مسلم لیگ نواز کا انتخابی منشور 2018: ماضی کے دو اہم نکتے غائب

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مسلم لیگ نون 2013 کے منشور کے برعکس اپنے نئے منشور میں خفیہ ایجنسیوں کو پارلیمانی نگرانی میں لانے کے دعوے سے دستبردار ہو گئی ہے

مسلم لیگ (ن) کا 2018 کے عام انتخابات کے لیے منشور پہلی نظر میں ہی ایسا لگتا ہے جیسے شہباز شریف نے لکھا ہے نواز شریف نے نہیں۔ اس پر نواز شریف کی چھاپ دکھائی نہیں دے رہی۔ وہ جن مسائل کا پانامہ مقدمے میں نااہل ہونے کے بعد عوامی اجتماعات میں بار بار ذکر کر رہے ہیں ان کے حل کی جانب اشارہ تو دور کی بات ذکر بھی نہیں۔

’ووٹ کو عزت دو، خدمت کو ووٹ دو‘ کے نعرے کے ساتھ 72 صفحات پر مبنی نئے منشور میں جماعت کے قائد نواز شریف کا تفصیلی بیان جس میں وہ 1993 سے ان کی آئین اور پارلیمان کی بالادستی کے لیے جنگ میں ان کے خلاف ہونے والی سازشوں کا ذکر تو ہے لیکن دو اہم نکات ’مسنگ‘ ہیں۔

بی بی سی اردو کی خصوصی الیکشن کوریج

ایک تو ٹروتھ اینڈ ریکنسلیشین (حقائق اور سچ جاننے کے) کمیشن کا 2013 کا وعدہ 2018 کے منشور سے غائب ہے۔ اس کمیشن کی بات نواز شریف گذشتہ دنوں میں کئی مرتبہ کر چکے ہیں لیکن منشور میں اس کا ذکر نہیں۔ اس مجوزہ کمیشن کو پیپلز پارٹی نے اُچک لیا ہے اور اپنے منشور کا حصہ بنایا ہے۔

دوسرا بڑا وعدہ 2013 کے منشور میں واضع طور پر خفیہ ایجنسیوں کو پارلیمانی اورسائٹ یا نگرانی میں لانے کا اعلان بھی تھا۔ پچھلے پانچ سالوں میں اس جانب تو کوئی پیشرفت نہیں ہوئی لہذا لگتا ہے کہ نا امید ہو کر اسے بھی اب نئے منشور کا حصہ بنانا چھوڑ دیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ خفیہ ایجنسیوں کو پارلیمان کا اصل میں پابند بنانے کی جنگ اب مسلم لیگ مزید نہیں لڑنا چاہتی۔

اور یہ بھی پڑھیئے

شہباز شریف مسلم لیگ ن کے بلامقابلہ صدر منتخب

’مسلم لیگ اسٹیبلشمنٹ کی پسند کو آگے لانا چاہتی ہے‘

پاناما کیس مسلم لیگ ن کے لیے چیلنج

مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے پارلیمان کو عزت دو کے نعرے بھی کچھ عرصہ لگائے۔ سال 2013 کے عام انتخابات کا مسلم لیگ (ن) کا منشور بھی دیکھیں تو آغاز میں ہی 1999 کی آمریت اور اس کے بعد کے ’بدعنوان حکمرانوں‘ کا رونا رویا گیا ہے اور قانون اور پارلیمان کی عزت پر زور دیا گیا تھا لیکن نواز شریف نے پارلیمان کو خود کتنی عزت دی اس پر اب تک سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔

خود تو جو انھوں نے کیا سو کیا، ان کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی تھی کہ پارلیمان جو قانون سازی کرے اسے عدالتیں مسترد نہ کر سکیں۔ اس سلسلے میں بھی کوئی نئی قانون سازی کا ذکر نہیں ہے۔ ہاں عوام کو جلد اور سستے انصاف کے پرانے وعدے دھڑلے کے ساتھ دوہرائے گئے ہیں۔

میڈیا کی آزادی کو یقینی بنانے کے لیے پچھلے منشور میں صحافیوں کو ہراساں کرنے کے خلاف قانون سازی کا وعدہ کیا گیا تھا جو پانچ سالوں میں متعدد حملوں اور ہلاکتوں کے باوجود وفا نہ ہوسکا۔ حالانکہ آخری سال میں حکومت اس حوالے سے کافی تیزی میں دکھائی دے رہی تھی لیکن یہ قانون پھر بھی منظور نہ ہو سکا۔

یہ قانون اس مرتبہ بھی نئے منشور کا حصہ ہے۔ سرکاری میڈیا پی ٹی وی، ریڈیو پاکستان اور اے پی پی کو ضم کرکے ایک ادارہ بنانا بھی عزم میں شامل ہے۔

اب تک کے سیاسی جماعتوں کے منشور دیکھیں تو عوامی سطح کے مسائل حل کرنے کی بات تو بہت کی گئی ہے لیکن جو اصل ریاستی اداروں کے درمیان کھینچا تانی ترقی کی راہ میں بڑی روکاوٹ بنی رہتی ہے اور پورا ملک سیاسی بحرانوں کا شکار رہتا ہے اس پر کچھ لب کشائی نہیں کی گئی۔

منشور میں زرعی و صنعتی انقلاب لانے کے علاوہ ہر سال 20 لاکھ ملازمتیں اور تعلیم کے پروگراموں کو مزید مضبوط کرنے اور 2030 تک غربت کے مکمل خاتمے جیسے اعلانات شامل ہیں حالانکہ اگلی حکومت 2022 تک ہی ہو گی۔ پاکستان کو سیاحت میں دنیا کے پہلے 20 بہترین ممالک کی فہرست میں لانا بھی نئی دستاویز کا حصہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption نئے منشور میں معاشی بہتری ہدف نمبر ایک ہے جبکہ دوسرا بڑا ٹارگٹ توانائی کی کمی پر قابو پانا ہے

پرانے اور نئے منشور میں معاشی بہتری ہدف نمبر ایک رہا ہے۔ پچھلی حکومت کے چار ساڑھے چار سال تو معیشت بین الاقوامی منڈی میں کم تیل کی قیمتوں اور ڈالر کی جبری قیمت برقرار رکھنے کی وجہ سے اچھی رہی لیکن جاتے جاتے مسلم لیگ بھی وہی کر کے گئی جو پیپلز پارٹی کی حکومت 2013 میں کرکے گئی تھی۔

نئے منشور میں دوسرا بڑا ٹارگٹ توانائی کی کمی پر قابو پانا ہے۔ اس کا دعویٰ ہے کہ گذشتہ پانچ سالوں میں گیارہ ہزار میگا واٹ بجلی سے بہتری یقینا آئی ہے اور اگلے پانچ سال میں اسی رفتار کو جاری رکھتے ہوئے مزید 15000 میگا واٹ بجلی قومی نظام میں ڈالی جائے گی۔

کم از کم صارف کی حد تک اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کی صدا بہت کم سنائی دی رہی ہے۔ اب معیشت کے لیے جلدی اور جبری طور پر پیدا کی جانے والی بجلی کتنی مہنگی یا سستی ہے اس کا اندازہ اقصادی ماہرین زیادہ بہتر لگا سکتے ہیں۔

کم از کم اب تک پیپلز پارٹی کے ماضی کے دور کے طرح آئی پی پی والے مالی سکینڈل ابھی تک قومی بحث میں جگہ نہیں بنا سکی ہیں یا شاید احتساب بیورو کی نظر اس جانب نہیں پڑی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Not Specified

اسی بارے میں