الیکشن 2018: ’سوچا کہ اگر ایک عورت ووٹ ڈال سکتی ہے تو وہ الیکشن میں کھڑی بھی ہو سکتی ہے'

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
حمیدہ کا کہنا ہے کہ اگر خواتین کے پردے اور عزت کا خیال رکھا جائے تو کسی کو کوئی اعتراض نہیں

خیبر پختونخوا کے گاؤں عُشیری درہ میں یہ یقینا ایک عجیب منظر ہے جہاں ایک خاتون سڑک پر آتے جاتے مردوں میں پمفلٹ تقسیم کر رہی ہیں۔ کبھی وہ کسی دکان کے پاس رکتی ہے اور وہاں موجود مرد حضرات کو بتاتی ہیں کہ وہ ان کی بہن ہیں اور 'بہن کو ووٹ ملنا چاہیے'۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ تمام مرد حضرات رکتے ہیں، ان کی بات سنتے ہیں، ان کے سر پر ہاتھ رکھتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ وہ جلد فیصلہ کریں گے کہ کِس پارٹی یا امیدوار کی حمایت کرنی ہے۔

بی بی سی اردو کی خصوصی الیکشن کوریج

عشیری درہ پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کی تحصیل دِیر بالا میں واقع ہے اور پمفلٹ بانٹنے والی یہ خاتون پاکستان تحریکِ انصاف کی حمیدہ شاہد ہیں۔ دِیر بالا وہی علاقہ ہے جو ماضی میں خواتین کو ووٹ ڈالنے کی اجازت نہ دیے جانے کی وجہ سے خبروں میں رہا ہے۔ اور رواں برس فروری میں ضمنی انتخابات میں یہاں خواتین نے تقریباً چار دہائیوں کے بعد پہلی بار حقِ رائے دہی استعمال کیا تھا۔

حمیدہ شاہد نے یہاں بھرپور انتخابی مہم کا آغاز کر دیا ہے، وہ صوبائی اسمبلی کی نشست پی کے 10 سے الیکشن لڑ رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ وہ دِیر کی خواتین کے لیے مثال بننا چاہتی ہیں، 'میں نے سوچا کہ اگر ایک عورت ووٹ ڈال سکتی ہے تو وہ الیکشن میں کھڑی بھی ہو سکتی ہے۔'

عشیری درہ حمیدہ کے انتخابی دفتر سے تقریبا دو گھنٹے کی مسافت پر ہے، یہاں جانے کے لیے سڑک انتہائی خستہ حال ہے جبکہ آبادی تک جانے کے لیے پرپیچ چڑھائی والا راستہ ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’دِیر کے اس غریب علاقے میں انفراسٹرکچر نام کی کوئی شے نہیں، یہاں سڑکیں، اسپتال، بجلی، پینے کا صاف پانی حتیٰ کہ سکول تک موجود نہیں، پچھلے ساٹھ سالوں میں جب بھی الیکشن ہوئے کوئی نہ کوئی تو جیتتا ہی رہا مگر مذہب کے نام پر مقامی آبادی کو ٹیکہ لگایا گیا اور جیتنے کے بعد کوئی یہاں کا رُخ نہیں کرتا تھا۔ لیکن میں اب تبدیلی لاؤں گی۔'

یہ بھی پڑھیے

’پہلے خواتین نے ووٹ ڈالا اب ایک قدم آگے جانا چاہتی ہوں‘

الیکشن 2018: ’ایک عورت ہو کر کیسے سیاست کر لی‘

وہ یہ تبدیلی کیسے لائیں گی؟

اس علاقے میں خواتین کے پردے کی سخت پابندی ہے، حمیدہ شاہد گھر گھر جا کر پہلے مردوں سے ملتی ہیں اور پھر اسی گھر کی خواتین کے پاس بیٹھ جاتی ہیں۔

خواتین کو یہ ایک انہونی سی بات لگتی ہے کہ 'ایک عورت مردوں کی طرح الیکشن لڑ رہی ہے اور وہ ہم عورتوں سے ووٹ بھی مانگ رہی ہے'۔ ان سب خواتین کی آنکھوں میں چمک کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

Image caption حمیدہ شاہد کہتی ہیں کہ ماضی میں خواتین کے ووٹ نہ ڈالنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ کوئی ان کے پاس ووٹ مانگنے نہیں آیا

ایک گھر میں حمیدہ کے گرد درجن بھر خواتین جمع ہوئیں تو میں نے پوچھا کہ کیا آپ میں سے کوئی کبھی سکول گئی ہیں؟ سمیرہ نامی ایک لڑکی نے بتایا کہ وہ مڈل تک سکول جا سکیں اور پھر قریبی علاقے میں لڑکیوں کا ہائی سکول نہ ہونے کے باعث تعلیم جاری نہیں رکھ سکیں۔

اس سوال پر کہ حمیدہ شاہد کے بارے میں وہ کیا کہیں گی تو ان کا کہنا تھا کہ یہ ان کے لیے ناقابلِ یقین ہے کہ ایک خاتون اتنی ہمت دِکھا سکتی ہیں۔ انھی میں موجود ایک اور خاتون نے کہا کہ وہ اس بار ضرور ووٹ دیں گی اور قطع نظر کہ ان کے اہل خانہ کس کو ووٹ دیتے ہیں، وہ اپنے ووٹ کا فیصلہ خود کریں گی۔

