نواز شریف کے عروج و زوال کی تصویری کہانی

  • عابد حسین
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

تین دفعہ کے وزیر اعظم محمد نواز شریف کو احتساب عدالت سے کرپشن کے الزام میں دس سال قید کی سزا سنائی گئی ہے

25 دسمبر 1949 کو پیدا ہونے والے محمد نواز شریف نے ایک خوشحال گھرانے میں آنکھ کھولی جہاں ان کے والد ایک کامیاب کاروباری شخصیت تھے۔ ستر کی دہائی میں سیاست میں شمولیت اختیار کرنے کے بعد آمر جنرل ضیا الحق کے دور میں انھیں پہلی بار حکومت میں کام کرنے کا موقع ملا جس میں وہ بطور وزیر خزانہ تعینات ہوئے۔

1985 کے غیر جماعت انتخابات کے بعد نواز شریف نے وزیر اعلیٰ بن کر صوبہ پنجاب کی باگ ڈور سنبھالی اور اپنے سیاسی کیرئیر کا صحیح معنوں میں آغاز کیا ۔ 1988 کے انتخابات میں اسلامی جمہوری اتحاد کے نام سے ابھرنے والی پارٹی کے ساتھ انھیں وفاق میں حکومت نہ مل سکی لیکن ایک بار پھر وہ وزیر اعلی بن گئے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

1990 کے انتخابات میں نواز شریف نے آئی جے آئی کے ساتھ کامیابی حاصل کی

لیکن پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کے گرنے کے بعد 1990 کے انتخابات میں انھوں نے (آئی جے آئی) کی قیادت سنبھالی اور کامیاب انتخابی مہم چلانے کے بعد پہلی بار وزارت اعظمیٰ کا تاج ان کے سر پر سجا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

پہلی بار وزارت عظمیٰ سنبھالنے والے محمد نواز شریف اسلام آباد میں

لیکن محض تین سال میں صدر غلام اسحاق خان سے اختلافات کے باعث ان کی حکومت ختم کر دی گئی۔ اس فیصلے پر نواز شریف نے سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ کیا جہاں جسٹس نسیم حسن شاہ کی سربراہی میں ان کی حکومت کو دوبارہ بحال کر دیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مگر یہ بحالی صرف وقتی تھی اور ایک بار پھر صدر اور وزیر اعظم کے درمیان اختلافات ختم نہ ہوئے جس کے بعد نواز شریف کو حکومت چھوڑنی پڑی۔

1993 میں ہونے والے انتخابات میں پی پی پی کی بینظیر بھٹو نے کامیابی حاصل کرلی لیکن کرپشن کے الزامات پر ان کے اپنے ہی صدر فاروق لغاری نے ان کا حکومت ختم کر دی۔

مارچ 1997 میں ہونے والے انتخابات میں نواز شریف نے تین چوتھائی کی واضح اکثریت سے کامیابی حاصل کی اور دوسری دفعہ وزیر اعظم بن گئے۔

دوسرے دور حکومت میں انھوں نے انڈیا سے تعلقات استوار کرنے کی کوشش کی اور اس وقت کے اپنے انڈین ہم منصب اٹل بہاری واجپائی کو لاہور دعوت دی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

انڈین وزیر اعظم واجپائی کے ساتھ 1998 میں مصافحہ کرتے ہوئے

اس کے علاوہ 1998 میں انھیں کے دور حکومت میں پاکستان نے پہلی بار جوہری تجربہ کیا جب بلوچستان میں چاغی کے مقام پر پاکستان نے پانچ ایٹمی دھماکے کیے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

چاغی کا وہ پہاڑ جہاں پاکستان نے ایٹمی دھماکہ کیا

اس بار بھی نواز شریف اپنی حکومت کی مدت پوری نہ کر سکے اور 1999 اکتوبر میں اس وقت کے آرمی چیف پرویز مشرف نے ان کی حکومت کا تختہ الٹ کر ملک کی سربراہی سنھال لی۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

12 اکتوبر 1999 کو 111 بریگیڈ نے پاکستان ٹیلیویژن کی عمارت پر قبضہ کر لیا

پرویز مشرف نے حکومت سنبھالنے کے بعد نواز شریف اور ان کے بھائی شہباز شریف پر مختلف نوعیت کے مقدمات چلائے جس میں سابق وزیر اعظم کو جیل جانا پڑا۔

