نواز شریف اور عدالتیں

نواز شریف تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption نواز شریف اور ان کی صاحبزادی، مریم نواز 80 سے زائد مرتبہ احتساب عدالت میں سماعت کے لیے حاضر ہوئے تاہم فیصلہ سننے کے لیے وہ عدالت میں موجود نہ تھے

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے تین مرتبہ پاکستان کے وزیراعظم رہنے والے سیاستدان میاں نواز شریف کو ایون فیلڈ ریفرنس میں جرم ثابت ہونے پر سزا دس سال قید بامشقت کی سزا سنائی ہے۔

ان کے علاوہ مریم نواز کو سات سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ، بی بی سی اردو کی لائیو کوریج

پارک لین کے فلیٹس کب خریدے گئے، کب بِکے

کیا ملزم کی غیر موجودگی میں فیصلہ سنایا جا سکتا ہے؟

سپریم کورٹ کے احکامات پر ستمبر 2017 میں شروع ہونے والے اس کیس کا فیصلہ دس ماہ کی سماعت کے بعد جمعے کو نیب عدالت کے جج محمد بشیر نے سنایا۔ تاہم نواز شریف سمیت کوئی بھی ملزم اس موقع پر کمرۂ عدالت میں موجود نہیں تھا۔

ماضی میں بھی نواز شریف کو اپنے سیاسی مخالفین کی جانب سے مختلف نوعیت کی عدالتی کاروائیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا اور ان میں سے دو مقدمات میں انھیں سزا بھی ہوئی تھی تاہم ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ ان کے خلاف عدالتی کارروائی ان کی اپنی جماعت کے دورِ حکومت میں شروع ہوئی ہو۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
لندن کے علاقے پارک لین میں واقع ایون فیلڈ فلیٹس کے بارے میں مزید جانیے۔

واضح رہے کہ گذشتہ سال 28 جولائی کو سپریم کورٹ نے پاناما کیس کے مقدمے میں نواز شریف کو نااہل قرار دیتے ہوئے قومی احتساب بیورو کو حکم دیا تھا کہ وہ نواز شریف کے خلاف لندن میں واقع ایون فیلڈ پراپرٹیز کی ملکیت اور اس کی خریداری میں ناجائز ذرائع کے استعمال کے حوالے سے ریفرینسز دائر کریں اور چھ ماہ میں کارروائی مکمل کریں۔

سات مارچ کو پہلی ڈیڈلائن ختم ہونے پر احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے توسیع کی پہلی درخواست کی جس کے بعد مدت 12 مئی تک بڑھا دی گئی۔ اس توسیع کے بعد بھی دلائل مکمل نہ ہونے کے سبب دوسری توسیع نو جون اور تیسری توسیع دس جولائی تک کے لیے دی گئی۔

گذشتہ سال 26 ستمبر کو پہلی بار عدالت میں پیش ہونے کے بعد سے نواز شریف اور ان کی صاحبزادی، مریم نواز 80 سے زائد مرتبہ احتساب عدالت میں سماعت کے لیے حاضر ہوئے تاہم حسن اور حسین نواز ایک مرتبہ بھی عدالت میں نہیں آئے اور عدالت انھیں اشتہاری قرار دے چکی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جنرل پرویز مشرف نے اکتوبر 1999 میں نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا

پاناما کیس میں نااہلی

ماضی میں وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف ہونے والی عدالتی کارروائیوں پر نظر ڈالیں تو گذشتہ برس 28 جولائی کو سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے پاناما لیکس کے معاملے میں اپنے متفقہ فیصلے میں وزیر اعظم نواز شریف کو نااہل قرار دیتے ہوئے ان کے اور ان کے خاندان کے افراد کے خلاف نیب میں ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا تھا۔

اس سے قبل ان کے خلاف مختلف ادوار میں مختلف نوعیت کے مقدمات درج ہوتے رہے ہیں لیکن پہلی بار سزا انھیں سابق آمر جنرل مشرف کے دور میں ہوئی تھی۔

طیارہ سازش کیس

پرویز مشرف کے دور میں نواز شریف کے خلاف لگائے جانے والے مقدمات میں سب سے اہم کیس طیارہ سازش کیس تھا جس میں تختہ الٹنے والے جرنیل نے نواز شریف پر دہشت گردی، قتل کی سازش، ہائی جیکنگ اور اغوا کرنے کے الزامات عائد کیے تھے۔