'ہم عورتوں کے پاس کبھی کوئی ووٹ مانگنے آیا ہی نہیں، پہلی بار کوئی آیا ہے اور ہم سے وعدہ کیا ہے کہ وہ ہمارے مردوں کے لیے روزگار کا موقع پیدا کریں گی، یہاں دستکاری سکول بنائیں گی، ہائی سکول بنائیں گی، سڑک ٹھیک کریں گی اور ہم عورتوں کے اسپتالوں میں لیڈی ڈاکٹر لائیں گی۔ اور کیا چاہییے ہمیں؟'

حمیدہ شاہد بھی اس بات سے اتفاق کرتی ہیں اور کہتی ہیں کہ ماضی میں خواتین کے ووٹ نہ ڈالنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ کوئی ان کے پاس ووٹ مانگنے نہیں آیا۔

'ان خواتین اور ان کے حقوق کو یکسر نظر انداز کیا جاتا رہا ہے، امیدوار اور مقامی افراد گھر کے باہر ہی فیصلہ کر دیتے تھے کہ سیاست صرف مرد کر سکتا ہے اور ووٹ بھی وہی ڈالے گا۔ میں سمجھتی ہوں کہ اگر اگر خواتین کے ووٹوں سے مرد کے جیتنے میں کوئی قباحت نہیں، تو میرے خیال میں یہی خواتین ایک عورت کی حمایت میں نکلیں تو یہ زیادہ بہتر ہے۔'

Image caption عشیری درہ حمیدہ کے انتخابی دفتر سے تقریبا دو گھنٹے کی مسافت پر ہے، یہاں جانے کے لیے سڑک انتہائی خستہ حال ہے

ان کے خیال میں مقامی افراد میں ووٹ سے متعلق آگاہی پھیلانا سب سے اہم قدم ہے۔

'میرے خیال میں جب تک آپ کسی کو پیغام نہیں پہنچائیں گے اور رہنمائی نہیں کریں گے کہ ووٹ کیا ہے تب تک ووٹ کی اہمیت کسی کو پتہ نہیں چلے گی۔ ابھی لوگوں کو ووٹ کی اہمیت کا پتہ چلا ہے خاص طور پر خواتین کو، کہ ہمارے ووٹ کی اہمیت یہ ہے کہ ہم کس رہنما کو چنیں گے اور کس کو ووٹ دیں گے کہ وہ ہمارے آنے والے وقت کے لیے بہتر ہو گا۔‘

خیال رہے کہ ان کا حلقہ جماعتِ اسلامی کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے اور یہاں سے جیت سہل نہیں ہو گی۔ مقامی افراد کے مطابق 2013 کے انتخابات میں اس علاقے سے صرف ایک خاتون نے ووٹ ڈالا تھا جبکہ یہاں تقریباً ایک لاکھ 40 ہزار خواتین ووٹرز رجسٹرڈ تھیں جبکہ الیکشن کمیشن کے مطابق جولائی میں ہونے والے انتخابات میں یہاں رجسٹرڈ ووٹرز میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد خواتین بھی شامل ہیں۔

Image caption حمیدہ شاہد نے بھرپور انتخابی مہم کا آغاز کر دیا ہے

حمیدہ شاہد کا کہنا ہے کہ یہاں الیکشن کے دن خواتین کے ٹرن آؤٹ کا انحصار پردے اور سکیورٹی کے انتظامات پر ہے۔ 'ووٹ کے لیے باہر نکلنا کوئی گناہ نہیں ہے۔ خواتین کے لیے علیحدہ پولنگ بوتھ ہوں گے، جہاں انھیں سکیورٹی ملے گی، پردے کا انتظام ہو گا۔ اگر ان خواتین کے پردے اور عزت کا خیال رکھا جائے تو کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔‘

اسی گاؤں میں ایک خاندان کے سربراہ بخت خان نامی ایک بزرگ سے میں نے سوال کیا کہ وہ خواتین کو ووٹ ڈالنے کی اجازت کیوں نہیں دیتے تو وہ ہنستے ہوئے پشتو میں کہنے لگے: 'ہم تو منع نہیں کرتے، ہمیں تو اِن خواتین نے قابو کیا ہوا ہے ۔ ہم نے بول دیا ہے کہ خاندان کے مرد اور عورتیں بڑا ووٹ ایک سیاسی جماعت اور چھوٹا ووٹ دوسری سیاسی جماعت کو دیں گے۔'

یہاں بڑے ووٹ سے قومی اور چھوٹے ووٹ سے صوبائی اسمبلی کی نشست مراد ہے۔

حمیدہ شاہد پر امید ہیں کہ انھیں کامیابی ملے گی لیکن اس کا فیصلہ انتخابات کے دن ہی ہو گا۔

ہار جیت سے قطع نظر، اس علاقے کی تاریخ میں ایک اہم موڑ ہے جب یہاں کی نمائندگی وہ عورت کر رہی ہے جسے چند برس پہلے تک ووٹ ڈالنے کی اجازت بھی نہیں تھی۔

اسی بارے میں