،تصویر کا ذریعہAFP

اس دور میں نواز شریف کی اہلیہ کلثوم نواز اور ان کی صاحبزادی مریم نواز نے فوجی آمر کے خلاف مخالفت کی مہم چلائی۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

سال 2000 میں اپنے والد کے طیارہ سازش کیس میں سزا کے بعد مریم نواز گفتگو کرتے ہوئے

پرویز مشرف کے ساتھ ڈیل ہونے کے سبب نواز شریف نے سزا معطل ہونے کے بعد سعودی عرب میں جلا وطنی اختیار کر لی اور ان کی غیر موجودگی میں 2002 میں ہونے والے انتخابات میں ان کی پارٹی نے زیادہ خاطر خواہ کارکردگی نہیں دکھائی۔

2006 میں اپنی روایتی حریف بینظیر بھٹو کے ساتھ لندن میں ملاقات کے دوران دونوں سابق وزرا اعظم نے میثاق جمہوریت کے معاہدے پر دستخط کیے اور ملک میں جمہوری دور کی واپسی اور پرویز مشرف سے چھٹکارا حاصل کرنا کا عہد کیا۔

،تصویر کا ذریعہLEON NEAL

،تصویر کا کیپشن

2006 میں نواز شریف اور بینظیر بھٹو نے لندن میں میثاق جمہوریت کے معاہدے پر دستخط کیے

سپریم کورٹ کے آرڈر کے بعد ستمبر 2007 میں نواز شریف نے وطن واپسی کی کوشش کی لیکن مشرف انتظامیہ نے انھیں جہاز سے اترنے اجازت نہیں دی اور ائیر پورٹ سے ہی ان کے جہاز کو واپس سعودی عرب لوٹا دیا۔

لیکن صرف دو مہینے بعد انھوں نے ایک بار پھر وطن کا رخ کیا اور لاہور کے علامہ اقبال ائیر پورٹ پر ان کا فقدید المثال استقبال کیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

نومبر 2007 میں نواز شریف وطن واپس آگئے

نومبر میں ہی انھوں نے ملک کی دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ ملاقاتیں کیں جس میں 2008 میں ہونے والے الیکشن کو بائیکاٹ کرنے کے بارے میں گفت و شنید کی گئی۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

نومبر 2007 میں جماعت اسلامی کے قاضی حسین احمد اور پاکستان تحریک انصاف کے عمران خان کے ہمراہ

دسمبر 2007 میں بینظیر بھٹو کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں خود کش حملے میں ہلاک کر دیا گیا تو نواز شریف ہسپتال پہنچنے والے اولین قومی لیڈران میں ایک تھے۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

دسمبر 2007 میں بینظیر بھٹو کی موت کے بعد نواز شریف ہسپتال پہنچ گئے

فروری 2008 میں ہونے والے انتخابات میں نواز شریف کی پاکستان مسلم لیگ دوسری اکثریتی جماعت کے طور پر سامنے آئی اور انھوں نے پیپلز پارٹی کے ساتھ مخلوط حکومت قائم کرنے کے معاہدہ کیا۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

فروری 2008 میں پی پی پی کے سربراہ آصف زرداری کے ساتھ نواز شریف

لیکن یہ شراکت داری زیادہ عرصے قائم نہیں رہی اور اختلافات بڑھنے کے بعد نواز لیگ نے حکومت سے علیحدگی اختیار کر لی اور ان کی نوعیت اتنی شدید ہو گئی کے 2011 میں نواز شریف نے پی پی پی حکومت کے خلاف میمو گیٹ سکینڈل میں سپریم کورٹ میں پٹیشن درج کرائی جس میں نواز شریف بذات خود پیش ہوئے۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

2011 میں سپریم کورٹ میں میمو گیٹ کی پیشی کے بعد نواز شریف عدالت کے باہر اپنے ساتھیوں کے ہمراہ

دو سال بعد مئی 2013 میں ہونے والے قومی انتخابات میں نواز شریف کی جماعت نے ایک بار پھر کامیابی حاصل کی جس کے بعد انھوں نے تیسری بار وزارت عظمیٰ سنبھالی۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

