ایون فیلڈ ریفرنس سزا: کیپٹن (ریٹائرڈ) صفدر اڈیالہ جیل پہنچا دیے گئے

محمد صفدر تصویر کے کاپی رائٹ FACEBOOK

پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد محمد نواز شریف کے داماد اور ان کی بیٹی مریم نواز کے شوہر کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو اتوار کو حراست میں لیے جانے کے بعد پیر کی صبح اڈیالہ جیل پہنچا دیا گیا ہے۔

عدالت میں پیشی سے قبل میڈیا کے نمائندوں کی کمرہ عدالت میں داخلے پر پابندی لگا دی گئی تھی جس پر صحافیوں نے احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ پاکستان کے چیف جسٹس ثاقب نثار اس معاملے کا نوٹس لیں۔

نواز شریف کی سزا اور پاکستان واپسی کا اعلان

ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب سردار مظفر عباسی نے کہا کہ سیکورٹی وجوہات کی بنا پر آج میڈیا کے نمائندوں کو عدالت میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی لیکن جج محمد بشیر کے مطابق العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس کی سماعت کے موقعے پر میڈیا موجود رہے گا۔

یہ بھی پڑھیے

نواز، مریم کو سزائیں، ’اہلیہ کو ہوش آتے ہی پاکستان آؤں گا‘

’میں اور میاں صاحب جمعہ کو پاکستان جا رہے ہیں‘

نواز شریف کے عروج و زوال کی تصویری کہانی

یاد رہے کہ گذشتہ روز پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ نواز کے قائد میاں نواز شریف کے داماد اور سابق ممبر قومی اسمبلی کیپٹن ریٹائرڈ صفدر قومی احتساب بیورو کو گرفتاری دے دی تھی۔

کیپٹن ریٹائرڈ صفدر نے راولپنڈی میں واقع سکستھ روڈ پر مسلم لیگ نواز کے مرکزی دفتر کے سامنے نیب کو گرفتاری دی۔

انھوں نے مرکزی دفتر پہنچنے پر مسلم لیگ نواز کے کارکنان سے کہا کہ وہ نیب کو گرفتاری دے رہے ہیں اس لیے کوئی رکاوٹ نہ ڈالے۔

اس سے قبل نیب نے کئی بار ان کو گرفتار کرنے کی کوشش کی لیکن کارکنان نے ایسا نہیں ہونے دیا۔

اتوار کو جب کیپٹن ریٹائرڈ صفدر راولپنڈی پہنچے تو مسلم لیگ نواز کے کارکنان کی بڑی تعداد ریلی میں شریک ہوئی۔ یہ ریلی راولپنڈی میں لیاقت باغ کے علاقے میں ہے۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے جمعے کو ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کو دس سال، مریم نواز کو سات سال اور محمد صفدر کو ایک سال کی سزا سنائی تھی۔

نیب حکام اور پنجاب پولیس نے محمد صفدر کو گرفتار کرنے کی کوشش کی لیکن ریلی میں نواز لیگ کے کارکنان نے مداخلت کی اور کئی بار نیب حکام کی کوشش کو ناکام بنایا۔

تاہم متعدد کوششوں کے بعد نیب حکام اور پولیس نے کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو گھیرے میں لے کر حراست میں لے لیا۔

یاد رہے کہ ہفتے کو جب مریم نواز سے پوچھا گیا کہ قومی احتساب بیورو نے وارنٹس پر عمل کرنا شروع کر دیا ہے تو مریم نواز نے کہا 'جی میری بات ہوئی ہے (کیپٹن صفدر سے) اور ان کے حوصلے بلند تھے۔ گرفتار کرنے آئیں گے تو گرفتاری دے دیں گے۔'

’گرفتاری میں رکاوٹیں ڈالنے والوں کے خلاف کارروائی کریں گے‘

قومی احتساب بیورو نے ایک بیان میں کہا ہے کہ نیب کی چار ٹیموں نے ایبٹ آباد، مانسہرہ اور ہری پور میں واقع کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے مکانات پر چھاپے مارے جس کے بعد انھوں نے نیب کو گرفتاری دینے کا فیصلہ کیا۔

’میڈیا سے درخواست ہے کہ ان کی (محمد صفدر) تقاریر براہ راست نشر نہ کی جائیں کیونکہ ایسا کرنا پیمرا کے قواعد و ضوابط کے خلاف ہے۔‘

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ نیب ان افراد کے خلاف بھی قانونی کارروائی کرے گی جنھوں نے محمد صفدر کو پناہ دی اور ان کی گرفتاری میں رکاوٹ ڈالی۔

’نیب نے پیمرا سے درخواست کی ہے کہ تمام ٹی وی چینلز کی لائیو کوریج اور ریکارڈنگز نیب کو مہیا کرے تاکہ پناہ دینے اور رکاوٹیں ڈالنے والے افراد کی نشاندہی کی جا سکے۔‘

دوسری جانب مریم نواز نے کہا ہے کہ وہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کے ہمراہ لندن سے لاہور جائیں گی۔

نواز شریف اور مریم نواز دونوں لندن میں ہیں اور مریم نواز نے ہفتے کو اعلان کیا کہ دونوں ہی جمعہ کو پاکستان واپس آ رہے ہیں۔

مریم نواز نے لندن میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جمعہ کو وہ لاہور پہنچیں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ میاں نواز شریف کمر کا درد کا بہانہ کر کے ملک سے نہیں بھاگے۔

اسی بارے میں