الیکشن 2018: جیپ کا نشان،’آپ خود اندازہ کر سکتے ہیں کہ جیپ کون چلائے گا‘

پاکستان تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان میں الیکشن کی آمد آمد ہے اور ملک کی دو مقبول ترین جماعتیں، پاکستان مسلم لیگ نون اور پاکستان تحریک انصاف کے انتخابی نشانات کا چرچا تو ہر جانب ہے اور ان کے سیاسی نعرے بھی انھی نشانات کے گرد گھوم رہے ہوتے ہیں۔

کہیں مریم نواز 'شیر' کی ٹویٹ کرتی ہیں تو کہیں پی ٹی آئی کے حمایتی 'ٹھپہ صرف بلے کا' کے نعرے بلند کرتے ہیں تاکہ وہ ووٹروں کو قائل کر سکیں کہ 25 جولائی کو ان کے انتخابی نشانات پر ٹھپہ لگائیں۔

اسی حوالے سے جب ملک کے سابق وزیر داخلہ اور نواز لیگ کے تاحیات قائد نواز شریف کے 34 برس تک قریبی رفیق چوہدی نثار علی خان نے الیکشن کے لیے اپنی جماعت کا ساتھ دینے سے انکار کرتے ہوئے قومی اسمبلی کے دو حلقوں سے آزاد امیدوار کی حیثیت سے حصہ لینے کا اعلان کیا تو اس کے لیے انھیں الیکشن کمیشن پاکستان کی جانب سے 'جیپ' کا نشان الاٹ کیا گیا۔

الیکشن 2018 کی تفصیلی کوریج کے لیے مزید پڑھیے

لیکن غور طلب بات یہ تھی کہ چوہدری نثار علی خان اس نشان کو حاصل کرنے والے اکیلے شخص نہیں تھے۔

30 جون کو الیکشن کمیشن کی جانب سے دی گئی امیدواروں کی نامزدگی کی آخری تاریخ آئی تو جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے نواز لیگ کے کم از کم چھ مزید امیدواروں نے بھی جماعت کی جانب سے دی گئی ٹکٹیں واپس کر دیں اور آزادانہ طور پر انتخابات لڑنے کا فیصلہ کیا۔

ان تمام امیدواروں کے درمیان قدرِ مشترک: انتخابی نشان 'جیپ'۔

ملک کے سابق وزیر داخلہ کے علاوہ 'جیپ' کا نشان پاکستان مسلم لیگ کے سابق رہنما زعیم قادری کو بھی لاہور میں قومی اسمبلی کی نشست 125 سے الاٹ کر دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ چند روز قبل زعیم قادری نے پارٹی کے رہنماؤں سے اختلافات کے بعد علیحدگی کا فیصلہ اختیار کرتے ہوئے لاہور کے حلقے این اے 125، 133 اور 134 سے آزادانہ طور پر انتخاب لڑنے کا اعلان کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

'جیپ' کی اچانک پھیلنے والی مقبولیت کے بعد مختلف حلقوں میں چہ مگوئیاں شروع ہو گئیں اور ان میں سب سے واضح آواز مسلم لیگ نواز کے تاحیات قائد، اور تین دفعہ کے وزیر اعظم محمد نواز شریف کی تھی جو اس وقت اپنی بیمار اہلیہ کی تیمارداری کے لیے لندن میں موجود ہیں۔

سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے نواز شریف الیکشن سے پہلے کی جانے والی 'دھاندلی' کی شکایت کرتے ہیں اور اپنی جماعت کے امیدواروں کو ہراساں کیے جانے اور عدلیہ کی جانب سے نااہل قرار دیے جانے کی تنقید کرتے ہیں۔

'ہمارے کئی اور امیدوار ہیں جن کی وفاداریاں تبدیل کرائیں گئیں اور بہت سے لوگوں کو پی ایم ایل این چھوڑ کی پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کرنے پر مجبور کیا گیا یا ان کو جیپ کے نشان پر لڑنے کے لیے کہا گیا۔ اب یہ جیپ کس کا نشان ہے، یہ آب خود جانتے ہوں گے۔'

نواز شریف کی تنقید کے علاوہ سوشل میڈیا پر بھی کئی مبصرین اور صارفین نے 'جیپ' کی مقبولیت پر شکوک کا اظہار کرتے ہوئے اشارہ کیا کہ دال میں کچھ کالا ہے۔

ایک صارف باسط نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ 'نواز لیگ کے وہ امیدوار جنھوں نے اپنی ٹکٹ واپس کی ہیں، ان تمام نے انتخابی نشان جیپ کے لیے درخواست کی ہے۔ #اتفاق'

ٹی وی اینکر ندیم ملک میں اپنی ٹویٹ میں سوال اٹھایا کہ نواز لیگ کے کتنے امیدوار جیپ کے نشان سے لڑیں گے؟

ایک اور صارف ڈاکٹر مہر علی نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ 'تمام محب وطن آزاد امیدواروں کو جیپ کا نشان الاٹ کر دیا گیا ہے' اور ساتھ میں ایک فوجی جیپ کی تصویر بھی لگائی۔

صارف صلاح الدین یوسفزئی لکھتے ہیں کہ 'پنجاب سے تقریباً تمام آزاد امیدواروں کو جیپ کا انتخابی نشان الاٹ کر دیا گیا ہے اور آپ خود اندازہ کر سکتے ہیں کہ جیپ کون چلائے گا۔جی ہاں، چوہدری نثار۔'