مئی 2013 میں الیکشن میں جیت حاصل کرنے کے بعد اپنے حمایتیوں کے ساتھ خوشی مناتے ہوئے

لیکن اس بار نواز شریف ک سامنے ان کے نئے سیاسی حریف اور سابق کرکٹر عمران خان اور ان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف موجود تھے جنھوں نے نواز لیگ پر انتخابات میں دھاندلی کے الزامات لگائے اور حکومت ختم کرانے کے لیے اگست 2014 سے دسمبر 2014 تک اسلام آباد میں مسلسل دھرنے دیے۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

اگست 2014 میں عمران خان کا دھاندلی کے خلاف دھرنا

نواز شریف نے اپنے تیسرے دور حکومت میں وزارت خارجہ کی ذمہ داری اپنے ذمے لی ہوئی تھیں اور اس دور میں انھوں نے نو منتخب انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ بھی تعلقات استوار کرنے کی کوششیں کیں۔ 2014 میں نریندر مودی کی تقریب حلف برداری میں بھی شرکت کی اور دسمبر 2015 میں نریندر مودی نے لاہور کا بلا اعلان ایک دن کا دورہ بھی کیا۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

دسمبر 2015 میں نریندر مودی کا لاہور دورہ

اس کے علاوہ نواز شریف کے دور حکومت کا سب سے اہم منصوبہ پاک چین اقتصادی راہداری کا تھا جسے ماہرین نے خطے کے لیے ’گیم چینجر‘ کا خطاب دیا۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

2016 میں سی پیک کے پائلٹ پراجیکٹ کے افتتاح پر خطاب کرتے ہوئے

لیکن سال 2016 میں نواز شریف زوال کا آغاز ہوا جب مارچ کے مہینے میں پاناما پیپرز کے نام سے کاغذات منظر عام پر آئے اور ان میں شریف خاندان کے افراد کے ناموں کا انکشاف ہوا۔

نواز شریف کے بیٹوں نے اپنے صفائی کے لیے مختلف انٹرویو دیے جبکہ نواز شریف نے پارلیمان سے خطاب کے علاوہ ٹی وی پر قوم سے بھی خطاب کیا۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

اپریل 2016 میں قوم سے خطاب کرتے ہوئے

اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کے سب سے بڑے حریف عمران خان نے حکومت مخالف مظاہروں کا ایک بار پھر سلسلہ شروع کیا اور نواز شریف کے استعفی کا مطالبہ کیا۔

چند ماہ تک جاری رہنے والے مظاہروں کے بعد بالاآخر سپریم کورٹ نے نومبر 2016 میں ان الزامات کی تفتیش کے لیے حکم دیا۔

اسی سال اکتوبر میں نواز حکومت اور فوج کے مابین اختلافات ابھر کر سامنے آئے جب ’ڈان لیکس‘ کی خبر منظر عام پر آئی۔ اس خبر کے سامنے آنے کے بعد حکومت کے سخت دباؤ کا سامنا کرنا پڑا اور نتیجتاً پرویز رشید کو اپنی وزارت سے بھی ہاتھ دھونے پڑے تھے۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

نواز شریف نومبر 2016 میں اس وقت کے آرمی چیف راحیل شریف کے ہمراہ

جنوری 2017 سے شروع ہونے والی سماعتوں کی تکمیل اپریل 2017 کو ہوئی جب پانچ رکنی بینچ نے تین دو سے نواز شریف کے حق میں فیصلہ دیا لیکن ساتھ ساتھ ان کے اثاثوں کے بارے میں مزید تفتیش کا حکم دیا۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

اپریل میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد عمران خان کا ریلی سے خطاب

اس فیصلے کے بعد عمران خان نے اپنے حریف پر تابڑ توڑ حملوں کی مزید بوچھاڑ کر دی اور ’گو نواز گو‘ کے نعرے ملک بھر میں گونجنے لگے۔

دوسری تفتیش کی تکمیل جولائی 2017 میں ہوئی جس میں نواز شریف کو متحدہ عرب امارات میں کام کرنے کا اقامہ ظاہر نہ کرنے کی بنیاد پر صادق اور امین کی شق کی خلاف ورزی کا مرتکب ٹھیرایا گیا اور پانچ صفر کی اکثریت کے ساتھ انھیں اسمبلی سے نااہل قرار دیا گیا۔

