نواز شریف کی سزا اور پاکستان واپسی

ایون فیلڈ کا فیصلہ: کب کیا ہوا

ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کرنے والی احتساب عدالت نے نواز شریف کو دس، مریم نواز کو سات جبکہ کیپٹن (ر) صفدر کو ایک سال قید بامشقت کی سزا سنا دی۔

اپنا سنجو بابا سب ٹھیک کر دینے کا

جمعے کو لاہور میں نواز شریف اور مریم کے استقبال کی آڑ میں مسلم لیگیوں کی قیادت نے دراصل کیا کھیل کھیلا؟ وسعت اللہ خان کا ہفتہ وار کالم بات سے بات۔

استحکام بذریعہ ڈنڈا

پاکستان میں اس وقت سب سے اہم کام یہ ہے کہ نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کو ایسے گرفتار کیا جائے جیسے مکھن میں سے بال نکالا جاتا ہے۔ وسعت اللہ خان کی تحریر

’جیل تو جانا ہے دعا کرو پیروں پر چل کر جائیں‘

نواز شریف نے جیل تو جانا ہی ہے بس اتنی دعا کرو کہ وہ اپنے پیروں پر چل کر جائیں ان کی ڈنڈا ڈولی نہ ہو۔ محمد حنیف کا بلاگ

نواز شریف کے پاس اب کیا راستہ ہے؟

میاں صاحب جب آپ سیاست کے سفاک شعبے میں پینتیس، چالیس برس سے موجود ہی ہیں تو آپ سے زیادہ کسے معلوم ہونا چاہیے کہ اس کاروبار میں ٹائمنگ ہی سب کچھ ہے۔

’چند ججوں اور چند جرنیلوں‘ کے خلاف اعلان جنگ

نواز شریف کو دیکھ اور سن کر اس بات کا کہیں سے بھی عندیہ نہیں ملا کہ اب کوئی مصالحت ممکن ہے لیکن جماعت کے موجودہ صدر کس انداز میں انتخابی مہم چلائیں گے وہ اپنے بھائی اور قائد کے راستے پر چلیں گے یا پھر مصالحت کے؟

ایونفیلڈ ہاؤس کے باہر بٹتی ’قطری مٹھائی‘

نیب کی جانب سے نواز شریف کے خلاف فیصلہ آنے پر فطری تجسس مجھے ایونفیلڈ ہاؤس لے گیا کہ وہاں کیا منظر ہوگا؟

’اداروں کےمابین ٹکراؤ کو روکنا صرف میری ہی ذمہ داری نہیں‘

سپریم کورٹ سے نااہل قرار دیے جانے کے بعد بی بی سی سے اپنے پہلے انٹرویو میں میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ اداروں کے درمیان تصادم کو روکنے کی ذمہ داری صرف ان کی نہیں ہے۔