ردیش سنگھ ٹونی: عام انتخابات میں خیبر پختونخوا کے واحد سکھ امیدوار

ردیش سنگھ
Image caption ردیش سنگھ ٹونی پشاور کے حلقہ پی کی 75 پر انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں

خیبر پختونخوا کے شہر پشاور میں سکھ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے ردیش سنگھ صوبے میں وہ واحد اقلیتی امیدوار ہیں جو جنرل سیٹ پر اکثریتی بڑی سیاسی جماعتوں کے مضبوط امیدواروں کے سامنے میدان میں اترے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ مقابلہ مشکل ہے۔ خوف بھی ہے لیکن وہ پرامید ہیں کہ لوگ انھیں ووٹ ضرور دیں گے۔

بی بی سی اردو کی خصوصی الیکشن کوریج

ردیش سنگھ ٹونی پشاور کے حلقہ پی کی 75 پر انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں اور ان دنوں وہ گھر گھر جا کر لوگوں سے ووٹ کی اپیلیں کر رہے ہیں۔

پشاور کے قصہ خوانی بازار میں جنگی محلے میں قائم چھاپہ خانوں سے اپنے پوسٹرز اور سٹکرز لینے خود گئے تھے۔ واپسی پر ان سے قصہ خوانی بازار میں ملاقات ہوئی تو ان کا کہنا تھا کہ ابھی تو وہ اور ان کے بیٹے انتخابی مہم شروع کیے ہوئے ہیں لیکن انھیں اہل علاقہ کی حمایت حاصل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کا مقابلہ مشکل ہے اور انھیں تھوڑا بہت خوف بھی ہے کیونکہ چند روز پہلے انھی کی کمیونٹی کے ایک رکن کو قتل کر دیا گیا تھا لیکن دوسری جانب وہ پر امید ہیں کہ ان کے ساتھ ایسا کچھ نہیں ہوگا اور وہ لوگوں کی حمایت سے کامیاب ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیے

’پاکستان کی سرزمین ہمارے لیے مقدس ہے‘

چرن جیت سنگھ: سکھوں کے مذہبی رہنما اور امن کے داعی

’والدین نے کہا تم غلط راستے پر ہو مگر پہلی رپورٹ کے بعد سب خوش تھے‘

انھوں نے کہا کہ علاقے میں مسلمان اور دیگر مذاہب کے بزرگ مرد اور خواتین انھیں دعائیں دیتے ہیں اور ان کی کامیابی کے لیے کوشاں ہیں۔

خیبر پختونخوا میں وہ واحد امیدوار ہیں جن کا تعلق اقلیت سے ہے اور وہ جنرل نشست پر مقابلہ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 2003 کے بعد جب اقلیتوں کے علیحدہ انتخاب کا سلسلہ ختم کر دیا گیا تھا تو اس کے بعد یہاں سے کوئی جنرل نشست پر مقابلے میں نہیں آیا اب وہ واحد امیدوار ہیں جو یہ مقابلہ کر رہے ہیں۔

ردیش سنگھ بلدیاتی انتخابات میں اقلیتوں کی نشست پر کونسلر منتخب ہوئے تھے لیکن عام انتخابات میں حصہ لینے کے لیے انھوں نے کونسلر کی نشست سے استعفی دے دیا۔

ردیش سنگھ کی عمر 49 سال ہے ان کے تین بیٹے ہیں اور وہ سنہ 2011 تک پاکستان تحریک انصاف میں اقلیتی ونگ کے رہنما رہے۔

انھوں نے کہا کہ 2011 کے بعد جماعت کے حالات ایسے ہو گئے تھے جس میں امرا کو ترجیح دی جانے لگی اس لیے ان کے لیے جماعت میں جگہ نہیں رہی۔

انھوں نے پشتون تحفظ موومنٹ کی حمایت کا اعلان بھی کیا تھا لیکن وہ اب اس تنظیم کے رکن بھی نہیں رہے کیونکہ پی ٹی ایم نے ان تمام رہنماؤں کو جماعت سے نکال دیا ہے جنھوں نے انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

Image caption ردیش سنگھ کہا کہ علاقے میں مسلمان اور دیگر مذاہب کے بزرگ مرد اور خواتین انھیں دعائیں دیتے ہیں اور ان کی کامیابی کے لیے کوشاں ہیں۔

ردیش سے جب پوچھا کہ کیا سیاسی جماعتوں سے انھوں نے رابطے کیے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ مزدور کسان پارٹی اور دیگر ایک دو جماعتوں نے ان کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ غریب جماعتیں ہیں انھوں نے پوسٹرز اور سٹکرز کی چھپائی میں ان کی مدد کی ہے اور وہ پر امید ہیں کو لوگ صحیح فیصلہ کریں گے۔

مزدور کسان پارٹی کے رہنما محمد نظیف نے بی بی سی کو بتایا کہ ردیش سنگھ کا انتخاب میں حصہ لینا اہل پشاور کے لیے فخر کا باعث ہے۔

انھوں نے کہا اس سے بین الاقوامی سطح پر ان کا اچھا امیج سامنے آئے گا اور ساری دنیا کو معلوم ہوگا کہ پشتونوں میں رواداری اور برداشت ہے اور وہ تمام مذاہب کے لوگوں کے ساتھ برادرانہ تعلقات رکھتے ہیں۔ انھوں نے دیگر اقلیتوں سے بھی کہا کہ وہ بھی جنرل نشست پر انتخابات میں حصہ لیں۔

ردیش سنگھ ٹونی کو دیگر اقلیتوں نے حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے تاہم ان کی کوشش ہے کہ اکثریتی حلقوں سے بھی انھوں حمایت مل جائے تو ان کی کامیابی یقینی ہے۔

اسی بارے میں