابی دستاویز کی جانب متوجہ ہو رہے ہیں۔

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے لاہور میں گذشتہ دنوں گیارہ نکاتی پروگرام کا اعلان کیا تھا اور جماعت کے کچھ لوگ اسے ہی منشور تصور کر رہے تھے لیکن باضابطہ منشور کا ابھی بھی انتظار ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے ذمہ بھی یہ انتخابی فرض ابھی باقی ہے۔

کچھ لوگ اس منشور کی افادیت کے بارے میں بھی سوال کرتے ہیں کہ کیا کوئی ووٹر اسے پڑھتا بھی ہے، ووٹ دینے سے قبل تو عموماً تاثر تو یہی ہے کہ وہ انتخابی جلسوں اور چلتی ہوا کا رخ دیکھ کر اپنا فیصلہ کرتے ہیں لیکن کم از کم منشور ایک ایسا تحریری عہد نامہ ہے جس کی بنیاد پر سیاسی جماعت کو حکومت میں آنے کے بعد گریبان سے پکڑا جاسکتا ہے۔

سیاسی تقاریر تو زبانی جمع خرچ زیادہ ہوتا ہے اور کوئی اسے بھاؤ نہیں دیتا یہاں تک کہ خود بولنے والا۔

اسی بارے میں