فاٹا کے انضمام کے بعد قبائلی علاقوں میں انتخابات کی تیاریاں اور گہما گہمی

فاٹا، خیبر الیکشن
Image caption امیدوار کے مرکزی انتخابی دفتر کئی ایکڑ کے رقبے پر مشتمل تھا

پاکستان میں وفاق کے زیرانتظام سابق قبائلی ایجنسیوں میں جوں جوں الیکشن کا دن قریب آرہا ہے توں توں وہاں انتخابی سرگرمیاں بھی عروج پر پہنچ رہی ہے جبکہ فاٹا کے بعض حلقوں میں ووٹروں کی جانب سے توقع سے بڑھ کر روایتی جوش و خروش دکھائی دے رہا ہے۔

صوبائی دارالحکومت پشاور سے ملحق قبائلی ضلع اور حلقہ این اے 43 خیبر ون آج کل انتخابی سرگرمیوں میں لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

بی بی سی اردو کی خصوصی الیکشن کوریج

اس حلقے سے ویسے تو کئی سیاسی جماعتوں یا آزاد حیثیت میں امیدوار ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں لیکن مقامی صحافیوں اور سیاسی پنڈتوں کے بقول اصل مارکہ آزاد امیدوار اور سابق ایم این اے حاجی شاہ جی گل آفریدی اور پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار نور الحق القادری کے درمیان متوقع ہیں۔

دونوں امیدوار اس سے پہلے اس حلقے سے قومی اسمبلی کے رکن رہ چکے ہیں۔ دونوں امیدوار راویتی طورپر ایک دوسرے کے حریف بھی بتائے جاتے ہیں۔

پشاور سے بذریعہ سڑک جب ضلع خیبر کے اس حلقے میں داخل ہوئے تو پہلی نظر میں ہی ایسا لگا جسے پورے فاٹا کا انتخابی دنگل یہاں سجایا گیا ہے۔

فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کی قومی اسمبلی سے منظوری

عام انتخابات میں خیبر پختونخوا کے واحد سکھ امیدوار

فاٹا عبوری گورننس ریگولیشن میں کیا ہے؟

کارخانو مارکیٹ سے لے کر لنڈی کوتل بازار تک ہر طرف مرکزی پاک افغان شاہراہ پر جگہ جگہ امیدواروں اور ان کی حامیوں کی طرف سے جھنڈے اور خیرمقدمی بنینرز لگائے گئے ہیں۔ اس اہم شاہراہ کے دونوں جانب نظر دوڑائیں تو دور دور تک ہر طرف بھرپور الیکشن کا ماحول نظر آتا ہے۔

Image caption جگہ جگہ امیدواروں اور ان کی حامیوں کی طرف سے جھنڈے اور خیرمقدمی بنینرز لگائے گئے ہیں

یہاں اردگرد شاید کوئی ایسا مقام ہو گا جہاں کسی امیدوار کے بڑے بڑے پوسٹرز یا پینافیلکس نظر نہ آتے ہوں۔ مقامی لوگوں نے سڑک کے قریب واقع اپنے گھروں پر بھی اپنے پسند کے امیدواروں کے پوسٹرز اور جھنڈیاں سجائی ہوئی ہیں جس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ کون سا گاؤں یا محلہ کس کس امیدوار کا حامی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ اس اہم شاہراہ پر ہر پانچ چھ کلومیٹرکے فاصلے پر مختلف سیاسی جماعتوں کے الیکشن دفاتر بھی دکھائی دیتے ہیں جہاں مختلف جماعتوں کے حامی اور کارکن کرسیوں پر براجمان نظر آئے۔ ان سیاسی جماعتوں کے کارکنوں میں اکثریت نوجوان کی ہے جو روایتی جوش و جذبے سے سرشار دکھائی دیے۔

بی بی سی اردو کی خصوصی الیکشن کوریج

ایک نوجوان جلال خان سے پوچھا کہ وہ کیوں اتنا پرجوش ہیں جس پر اس نے کہا کہ الیکشن کا ماحول ہے اور ان کا امیدوار بھی نوجوان ہے لہٰذا ان کی کامیابی قبائلی نوجوانوں کی کامیابی ہے۔

