الیکشن 2018: پی ٹی ایم رہنماؤں کا سیاست میں قدم، مقصد تنظیم کو کمزور کرنا ہے؟

منظور پشتین
Image caption اکثر لوگ یہ خیال ظاہر کر رہے ہیں کہ پی ٹی ایم کے بعص عہدیدار کسی ' ڈیل' کے تحت انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں جس کا بظاہر مقصد تحریک کو کمزور کرنا ہے

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا اور سابقہ فاٹا میں پشتون نوجوانوں کی سرگرم مزاحمتی تحریک پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) نے اپنے آٹھ اہم رہنماؤں کی جانب سے رواں ماہ ہونے والے عام انتخابات میں حصہ لینے کے فیصلے کے بعد انھیں کور کمیٹی کی رکنیت سے فارغ کر دیا ہے۔

ان رہنماؤں میں علی وزیر، محسن داوڑ، عبداللہ ننگیال، محترمہ عصمت شاہ جہاں، رادیش ٹونی، حامد شیرانی، عبد الواحد اور جمال ملیار شامل ہیں۔

پی ٹی ایم کے ایک سرکردہ رہنما ڈاکٹر سید عالم محسود نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ پی ٹی ایم کی کور کمیٹی کے ان آٹھ آراکین کی جانب سے 25 جولائی کو ہونے والے انتخابات میں حصہ لینے کے فیصلے کی وجہ سے کیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ان کے تنظیم سے اخراج کا فیصلہ پی ٹی ایم کے کور کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا جس کی سربراہی تحریک کے سربراہ منظور پشتین نے کی۔

نکالے جانے والے ارکان اسلام آباد، خیبر پختونخوا، فاٹا اور بلوچستان کے مختلف علاقوں سے الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔

پی ٹی ایم کے سربراہ منظور پشتین ابتدا سے ہی اس بات کو دہراتے رہے ہیں کہ ان کی تحریک مزاحمتی ہے جس کا پارلیمانی سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں اور نہ کبھی ان کے رہنماؤں کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دی جائے گی۔ انھوں نے یہ وضاحت بھی کی تھی کہ جو پی ٹی ایم کا عہدیدار انتخابات میں حصہ لے گا وہ تحریک کا حصہ نہیں رہ سکے گا۔

Image caption منظور کے یونیورسٹی میں ان سے جونیئر ایک دوست محمد اسلم نے منظور سے مشورہ کر کے ایک تنظیم کی بنیاد رکھنے کی ٹھان لی تاکہ ان کے علاقے کو درپیش مسائل کے حل کے لیے آواز اُٹھائی جائے

کیا پی ٹی ایم اصل مقصد سے ہٹ گئی؟

پی ٹی ایم ابتدا ہی اس بات پر زور دیتی رہی ہے کہ یہ ایک مزاحمتی تحریک ہے جس کا مقصد احتجاج اور دباؤ کے ذریعے سے اپنے اہداف کا حصول ممکن بنانا ہے جبکہ تحریک کسی حد تک اس مقصد میں کامیاب بھی رہی ہے۔

تاہم ان کے بعض چوٹی کے رہنماؤں کی طرف سے اچانک انتخابی سیاست میں آنے سے کئی قسم کے سوالات نے جنم دیا ہے۔

وزیرستان کے ایک صحافی نے کہا کہ پی ٹی ایم کی تحریک شاید اس وجہ سے تیزی سے مقبول ہوئی کیونکہ ایک تو ان کے مطالبات جائز ہیں اور دوسرا یہ آئین اور اصولوں پر چلنے والے لوگ تھے۔

انھوں نے کہا کہ تحریک کے اہم رہنماؤں نے انتخاب میں حصہ لینے کا فیصلہ کرتے ہوئے تحریک کے بنیادی ایجنڈے سے انحراف کیا ہے لہٰذا ایسے میں لوگ اب طرح طرح کے سوالات تو اٹھائیں گے۔

مزید پڑھیے

’منظور پشتین ہمارا اپنا بچہ ہے، ہم انھیں سنیں گے‘

’مشران محبت سے بات کرتے تھے تو کوئی نہیں سنتا تھا‘

ان کے مطابق بظاہر لگتا ہے کہ پی ٹی ایم سے نکالے جانے والے ممبران اس لیے تحریک میں موجود رہے تاکہ آنے والے الیکشن میں اس کا بھر پور فائدہ اٹھایا جا سکے۔ انھوں نے کہا کہ 'جب ان عہدیداروں کو معلوم ہی تھا کہ پی ٹی ایم کے ایجنڈے پر پارلیمانی سیاست نہیں ہے تو پھر وہ کیوں اس کا حصہ رہے اور اب کیوں الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انھوں نے اس تحریک کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کیا۔'

