جعلی اکاؤنٹس سے اربوں روپے کس کس کو منتقل ہوئے؟

زرداری تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے حسین لوائی اور ان کے ساتھی طلحہ رضا کا گیارہ جولائی تک کا جسمانی ریمانڈ حاصل کرلیا ہے، ان پر 29 جعلی بینک اکاؤنٹس کھولنے میں معاونت کرنے کا الزام ہے، جن کے ذریعے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین آصف علی زرداری سمیت 13 کمپنیوں کو اربوں روپوں کی مشکوک منتقلی کی گئی ہے۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے نے سمٹ بینک کے سابق چیئرمین حسین لوائی اور طلحہ رضا کو سنیچر کو کراچی جنوبی کے جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا اور منی لانڈرنگ کے الزام میں دونوں کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست کی جس کو عدالت نے قبول کرلیا ہے اور دونوں کو ایف آئی اے کی تحویل میں دے دیا۔

ایک جعلی اکاؤنٹ سے بھانڈہ پھوٹا

وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف نے اپنی ایف آئی آر میں بتایا ہے کہ 29 مشکوک اکاؤنٹس کی تحقیقات کے دوران یہ بات سامنےآئی کہ ایک اکاؤنٹ جو اے ون انٹرنیشل کے نام سے موجود تھا جس کا مالک طارق سلطان نامی شخص کو ظاہر کیا گیا تھا، یہ اکاؤنٹ منی لانڈرنگ کے لیے استعمال کیا گیا، اکاونٹ مالک طارق سلطان نےاس اکاونٹ سے لاتعلقی کا اظہار کیا، ان کے انکار کے بعد ہینڈ رائٹنگ اور دستخط کے حوالےسے موقف لیا گیا جس میں جعلی دستخط ثابت ہوئے۔

حسین لوائی کے حکم پر اکاؤنٹ کھولا

ایف آئی اے کے مطابق اے ون انٹرینشل کے مالک طارق سلطان نے انکشاف کیا کہ اس وقت کی آپریشنل مینیجر کرن امان نے جعلی اکاونٹ کی تصدیق کی لیکن اس وقت کی کارپوریٹ رلشن شپ افسر نورین سلطان اور دیگر افسران نے کوئی کارروائی نہیں کی باوجود اس کے اکاؤنٹس کے ریکارڈ سے ظاہر ہوتا تھا کہ اکاونٹ کا تعلق اومنی گروپ سے ہے۔

کرن امان نے انکشاف کیا کہ دستاویزات کارپوریٹ ڈیپارٹمنٹ کو بھیجے گئے جہاں طلحہ رضا، کارپوریٹ ہیڈ نے واپس بھیج دیے اور حسین لوائی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ان کی ہدایت کے تحت اکاؤنٹ کھولا جائے۔

ساڑھے چار ارب رپے کی مشکوک منتقلی

وفاقی تحقیقات ادارے کے مطابق 10 ماہ کے قلیل مدت میں ساڑھے چار ارب روپے اس اکاؤنٹ میں جمع ہوئے اور دیگر اکاؤنٹس میں ان کی منتقلی کی گئی۔

یہ رقم جمع کرانے والوں میں بحریہ ٹاؤن کراچی کے زین ملک ( 75 کروڑ)، سجاول ایگرو فارمز پرائیوٹ لمیٹیڈ (50 کروڑ 50 لاکھ)، ٹنڈو الہ یار شگرملز (23کروڑ 84 لاکھ )، اومنی پرائیوٹ لمیٹیڈ (5 کروڑ)، ایگرو فارمز ٹھٹہ (ایک کروڑ 70 لاکھ)، الفا ژولو کو پرائیوٹ لمیٹیڈ( 2 کروڑ 25 لاکھ)، حاجی مرید اکبر بینکر( 2 کروڑ)، شیر محمد مغیری اینڈ کو کانٹریکٹر (5 کروڑ)، سردار محمد اشرف ڈی بلوچ پرائیوٹ لمیٹیڈ کانٹریکٹر( 10 کروڑ)، ایون انٹرنیشنل (18 کروڑ 45 لاکھ)، لکی انٹرنیشنل (30 کروڑ 50 لاکھ)، لاجسٹک ٹریڈنگ (14 کروڑ 50 لاکھ)، اقبال میٹلز (15 کروڑ 63 لاکھ)، رائل انٹرنیشنل (18 کروڑ 50 لاکھ)، عمیر ایسو سی ایٹس (58 کروڑ 12 لاکھ) شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Summit bank
Image caption 10 ماہ کے قلیل مدت میں ساڑھے چار ارب روپے اس اکاؤنٹ میں جمع ہوئے اور دیگر اکاؤنٹس میں ان کی منتقلی کی گئی

لوطہ، زرداری اور انور مجید مستفید ہوئے

ایف آئی اے نے اپنی تحقیقات میں 4 ارب 14 کروڑ کی مزید مشکوک منتقلی کی نشاندھی کی ہے، جس سے مستفید ہونے والوں میں متحدہ عرب امارات کے نصیر عبداللہ لوطہ گروپ کے سربراہ، آصف علی زرداری اور ان کی بہن کا گروپ اور آصف زرداری کے قریبی دوست انور مجید شامل ہیں۔