جنوری 2000 میں کراچی میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے اس کیس کی سماعت شروع کی اور اپریل 2000 میں جج رحمت حسین جعفری نے نواز شریف کو چار میں سے دو الزامات، ہائی جیکنگ اور دہشت گردی کا مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی۔

یاد رہے کہ دسمبر 2000 میں سعودی بادشاہ اور لبنان کے وزیر اعظم رفیق حریری کی درخواست پر پرویز مشرف نے نواز شریف اور ان کے خاندان کو دس سالہ جلاوطنی کی شرط پر معافی دے دی۔

اس معافی کے بعد نواز شریف سمیت شریف خاندان کے بیشتر ارکان نومبر 2007 تک سعودی عرب میں قیام پذیر رہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

1999-2000: مشرف دور کے نیب ریفرینس

1997 میں جب نواز شریف نے دو تہائی اکثریت سے انتخابات میں کامیابی حاصل کر کے دوسری دفعہ وزارت عظمی سنبھالی تو لگتا تھا کہ ان کے سیاسی مخالفین اب کچھ بگاڑ نہ سکیں گے لیکن ڈھائی برس کے قلیل عرصے بعد ہی ان کے چنندہ آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے اکتوبر 1999 میں ان کا تختہ الٹ دیا۔

حکومت سنبھالنے کے بعد پرویز مشرف نے نواز شریف کے خلاف بدعنوانی اور دہشت گردی کے مختلف مقدمات درج کرائے۔

قومی احتساب بیورو (نیب) نے 1999 اور 2000 کے اوائل میں نواز شریف کے خلاف کل 28 مقدمات شروع کیے جن میں سے 15 ناکافی شواہد کی وجہ سے اگلے چار برسوں میں خارج ہو گئے جبکہ نو مقدمات 18 سال گزر جانے کے بعد ابھی بھی زیرِ تفتیش ہیں۔

نیب کی جانب سے شروع کیے جانے والے مقدمات میں سب سے اہم وہ چار ریفرینسز تھے جو احتساب عدالت کو بھیجے گئے تھے۔

ان چار میں سے ہیلی کاپٹر کیس کے نام سے مشہور ہونے والا پہلا ریفرینس اٹک قلعے میں قائم احتساب عدالت میں سنا گیا اور جج فرخ لطیف نے نواز شریف کو 1993 میں خریدے جانے والے چھ لاکھ پاؤنڈ مالیت کے ہیلی کاپٹر پر ٹیکس نہ دینے اور اثاثے ظاہر نہ کرنے کی پاداش میں 14 سال قید کی سزا اور دو کروڑ روپے جرمانہ عائد کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نواز شریف کے خلاف سب سے پہلی عدالتی کارروائی 23 سال قبل بینظیر بھٹو کے دوسرے دورِ حکومت میں ہوئی تھی

احتساب عدالت کے آج کے فیصلے سے قبل اب تک کے لگائے جانے والے کرپشن کے الزامات میں یہ واحد کیس تھا جس میں نواز شریف کو سزا ملی تھی۔

نواز شریف نے اس سزا کے چھ ماہ جیل میں گزارے تاہم دسمبر 2000 میں اس وقت ملک کے فوجی سربراہ جنرل پرویز مشرف کی جانب سے معافی دیے جانے پر وہ پاکستان چھوڑ کر سعودی عرب چلے گئے۔

حدیبیہ ملز ریفرینس

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

یہ وہ معاملہ ہے جس کا ذکر پاناما کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ اور پھر مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی دو ماہ کی تحقیقات کے دوران بھی سنائی دیتا رہا۔

حدیبیہ ملز ریفرینس دائر کرنے کی منظوری مارچ 2000 میں نیب کے اس وقت کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل سید محمد امجد نے دی تھی۔

اگرچہ ابتدائی ریفرینس میں میاں نواز شریف کا نام شامل نہیں تھا تاہم جب نیب کے اگلے سربراہ خالد مقبول نے حتمی ریفرینس کی منظوری دی تو ملزمان میں میاں نواز شریف کے علاوہ ان کی والدہ شمیم اختر، دو بھائیوں شہباز اور عباس شریف، بیٹے حسین نواز، بیٹی مریم نواز، بھتیجے حمزہ شہباز اور عباس شریف کی اہلیہ صبیحہ عباس کے نام شامل تھے۔