غدار اور ایجنٹ

پی ٹی ایم ابتدا ہی سے سکیورٹی اداروں اور فوج پر شدید تنقید کرتی رہی ہے جس پر کچھ لوگ اس کے کھل کر حمایت میں نکل آئے جبکہ اکثریتی افراد نے سکیورٹی اداروں کے خلاف نعرے بازی اور ان کی بدنامی کو ملک دشمنی سے تعبیر کیا۔

پشاور کے ایک سینئر صحافی نے کہا کہ 'ملک کے غدار اور این ڈی ایس کے ایجنٹ کیسے اچانک راتوں رات محب وطن ہوئے اور پھر ان کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت بھی مل گئی جبکہ ایک مضبوط سیاسی جماعت کی طرف سے وزیرستان میں ان کے حق میں اپنا مضبوط امیدوار بھی دست بردار کروانا پڑا۔'

انھوں نے کہا کہ کون سیاسی طورپر اتنا نابلد ہوگا کہ اپنے ایک مضبوط امیدوار کو بغیر کسی فائدے کے ایک دوسرے امیدوار کے حق میں دست بردار کرا دے جبکہ اس جماعت کو یقین بھی ہو ان کی جیتنے کے امکانات زیادہ ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ facebook
Image caption عصمت شاہ جہاں کا نام بھی ان رہنماؤں میں شامل ہے جنھوں نے انتخابات میں حصہ لینے کا ارادہ کیا

درپردہ 'معاہدہ'

اکثر لوگ یہ خیال ظاہر کر رہے ہیں کہ پی ٹی ایم کے بعص عہدیدار کسی ' ڈیل' کے تحت انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں جس کا بظاہر مقصد تحریک کو کمزور کرنا ہے۔

ان کے بقول اگر یہ نکالے جانے والے افراد جیت جاتے ہیں تو پھر حکومت کو انھی کے ذریعے سے تحریک کو کنٹرول کرنے میں آسانی ہوگی۔

یہ امر بھی اہم ہے کہ منظور پشتین بدستور پی ٹی ایم کے ایک مقبول رہنما سمجھے جاتے ہیں تاہم اس تحریک کو ایک مخصوص خط پر لانے والے کور کمیٹی کے ارکان اب اس کا حصہ نہیں رہے۔

ادھر پی ٹی ایم کے کور کمیٹی سے نکالے جانے والے رہنماؤں کی طرف سے انتخابات میں حصہ لینے کے فیصلے نے لوگوں کے ذہنوں میں کئی قسم کے شکوک و شبہات اور سوالات کو جنم دیا ہے۔

پی ٹی ایم کور کمیٹی سے نکالی جانے والی خاتون رکن عصمت شاہ جہان نے رابطہ کرنے پر بی بی سی کو بتایا کہ انہیں اخبارات سے معلوم ہوا ہے کہ انہیں تحریک کی کور کمیٹی سے نکال دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے یہ فیصلہ ہوا تھا کہ پی ٹی ایم کو انتخابی سیاست کےلیے استعمال نہیں کیا جائے گا کیونکہ یہ تنظیم نئی نئی وجود میں آئی ہے جس میں مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔

ان کے مطابق ' ہم اپنے وعدے پر اب بھی قائم ہیں ہم نے کبھی پشتون تحفظ تحریک کو اپنے مقاصد کےلیے استعمال نہیں کیا بلکہ جو فیصلہ ہوا تھا اسی پر عمل پیرا ہیں۔'

انھوں نے کہا کہ وہ ایک سیاسی کارکن ہے اور وہ پہلے بھی سیاست سے منسلک رہی ہیں لہذا یہ ان کا بنیادی حق ہے کہ وہ عوام کی فلاح و بہبود کی خاطر انتخابات میں حصہ لیں اور عوام کی خدمت کریں۔ عصمت شاہ جہان اسلام آباد کا حلقہ این اے 54 سے عوامی ورکرز پارٹی کی ٹکٹ پر انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں۔ وہ اس پارٹی کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری کے عہدے پر فائض ہیں۔

خیال رہے کہ تقریباً تین ماہ قبل کراچی میں ہونے والے پی ٹی ایم کے جلسے کے بعد ملک بھر میں ان کے کارکنوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیوں کا آغاز کیا گیا اور ان کے کئی کارکنوں کو حراست میں لیا گیا ۔ گرفتاریوں کا سلسلہ رمضان المبارک کے مہینے میں بھی جاری رہا۔

تاہم اس دوران حکومت اور پی ٹی ایم کے درمیان مسلسل مذاکرت کا سلسلہ بھی جاری رہا اور اس دوران یہ بھی طے پایا کہ تحریک کے کارکنوں کو رہائی اسی صورت میں ملے گی جب پی ٹی ایم مزید جلسوں کا انعقاد نہیں کرے گی جس کے بعد ان کے بیشتر کارکنوں کو رہا کردیا گیا تھا۔ بعد میں پی ٹی ایم نے رزمک میں ہونے والے ایک جلسے کو ملتوی کرنے کا اعلان بھی کیا تھا۔

اسی بارے میں