ایف آئی اے کی جانب سے دائر کی گئی ایف آئی آر کے مطابق نصیر عبداللہ لوطہ چیئرمین سمٹ بینک کو دو ارب 49 کروڑ، انصاری شگر ملز جس کے مالک انور مجید اور علی کمال مجید ہیں کو 7 کروڑ 37 لاکھ، اومنی پولیمرز پیکجز کے عبدالغنی مجید اور کمال مجید کو 50 لاکھ، پاک اتھنول کے مصطفیٰ ذوالقرنین مجید اور عبدالغنی مجید کو ایک کروڑ 50 لاکھ، چمبڑ شگر ملز کے مالک انور مجید اور نمر مجید کو 20 کروڑ، ایگرو فارمز ٹھٹہ کے مالک انور مجید اور نازلی مجید کو 57 لاکھ، زرداری گروپ جس کے مالک آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور اور دیگر ہیں کو ایک کروڑ، پارتھی نون کے قابل خان نوری کو پانچ لاکھ، ایون انٹرنیشنل کو پانچ لاکھ 76 ہزار، لکی انٹرنیشنل کو دو کروڑ 72 لاکھ، لاجسٹک ٹریڈنگ کو 14 کروڑ 50 لاکھ، رائل انٹرنیشنل کو 28 کروڑ اور عمیر ایسو سی ایٹس کو 80 کروڑ کی منتقلی ہوئی۔

نصیر لوطہ اور حسین لوائی مرکزی کردار

ایف آئی اے کا دعویٰ ہے کہ جعلی اکاؤنٹس کھولنا اور غیر قانونی رقومات جمع کرانا اور مختلف اکاؤنٹس میں مشکوک انداز میں منتقلی، پاکستان اسٹیٹ بینک کی قوانین کے مطابق منی لانڈنگ کے زمرے میں آتی ہے۔

نصیر عبداللہ لوطہ چیئرمین سمٹ بینک جو پاکستان سے باہر ہیں، حسین لوائی جو اس وقت سمٹ بینک کے صدر اور موجودہ وقت وائس چیئرمین ہیں نے مرکزی کردار ادا کیا۔

انور مجید خاندان کے جعلی اکاؤنٹس

ایف آئی اے نے دعویٰ کیا ہے کہ انور مجید، عبدالغنی مجید اور ان کے اومنی گروپس کی مختلف کمپنیوں نے جعلی اکاونٹس کھولے اور طحہ رضا اور حسین لوائی کے ذریعے اربوں رپوں کی ھیرا پھیری کی۔ تمام فریقین کو سمن جاری کر کے انفرادی اور کمپنیوں کو رقومات کی منتقلی اور وصولی کے حوالے سے موقف پیش کرنے کی ہدایت جاری کی لیکن کوئی بھی حاضر نہیں ہوا۔

ملزم انور مجید ولد عبدالمجید، عبدلغنی مجید والد انور مجید، اسلم مسعود ولد مسعود اللہ ملک، محمد عارف خان، بینک افسران نورین سلطان، کرن امان، عدیل شاہ رشیدی، طلحہ ولد نقی رضا، حسین لوائی ولد حاجی موسیٰ اور نصیر عبداللہ چیئرمین سمٹ بینک پر منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ جن میں سے طلحہ رضا اور حسین لوائی کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔

آصف زرداری اور انور مجید کا تعلق

انور مجید پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین آصف علی زرداری کے قریبی ساتھی ہیں، ڈاکٹر عاصم حسین کے بعد تحقیقاتی اداروں نے ان کا گھیراؤ تنگ کیا تھا۔

2016 میں رینجرز نے ان کے دفتر پر چھاپہ مارکر غیر قانونی اسلحہ برآمد کرنے کا دعویٰ کیا جس کے بعد ان سمیت انور مجید اور دیگر کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا جس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے آصف علی زرداری نے تصدیق کی تھی کہ ان کے انور مجید کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔

گذشتہ سال سندھ میں گنے کے کاشتکاروں اور شگر ملزمالکان میں کشیدگی کے وقت بھی انور مجید کا نام سامنے آیا تھا، سندھ میں شگر ملز کی اکثریت کے مالک انور مجید ہیں جبکہ آصف علی زرداری کا گروپ بھی بعض ملز کا مالک ہے، کاشتکاروں کا الزام تھا کہ حکومت ملز مالکان کو فائدہ پہنچا رہی ہے۔ حکومت سندھ نے جب بیمار صنعتوں کو مالی مرعات فراہم کی تو پچاس فیصد صنعتیں انور مجید کی تھیں۔

پیپلز پارٹی کی ایف آئی اے پر ناراضگی

یاد رہے کہ ایف آئی اے کی تحقیقات کے ساتھ ہی ایف آئی اے کے سربراہ بشیر میمن اور پیپلز پارٹی میں سرد جنگ شروع ہوگئی تھی، جس میں بشیر میمن نے عدالت میں ایک آئینی پٹیشن دائر کی تھی کہ ان کے قریبی رشتے دار جو حکومت سندھ میں ملازم ہیں انہیں تنگ کیا جارہا ہے، جبکہ پیپلز پارٹی کی جانب سے الیکشن کمیشن کو لیٹر لکھ کر بشیر میمن کو ہٹانے کی درخواست کی گئی تھی۔

اسی بارے میں