آئی ایس آئی ہیڈکوارٹر کے سامنے بند سڑک کھولنے میں مہلت کا فیصلہ معطل

Image caption آئی ایس آئی کے ہیڈ کوارٹر کے سامنے سے گزرنے والی سڑک عام ٹریفک کے لیے بند ہے

پاکستان کی عدالت عظمی نے فوج کے خفیہ ادارے انٹر سروسز انٹیلیجنس یعنی آئی ایس آئی کے ہیڈ کوارٹر کے سامنے سے گزرنے والی سڑک کھولنے میں مہلت سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کر دیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزارت دفاع کو یہ سڑک کھولنے کے لیے چھ ہفتے کی مہلت دی تھی تاہم عدالت عالیہ کے سڑک کھولنے کے فیصلے کو وزارت دفاع نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔جسے چند گھنٹوں کے بعد ہی سماعت کے لیے منظور کر لیا گیا۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے بدھ کو اس درخواست کی سماعت کی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے وفاقی دارالحکومت میں تجاوزات سے متعلق مقدمے کی سماعت کے دوران آئی ایس آئی کے ہیڈ کوارٹر کے سامنے سے گزرنے والی سڑک خیابان سہروردی کے کچھ حصے کو، جو عرصہ دراز سے بند ہے، دوبارہ نہ کھولنے پر سیکرٹری دفاع اور آئی ایس آئی کے سربراہ کو چار جولائی کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق تین جولائی کو وزارت دفاع کی طرف سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی جانے والی ایک متفرق درخواست میں وزارت دفاع نے سڑک کھولنے سے متعلق چھ ہفتوں کی مہلت کے علاوہ سیکرٹری دفاع اور ڈی جی آئی ایس آئی کی حاضری سے استثنی مانگا تھا جسے عدالت نے منظور کر لیا تھا۔

اس درخواست میں یہ موقف اختیار کیا گیا تھا کہ آئی ایس آئی میں سینکڑوں افراد کام کرتے ہیں اور مختلف کالعدم تنظیموں کی طرف سے ان کو سنگین نتائج کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔

اس درخواست میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ وزارت دفاع چھ ہفتوں میں مناسب سکیورٹی کا متبادل انتظام کرنے کے بعد اس سڑک کو کھولنے کے بارے میں عدالت کو آگاہ کرے گی۔

بدھ کو عدالت عالیہ کے فیصلے کے خلاف وزارت دفاع کی درخواست کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’سڑک کو تو ہر حال میں کھولنا پڑے گا۔‘

اُنھوں نے کہا کہ اگر اس ضمن میں فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ کو بھی بلانا پڑا تو اس سے بھی دریغ نہیں کیا جائے گا۔

عدالت نے سی ڈی اے حکام سے استفسار کیا کہ کیا ماسٹر پلان میں سڑک کے اس حصے کو بند رکھنے کی کوئی تجویز دی گئی تھی جہاں پر آئی ایس آئی کا ہیڈکوارٹر واقع ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہائی کورٹ (اسلام آباد) کے پاس از خود نوٹس لینے کا اختیار نہیں ہے جس پر عدالت نے اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کر دیا

سماعت کے دوران عدالت میں ایک دستاویز بھی پیش کی گئی جس میں کہا گیا ہے کہ سی ڈی اے نے سڑک کا وہ حصہ جس کو بند کر دیا گیا ہے اس کو آئی ایس آئی کو آلاٹ کر دیا ہے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ آئی ایس آئی کے ہیڈکوارٹرکے سامنے سے گزرنے والی سڑک دوبارہ کھلوانے سے متعلق کوئی درخواست نہیں آئی تھی بلکہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے از خود نوٹس لیتے ہوئے سڑک کے اس حصے کو دوبارہ کھولنے کا حکم دیا ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہائی کورٹ کے پاس از خود نوٹس لینے کا اختیار نہیں ہے جس پر عدالت نے اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کر دیا۔

واضح رہے کہ چند ماہ قبل اسلام آباد میں تجاوزات کے بارے میں از خود نوٹس لیتے ہوئے سپریم کورٹ نے وفاقی دارالحکومت میں واقع دو فائیو سٹار ہوٹلوں کے سامنے سے گزرنے والی بند شاہراؤں کو دوبارہ کھولنے کا حکم دیا تھا۔

اس سماعت کے دوران بھی عدالت کی توجہ آئی ایس آئی کے ہیڈ کوارٹر کے سامنے سے گزرنے والی سڑک کی بندش کے بارے میں دلائی گئی تھی جس پر چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’آبپارہ والوں سے بھی کہیں گے کہ وہ سڑک کھولیں۔‘

تاہم سپریم کورٹ کی طرف سے آئی ایس آئی کے ہیڈ کوارٹر کے سامنے سے گزرنے والی سڑک کو کھولنے سے متعلق کوئی حکم نامہ جاری نہیں کیا تھا۔

اسی بارے میں