اس فیصلے میں مزید کہا گیا کہ نواز شریف کے خلاف تین ریفرنسز کی بھی تحقیقات کی جائیں گی۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

جولائی 2017 میں نواز شریف کو سپریم کورٹ نے نااہل قرار دیا

احتساب عدالت میں ستمبر 2017 میں شروع ہونے والی کاروائی کا سلسلہ تقریباً دس ماہ تک جاری رہا جس میں نواز شریف نے اسی سے زائد پیشیوں میں حاضری دی۔

اسی اثنا میں ان کی اہلیہ کلثوم نواز کو کینسر کی وجہ سے لندن میں ہسپتال میں داخل ہونا پڑا۔

احتساب عدالت میں پیشیوں کے ساتھ ساتھ نواز شریف نے ملک بھر میں ریلیوں کا آغاز کر دیا جس میں انھوں نے ’ووٹ کو عزت دو‘ کا نعرہ پیش کیا اور اپنے خلاف ہونے والی عدالتی کاروائیوں کو ایک سازش قرار دیا۔

لیکن گذشتہ سال کی طرح ایک بار پھر جولائی کے مہینے میں عدالتی فیصلہ نواز شریف کے خلاف آیا اور جج محمد بشیر نے نواز شریف پر لگائے جانے والے کرپشن کے الزامات کی بنا انھیں دس سال قید بامشقت اور آٹھ ملین پاؤنڈ کے جرمانے کی سزا سنائی۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

نواز شریف سزا سنائے جانے کے بعد لندن میں اپنے ایون فیلڈ اپارٹمنٹ سے باہر جاتے ہوئے

نواز شریف نے یہ سزا اپنی بیٹی مریم نواز کے ہمراہ اسی اپارٹمنٹ میں سنی جس کی ملکیت کے بارے میں انھیں سزا سنائی گئی۔

انھوں نے بعد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی اہلیہ کی صحت بہتر ہونے کے بعد جلد وطن واپس آئیں گے۔

،تصویر کا ذریعہAFP

ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا کے بعد 13 جولائی کو نواز شریف اپنی بیٹی مریم نواز کے ہمراہ وطن واپس لوٹ آئے جہاں انھیں ائیرپورٹ سے ہی حراست میں لے لیا گیا اور اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔

حراست میں لیے جانے کے بعد نواز شریف کو جیل سے ملک میں ہونے والے عام انتخابات میں اپنی جماعت کی شکست دیکھنی پڑی جہاں ان کے خلاف پاناما پیپرز کا مقدمہ دائر کرنے والے حریف عمران خان کو جیت نصیب ہوئی اور انھوں نے اگست میں وزیر اعظم کے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔

اگلے ماہ کی 11 تاریخ کو نواز شریف کی اہلیہ کلثوم نواز کا لندن میں کینسر کے باعث انتقال ہو گیا جس کے بعد نواز شریف کو پیرول پر رہا کر دیا گیا تاکہ وہ ان کے جنازے میں شرکت کر سکیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP

کلثوم نواز کی وفات کے بعد ایک ہفتے کی پیرول ملنے کے بعد نواز شریف اور ان کی بیٹی اور داماد کو اڈیالا جیل دوبارہ بھیج دیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہAFP

کلثوم نواز کے انتقال کے چند روز بعد اسلام آباد ہائی کورٹ میں نواز شریف کی جانب سے احتساب عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل کا نتیجہ سامنے آگیا جس نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن صفدر کو بری کر دیا۔

،تصویر کا ذریعہAFP

لیکن ان مقدمات سے بریت کے باوجود نواز شریف کی عدالتی مشکلات ختم نہ ہوئیں۔ اس سال مئی میں انگریزی اخبار ڈان کو دیے گئے ایک انٹرویو کے نتیجے میں ان پر غداری کا مقدمہ درج ہوا جس کی سماعت کے لیے اکتوبر کے پہلے ہفتے انھیں لاہور ہائی کورٹ میں پیش ہونا پڑا۔

،تصویر کا ذریعہAFP

یہی سلسلہ دسمبر میں بھی جاری رہا جب ان کے خلاف 1986 کا ایک کیس سپریم کورٹ میں پیش ہوا اور وہاں بھی انھیں عدالت کے چکر کاٹنے پڑے۔

۔