الیکٹ ایبلز کون ہوتے ہیں؟

پاکستان الیکشن تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستان میں ساون اور انتخابات کا موسم اپنے عروج پہ ہے

پاکستان میں ساون اور انتخابات کا موسم اپنے عروج پہ ہے۔ برسات میں مینڈک اور پتنگے ہر طرف منڈلاتے پھرتے ہیں۔ شام پڑے ہی دور دور سے مینڈکوں کی ٹر ٹر اور حشرات کی تن تن دب دب سنائی دینے لگتی ہے جو رات گئے تک باقاعدہ ایک راگ کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دیمک کے لاروے جو سارا سال کھانے، سونے اور لوگوں کی عمر بھر کے اندوختوں کو چاٹنے میں مشغول رہتے ہیں، سال کے ان دنوں میں اڑنے بھی لگتے ہیں۔

چونکہ سارا سال حرام خوری کی ہوتی ہے اس لیے ان کی اڑان کی بساط بس یہاں سے وہاں تک ہی ہوتی ہے اور صبح کے وقت ان کے مردہ جسم، لیمپ پوسٹوں اور گھروں کے باہر لگی روشنیوں کے نیچے ایک بے حقیقت ڈھیر کی طرح پڑے ملتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

تحریکِ انصاف کی کتھا کلی!

موسمی تبدیلیوں سے ساون کی شکل بدلی، لیکن اس برس، سالوں بعد ہمیشہ کی طرح چھاجوں مینہہ برسا اور لاہور میں عین جی پی او کے سامنے ایک اتا بڑا گڑھا اپنا بھاڑ سا منہ کھول کے مسلم لیگ ( ن ) کے ووٹ نگلنے کو نمودار ہو گیا۔ اس گڑھے کے اندر سے لاہور کی متنازع اورنج میٹرو کا سٹیشن جھانک رہا ہے اور زبانِ حال سے بہت کچھ بیان کر رہا ہے۔

ابھی پنجاب کے بہت سے علاقوں میں بارش کا پانی کھڑا ہی تھا کہ نوازشریف صاحب کو مریم نواز سمیت لندن کے فلیٹوں کی کیس میں سزا سنا دی گئی۔ سنا ہے لوگوں نے مٹھائی بانٹی، یہ بھی سنا کہ لوگوں نے احتجاج کیا، ہم خدا کے فضل و کرم سے دونوں سے محفوظ و مامون، مینڈکوں کی ٹر ٹر سنتے رہے۔

ان انتخابات میں باقی تمام صورت حال تو ویسی ہی ہے جیسی کہ ہمیشہ ہوتی ہے اور انتخابات کے بعد بھی ویسی ہی رہے گی جیسی کہ ہر انتخابات کے بعد رہتی ہے لیکن ہر بار کی طرح اس بار بھی ایک بہت دلچسپ اصطلاح ہاتھ لگی۔ یہ اصطلاح' الیکٹ ایبلز ' ہے۔ ان سے مراد وہ لوگ ہیں، جو کسی بھی نظریے، کسی بھی سیاسی جماعت، کسی بھی تصور کے محتاج نہیں ہوتے۔ ملک پہ بادشاہ حکومت کرے تب بھی، کولونیل دور آئے تب بھی، غیر جماعتی انتخابات ہوں تب بھی اور کوئی آمر حکومت بنائے تب بھی، یہ لوگ اس کا حصہ ہوتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption لاہور میں عین جی پی او کے سامنے ایک اتا بڑا گڑھا اپنا بھاڑ سا منہ کھول کے مسلم لیگ ( ن ) کے ووٹ نگلنے کو نمودار ہو گیا

کسی زمانے میں لوگ ان کو اشرافیہ کہتے تھے پھر کچھ سر پھروں نے انہیں سٹیٹس کو کہنا شروع کیا، زیادہ بدتمیز لوگوں کو لکھنا پڑھنا آ گیا تو ایسے لوگ 'لوٹے' کہلانے لگے۔ یہ لوگ کسی بھی منشور پہ یقین نہیں رکھتے کیونکہ ان کا اپنا ایک نکاتی منشور ہوتا ہے،'اقتدار میں رہنا'۔ یہ لوگ، لسانی، قبائیلی، گروہی اور برادری ووٹ پہ کامیاب ہوتے ہیں اور اقتدار میں جانے کا ان کا مقصد بھی اپنے کاروبار، اپنی برادری کے لیے نوکریاں تلاش کرنا، اپنے لوگوں کو کلیدی عہدوں پہ فائز کرانا الغرض ہر وقت اپنے ہی پیٹ پہ ہاتھ پھیرنا ہوتا ہے۔

جہاں تک میری یادداشت کام کرتی ہے ، دو عشرے پہلے جب تحریکِ انصاف کی داغ بیل پڑی تو ان کا نعرہ، تبدیلی اور انقلاب وغیرہ تھا۔ پاکستان میں یوں بھی آبادی کی غالب اکثریت نوجوانوں پہ مشتمل ہے تو یہ جوان، تبدیلی اور انقلاب کے رومانس میں مبتلا ہو کر جوق در جوق، پاکستان تحریکِ انصاف میں شامل ہوتے گئے۔ یہ دیکھ دیکھ کر میں بھی خوش ہوتی تھی کہ کم سے کم جوان اس ملک کو اپنا سمجھ کے، سیاسی عمل میں حصہ تو لے رہے ہیں اور ممکن ہے ان کے جوان خون کی حدت سے اس ارضِ وطن کے عارض ولب و گیسو بھی دمک اٹھیں اور اس کی بیمار جوانی کو شفا ہو جائے۔

مگر ہوا وہی جو ہر انقلاب کے ساتھ ہوتا ہے۔ جن لوگوں نے تحریکِ انصاف کو اپنے لہو سے سینچا تھا، انہیں مقامی سطح پہ بھگتا کے وہی، چہرے جو اس میوزیکل چئیر میں بار بار نظر آتے ہیں اب کی بار پی ٹی آئی کے رنگ میں رنگے نظر آنے لگے۔ سیاسی لانڈری میں ڈرائی کلین ہونے کے بعد یہ پرانی بدبودار پوستینیں، پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ اور دیگر جماعتوں سے نکل نکل کر پی ٹی آئی پہ ایسے جمع ہو رہی ہیں جیسے تازہ لاش پہ سردوگرم چشیدہ گدھ۔۔

تو اس بار انتخابات کے موسم میں ہمیں ایک نئی اصطلاح ملی ہے، آئندہ سے اپنے اپنے علاقے کے لوٹوں کو،' الیکٹ ایبلز ' لکھیں اور پکاریں ورنہ آپ کے دروازے پہ محکمہ زراعت کی جیپ آگئی تو ہم بالکل ذمہ دار نہ ہوں گے۔ اہلِ وطن کو برسات اور' الیکٹ ایبلز ' مبارک ہوں۔

اسی بارے میں