شاہد خاقان عباسی کی تاحیات نااہلی کا فیصلہ معطل

شاہد خاقان عباسی تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایک رکنی ایپلیٹ بینچ نے سابق وزیراعظم کو ووٹروں سے حقائق چھپانے کا مرتکب قرار دیتے ہوئے انھیں آئین کی شق 62 ون ایف کے تحت نااہل قرار دے دیا تھا۔

لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم اور مسلم لیگ ن کے رہنما شاہد خاقان عباسی کی نااہلی کالعدم قرار دے دی۔

جسٹس مظاہر علی نقوی کی قیادت میں بینچ نے الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا جس میں شاہد خاقان عباسی کو تاحیات الیکشن لڑنے کے لیے نااہل ٹھہرایا گیا تھا۔

لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد اب شاہد خاقان عباسی حلقہ این اے 57 سے انتخابات میں حصہ لے سکیں گے۔

اسی بارے میں

الیکشن 2018 کے بارے میں بی بی سی اردو کی خصوصی کوریج

شاہد خاقان کی نااہلی کے خلاف اپیل، فواد اہل قرار

یاد رہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے ایپلٹ ٹریبیونل نے شاہد خاقان عباسی کے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 57 سے کاغذاتِ نامزدگی مسترد کر دیے تھے۔

جس کے بعد انھوں نے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر دی تھی۔

جسٹس عبید الرحمن لودھی پر مشتمل ایک رکنی ایپلیٹ بینچ نے سابق وزیراعظم کو ووٹروں سے حقائق چھپانے کا مرتکب قرار دیتے ہوئے انھیں آئین کی شق 62 ون ایف کے تحت نااہل قرار دے دیا تھا۔

نااہلی کے فیصلے کہا گیا تھا کہ 'شاہد خاقان عباسی نے اپنے ووٹروں سے معلومات چھپائیں جس کی وجہ سے وہ صادق اور امین نہیں رہے۔ اس لیے آئین کی شق 62 ون ایف کے تحت وہ مجلس شوریٰ کے رکن منتخب ہونے کے اہل نہیں ہیں۔'

شاہد خاقان عباسی نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 57 سے کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے۔ یہ علاقہ مری اور کہوٹہ کی تحصیلوں پر مشتمل ہے جہاں سے شاہد خاقان عباسی گذشتہ سات انتخابات میں حصہ لے چکے ہیں۔

نااہل قرار دیے جانے کے فیصلے کے بعد شاہد خاقان عباسی نے کہا تھا کہ بطور وزیراعظم انھوں نے اداروں کو سمجھانے کی کوشش کی تھی کہ الیکشن کو غیر متنازع بنائیں اور 'خدا نہ کرے کہ یہ الیکشن متنازع ہوں۔'

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ٹرییبونل کے جج نے ان پر ذاتی الزامات عائد کیے ہیں۔

اسی بارے میں