انھوں نے کہا کہ فاٹا انضمام کے اعلان کے بعد اب ہر قبائلی کو آزادی حاصل ہے اور عمومی طورپر امن و امان بھی بہتر ہے لہٰذا ایسے ماحول میں اچھے مقابلے کی توقع کی جارہی ہے۔

قومی اسمبلی کے حلقہ 43 خیبر میں امیدواروں نے الیکشن مہم بہتر سے بہتر چلانے کے لیے بڑے بڑے اور وسیع و عریض رقبے پر مشتمل دفاتر بنا رکھے ہیں جہاں صبح سے لے کر شام تک پارٹی کارکنوں اور حامیوں کے ہجوم نظر آتے ہیں۔

ہم نے ایک امیدوار کے مرکزی انتخابی دفتر کا دورہ کیا جو کئی ایکڑ کے رقبے پر مشتمل تھا اور جہاں سینکڑوں کی تعداد میں افراد کےلیے قیام و طعام کا بندوست کیا گیا تھا۔ دوپہر کے کھانے میں یہاں ووٹروں کو چاول پیش کیے جارہے تھے۔

Image caption 2018 کے عام انتخابات میں سابق فاٹا کی ایجنسیوں سے قومی اسمبلی کی 12 نشستوں پر ووٹ ڈالے جائیں گے

لنڈی کوتل کے ایک سینئر صحافی سدھیر احمد آفریدی نے کہا کہ پشاور سے بھی زیادہ گہما گہی اور جوش خیبر کے حلقے میں نظر آ رہا ہے کیونکہ یہاں امیدوار بے دریغ رقم اور دیگر وسائل خرچ کررہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ بعض مقامات پر امیدواروں نے پورے قبیلے کے ووٹ حاصل کرنے خاطر بجلی کے کھمبوں کی دستیابی اور پانی کی کمی کے حل کے ساتھ ساتھ ووٹروں کی بڑے پیمانے پر ضیافت کا بندوبست بھی کیا ہوا ہے۔ انھوں نے کہا کہ شاید پہلے انتخابی مہم کے دوران اس قسم کا رحجان اتنا زیادہ نہیں ہوا کرتا تھا لیکن اس مرتبہ حالات مختلف ہیں۔

2018 کے عام انتخابات میں سابق فاٹا کی ایجنسیوں سے قومی اسمبلی کی 12 نشستوں پر ووٹ ڈالے جائیں گے۔ جس میں سینکڑوں امیدوار مدمقابل ہیں۔ مختلف علاقوں سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق خیبر پختونخوا کے مقابلے میں فاٹا میں انتخابی مہم میں زیادہ گہما گہمی نظر آرہی ہے۔

قبائلی علاقوں میں گذشتہ الیکشن انتہائی خوف اور کشیدگی کے ماحول میں منعقد ہوا تاہم حالیہ مہم انتہائی پرامن طریقے سے جاری ہے۔ انتخابی امیدواروں کی طرف سے تاحال ایسی کوئی اطلاعات بھی سامنے نہیں آئی ہے جس میں ان کی جانب سے سکیورٹی کی کوئی شکایت کی گئی ہے یا انھیں کسی قسم کی مشکل یا دباؤ کا سامنا ہو۔

تاہم خیبر میں انتخابی مہم کے دوران امیدواروں کے بیشتر جلسوں اور کارنر میٹنگز میں مسلح افراد دکھائی دیے جو بظاہر سکیورٹی پر مامور ہیں۔

ایک نوجوان نے کہا کہ امن و امان کا بظاہر تو کوئی مسلہ نظر نہیں آرہا لیکن امیدوار اپنے حفاظت کی خاطر مسلح محافظوں کو اپنے ساتھ رکھتے ہیں جس سے بہرحال ایک خوف کی کفیت پیدا ہونا لازمی بات ہے۔

اسی بارے میں