ان شکوک اور قیاس آرائیوں کے حوالے سے ٹی وی اینکر طلعت حسین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود راجن پور میں موجود ہیں جہاں سے نواز لیگ کے شیر علی گورچانی اور دیگر نے پارٹی ٹکٹ واپس کر دیے ہیں اور اب جیپ کے نشان پر لڑ رہے ہیں۔

'یہ نہایت حیران کن فیصلہ ہے جس کی کوئی سیاسی وضاحت یا منطق نہیں نظر آتی۔ مقامی طور پر میں نے معلوم کیا تو وہ امیدوار جو ایک رات قبل تک جماعت کے حق میں انتخابی مہم چلا رہے تھے اور نعرے لگوا رہے تھے، صرف تین گھنٹے بعد انھوں نے اپنی حمایت کا رخ تبدیل کر دیا۔' اس بارے میں مزید تبصرہ کرتے ہوئے طلعت حسین نے کہا کہ خیال یہ ظاہر کیا جا رہا کہ ان تبدیلیوں کے پیچھے چوہدری نثار کا ہاتھ ہے۔

'آپ یہ دیکھیں کہ اتنے اہم امیدواروں کا آخری دن پارٹی چھوڑ جانے کا فیصلہ ہو لیکن پارٹی کے صدر شہباز شریف کی جانب سے کوئی فون کال نہ آئے حالانکہ ان کا اس علاقے میں کچھ اثر و رسوخ ہے اور وہ یہاں پر مقبول بھی ہیں۔'

اسی بارے میں بات کرتے ہوئے جیو نیوز کے الیکشن سیل سے وابستہ صحافی ماجد نظامی نے کہا کہ جیپ کا نشان والے امیدواروں کی تعداد 10 سے 12 سے زیادہ نہیں ہوگی اور انتخابات سے قبل ہی اس بات کے اشارے تھے کہ نواز لیگ کے رہنما اور امیدوار چوہدی نثار کی جانب دیکھ رہے تھے اور ان کی فیصلے کے منتظر تھے۔

'چوہدری نثار کے پارٹی سے اختلافات کے بعد سے یہ بات سامنے آئی تھی کہ کئی رہنما ان کا ساتھ دیں گے اور وہ منتظر تھے کہ چوہدی نثار کب اپنی منصوبہ بندی ظاہر کریں گے۔ کیونکہ ان کا فیصلہ بالکل آخر میں سامنے آیا ہے اس لیے زیادہ لوگ ان کا ساتھ نہیں دے سکیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

نواز لیگ کا ساتھ چھوڑنے والوں میں جنوبی پنجاب سے ہی چند اور بھی امیدوار ہیں لیکن ان کو ’جیپ‘ کے بجائے ’بالٹی‘ اور ’موبائل فون‘ کا انتخابی نشان الاٹ ہوا ہے۔

البتہ سینئیر سیاسی تجزیہ کار نصرت جاوید نے کہا کہ ان کی نظر میں آزاد امیدواروں کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے اور انتخابی نتائج میں ان کا کردار سرسری ہی رہے گا۔

'پاکستان میں یہ پہلی دفعہ نہیں ہو رہا ہے کہ آزاد امیدواروں کو اس طرح جمع کیا گیا ہو اور ماضی میں اس کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ آزاد امیدواروں میں سے جن کی جیت ہوگی وہ حکومت بنانے والی جماعت کے ساتھ ہی جائیں گے۔ لیکن چند ایک مقامات کے علاوہ پاکستان میں لوگ ابھی بھی سیاسی جماعتوں کو ووٹ دیتے ہیں، نہ کہ آزاد امیدواروں کو۔ یہ سب شور شرابہ زیادہ ہے۔'

امیدوار کا نام امیدوار کا حلقہ
چوہدری نثار علی خان این اے 59، این اے 63، پی پی 10، پی پی 12
زعیم قادری این اے 125
شیر علی گورچانی این اے 193، پی پی 293
پرویز گورچانی پی پی 295
اطہر گورچانی پی پی 294
یوسف خان دریشک پی پی 296
ڈاکٹر حفیظ دریشک این اے 194
سلطان محمود ہانجرا این اے 181

دوسری جانب پنجاب کے سیاسی منظرنامے پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آزاد امیدوار ہوا کے رخ پر چلتے ہیں اور ان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ ان کے ساتھ ملیں جو طاقت میں ہو۔

'میرا نہیں خیال کہ جنوبی پنجاب کے یہ سیاستدان چوہدری نثار کے ساتھ کسی حکمت عملی کے ساتھ گئے ہیں کیونکہ ان کا دائرہ اثر وسطی یا شمالی پنجاب میں زیادہ ہے۔ وہ تو صرف اپنے لیے راستے کھلے رکھنے چاہتے ہیں۔'

سہیل وڑائچ نے نصرت جاوید کے نکتے کی تائید کرتے ہوئے مزید کہا کہ پنجاب میں انتخابات کی تاریخ بتاتی ہے کہ صوبے میں اکثریت ووٹ جماعتی بنیادوں پر پڑتا ہے اور اس حساب سے زیادہ سے زیادہ آٹھ سے دس آزاد امیدواروں کی جیت متوقع ہے۔'

اسی بارے میں