یہ ریفرینس ملک کے وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار سے 25 اپریل 2000 کو لیے گئے اس بیان کی بنیاد پر دائر کیا گیا تھا جس میں انھوں نے جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے شریف خاندان کے لیے ایک کروڑ 48 لاکھ ڈالر کے لگ بھگ رقم کی مبینہ منی لانڈرنگ کا اعتراف کیا تھا۔

اسحاق ڈار بعدازاں اپنے اس بیان سے منحرف ہو گئے تھے اور ان کا موقف تھا کہ یہ بیان انھوں نے دباؤ میں آ کر دیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption رائیونڈ کے علاقے جاتی امرا میں شریف خاندان کے رہائش گاہیں واقع ہیں

رائیونڈ سٹیٹ کیس

اس معاملے کا تعلق جاتی امرا میں 401 کنال زمین پر 1992 سے 1999 کے درمیان شریف خاندان کی رہائش گاہ اور دیگر عمارات کی تعمیر کے حوالے سے تھا اور اس میں میاں نواز شریف اور ان کی والدہ شمیم اختر ملزمان تھے۔

ریفرینس میں نواز شریف پر الزام لگایا گیا تھا کہ انھوں نے ان تعمیراتی سرگرمیوں کے لیے جو رقم ادا کی وہ ان کے ظاہر کردہ اثاثوں سے مطابقت نہیں رکھتی تھی۔

ان دونوں ریفرینسز کی سماعت نواز شریف کی ملک بدری کے بعد روک دی گئی اور جب 2013 میں نواز شریف تیسری مرتبہ برسرِاقتدار آئے تو ان کے اس دور میں لاہور ہائی کورٹ نے مارچ 2014 میں یہ دونوں مقدمات خارج کر دیے۔

حیران کن طور پر مضبوط شواہد ہونے کے باوجود نیب کی جانب سے اس اخراج پر سپریم کورٹ میں کوئی اپیل دائر نہیں کی گئی۔

اتفاق فاؤنڈری قرضہ کیس

اس مقدمے میں نیب نے شریف خاندان پر بینکوں کے تین ارب 80 کروڑ روپے کے قرضوں کی عدم ادائیگی کا الزام لگایا تھا اور کہا تھا کہ ادائیگی سے بچنے کے لیے کمپنی نے جان بوجھ کر خود کو دیوالیہ ظاہر کیا۔

اتفاق فاؤنڈری کی فروخت سے حاصل شدہ رقم کی بینکوں کو ادائیگی کے بعد یہ مقدمہ بھی فروری 2015 میں لاہور ہائی کورٹ نے ختم کر دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کراچی میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے طیارہ سازش کیس کی سماعت کی تھی

1994: بینظیر بھٹو دور میں ایف آئی اے کے چالان

ماضی میں وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف ہونے والی عدالتی کارروائیوں پر نظر ڈالیں تو ان کے خلاف سب سے پہلی کارروائی 23 سال قبل بینظیر بھٹو کے دوسرے دورِ حکومت میں ہوئی جب اکتوبر 1994 میں ان کے اور ان کے خاندان کے خلاف رمضان شوگر ملز کے حوالے سے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دی گئی۔

اس کیس میں شریف خاندان پر رقم کی خوردبرد اور غیر مجاز استعمال کا الزام تھا اور اس کی تفتیش سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے کی تھی تاہم 20 سال بعد یعنی سنہ 2014 میں یہ معاملہ رمضان شوگر ملز اور مدعی کے درمیان طے پا گیا۔

1994 میں ہی نومبر کے مہینے میں میں وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے حدیبیہ پیپر ملز اور حدیبیہ انجنیئرنگ کمپنی کے خلاف خصوصی عدالت میں چالان جمع کرایا جس میں نواز شریف پر دھوکہ دہی اور رقم خورد برد کرنے کے الزامات لگائے گئے تھے۔

یکن تین سال بعد جون 1997 میں نواز شریف نے، جو اس وقت ملک کے وزیر اعظم بن چکے تھے، لاہور ہائی کورٹ میں ان دونوں مقدموں سے متعلق رٹ پٹیشنز اس استدعا کے ساتھ جمع کروائیں کہ ایف آئی اے کے دونوں چالانوں کو خارج کر دیا جائے۔

لاہور ہائی کورٹ نے یہ درخواست منظور کر لی اور ایف آئی نے اس فیصلے کے خلاف کوئی اپیل دائر نہیں کی۔

اسی بارے میں