الیکشن 2018: گومل میں لوگوں نے کہا ہے کہ امیدوار ووٹ مانگنے نہ آئیں

علاقہ گومل کے لوگوں نے انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں سے کہا ہے کہ وہ ان کے پاس ووٹ مانگنے نہ آئیں کیونکہ وہ اس نظام سے بیزار ہیں جس میں غریب کی سنوائی نہیں ہوتی اور امیدوار ووٹ لے کر پانچ سالوں کے لیے غائب ہو جاتے ہیں۔

یہ پیغام کوئی عام امیدواروں کے لیے نہیں ہے بلکہ اس میں جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان، پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق ڈپٹی سپیکر فیصل کریم کنڈی اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما داور کنڈی شامل ہیں۔

پی پی پی کا منشور، کتنا نیا، کتنا مشکل؟

’بہتر ہو گا پوری ن لیگ کو ایک ہی بار نااہل کر دیا جائے‘

الیکشن 2018: ’ایک عورت ہو کر کیسے سیاست کر لی‘

اس علاقے کے کوئی 200 افراد نے مل کر یہ تحریک شروع کی ہے اور اس کے لیے وہ گھر گھر جا کر آگہی فراہم کر رہے ہیں کہ اگر ووٹ دیں گے تو تعلیم، پانی صحت روزگار اور دیگر ضروریات کی فراہمی کی یقین دہانی کے بعد کوئی فیصلہ کریں گے۔

علاقہ گومل خیبر پختونخوا کے انتہائی پسماندہ جنوبی ضلع ٹانک میں واقع ہے اور یہاں بنیادی ضروریات کا فقدان ہے۔ پینے اور آبپاشی کا پانی دستیاب نہیں ہے، بجلی کے کھمبے اور تاریں لگی ہوئی ہیں لیکن بجلی نہیں ہے۔ بے روزگاری اور غربت عام ہے۔

علاقہ گومل کی آبادی کوئی تین لاکھ ہے اور یہ قومی اسمبلی کا حقلہ این اے 37 ہے جہاں سے مولانا فضل الرحمان، فیصل کریم کنڈی اور داور کنڈی جیسی شخصیات کامیاب ہو چکی ہیں۔

اس مرتبہ مولانا فضل الرحمان کے بیٹے اسد محمود، پاکستان تحریک انصاف کے حبیب اللہ کنڈی اور پی ٹی آئی کے سابق رکن داور کنڈی اس مرتبہ آزاد حیثیت سے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔

علاقے میں پوسٹرز آویزان کیے گئے ہیں اور بعض مقامات پر آگہی مہم بھی شروع کی گئی ہے جہاں اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

ان لوگوں کا کہنا تھا کہ اس علاقے میں بنیادی سہولیات کی دستیابی تو کیا اب پینے کا پانی ملنا مشکل ہے۔

مقامی نوجوان حبیب اللہ بیٹنی نے بی بی سی کو بتایا کہ گومل زام ڈیم بننے سے جو پہلے تھوڑا بہت بارانی پانی آجاتا تھا اب تو اس سے بھی محروم ہو گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جو بھی نمائندہ اس علاقے سے منتخب ہو کر گیا ہے وہ پانچ سال میں ادھر پھر واپس نہیں آیا، روزگار کے لیے نوکریاں بیچی جاتی ہیں اور بجلی فراہم نہیں کی جاتی۔

علاقہ گومل میں گومل ڈیم اور چشمہ رائیٹ بینک کینال بننے سے لوگوں کو آبپاشی کا پانی اب دستیاب نہیں ہے۔

ان لوگوں نے اپنے مسائل بیان کرتے ہوئے کہا کہ انھیں نہری پانی بھی دستیاب نہیں ہے اس لیے ان کی زمینیں بنجر پڑی ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے اپنے پانچ سالہ دور اقتدار میں سب سے کم فنڈز ضلع ٹانک کے لیے مختص کیے تھے جبکہ وزیر اعلیٰ کے حلقہ نوشہرہ اور سپیکر صوبائی اسمبلی اسد قیصر کے حقلوں کے لیے سب سے زیادہ ترقیاتی منصوبے منظور کیے گئے تھے۔

ضلع ٹانک، کلاچی اور ڈیرہ اسماعیل خان میں ایسے علاقے ہیں جہاں انسان اور جانور جوہڑوں پر کھڑا مضر صحت پانی پینے پر مجبور ہیں جبکہ ان علاقوں میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کہیں زیادہ ہے۔

علاقہ گومل کی حالیہ تحریک کے حوالے سے مقامی لوگوں نے کہا کہ وہ عنقریب ایک جلسہ منعقد کریں گے جس میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

اسی بارے میں