فاٹا انتخابی مہم 'انضمام' کا پہلو نمایاں کیوں؟

خیبر ایجنسی

پاکستان میں وفاق کے زیر انتظام سابق قبائلی علاقوں کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے اعلان کے بعد یہاں آخری مرتبہ قومی اسمبلی کے 12 حلقوں کے لیے عام انتخابات کا انعقاد کیا جارہا ہے جہاں بظاہر الیکشن مہم کے دوران ' فاٹا انضمام' کا پہلو نمایاں نظر آرہا ہے۔

قبائلی علاقوں کے مخصوص حالات اور ان کی منفرد حیثیت کی وجہ سے یہاں ہمیشہ سے انتخابات کا اپنا ہی ایک الگ رنگ رہا ہے۔ فاٹا میں پاکستان بننے کے بعد سے بیشتر انتخابات کا انعقاد گھٹن اور پابندی کے ماحول میں ہوا۔

الیکشن 2018 پر بی بی سی اردو کی خصوصی کوریج

یہاں اگر ایک طرف کسی زمانے میں صرف قبائلی ’مشر‘ یا ملک کو ووٹ دینے کا حق حاصل تھا تو اس دوران ایک وقت ایسا بھی آیا کہ تمام قبائیلیوں کو بالغ رائے دہی کی بنیاد پر ووٹ کا حق تو دیاگیا لیکن انھیں آزادانہ طورپر سیاسی سرگرمیوں کی اجازت حاصل نہیں تھی۔ یہاں سے منتخب ہونے والے تمام ایم این ایز اور سینٹرز برائے نام پارلمینٹ کے کرسیوں پر براجمان رہے جبکہ انھیں اپنے علاقے کے بارے میں قانون سازی کرنے کا کوئی اختیار حاصل نہیں تھا۔

لیکن فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد یہاں پہلی مرتبہ قبائلی عوام کو وہ تمام آئینی اور قانونی حقوق حاصل ہو گئے ہیں جو ملک کے دیگر عام شہریوں کو میسر ہیں۔

قبائلی علاقوں میں انتخابات:’اب ہر قبائلی کو آزادی حاصل‘

موجودہ انتخابات میں سات سابق قبائلی ایجنسیوں اور نیم خود مختار ایف آر ریجنز کو قومی اسمبلی کے 12 حلقوں میں تقسیم کیا گیا ہے جن میں ضلع شمالی وزیرستان، ضلع جنوبی وزیرستان، ضلع اورکزئی، ضلع کرم، ضلع باجوڑ، ضلع مہمند ، ضلع خیبر اور ایف آر کے علاقہ جات شامل ہیں۔

ان میں بعض ضلعوں کو ایک انتخابی حلقہ اور بعض کو آبادی زیادہ ہونے کی وجہ سے دو دو حلقوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔

قبائلی علاقوں میں 25 جولائی کے ہونے والے انتخابات اس لحاظ سے بھی اہم قرار دیے جا رہے ہیں کیونکہ ان مقامات کا خیبر پختونخوا میں ادغام کو ابھی چند ماہ ہی گزرے ہیں اور یہاں اختیارات کی منتقلی کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔

بیشتر قبائلی اضلاع میں مختلف سیاسی جماعتوں اور ان کے نامزد کردہ امیدواروں کی طرف 'فاٹا انضمام' کا ایشو الیکشن نعرے کے طورپر استعمال کیا جا رہا ہے۔ زیادہ تر امیدوار اس ایشو پر کریڈٹ لینے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم کچھ امیدواروں نے انضمام کی مخالفت کو اپنا موضوع بنایا ہوا ہے۔

خیبر پختونخوا کے مرکزی شہر پشاور سے ملحق ضلع خیبر اور حلقہ این اے 43 میں آج کل انتخابی سرگرمیاں عروج پر پہنچ رہی ہیں۔ یہاں ویسے تو کئی امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے لیکن اصل معرکہ فاٹا انضمام کے سب سے بڑے حامی سمجھنے جانے والے آزاد امیدوار شاہ جی گل آفریدی اور تحریک انصاف کے نامزد کردہ امیدوار نورالحق قادری کے درمیان متوقع ہے۔

سابق حکومت میں اسی حلقے 43 سے منتخب ہونے والے حاجی شاہ گل آفریدی ابتدا ہی سے فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے زبردست حامی رہے ہیں اور اس ضمن میں وہ اسلام آباد کے سڑکوں پر قبائل کے ہمراہ احتجاج بھی کر چکے ہیں۔

ہم نے ضلع خیبر میں انتخابی سرگرمیوں کا جائزہ لینے کےلیے حاجی شاہ جی گل آفریدی کی ایک کارنر میٹنگ میں شرکت کی جہاں ان کی تقریر کا مرکزی نقط فاٹا انضمام کا ایشو تھا۔

انھوں نے بی بی سی خصوصی گفتگو کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ فاٹا میں انتخابی مہم کے دوران 'انضمام' کا پہلو نمایاں ہے اور امیدواروں کی طرف سے اس کی مسلسل حمایت اور مخالفت جاری ہے۔

'ہم نے پہلے مرحلے میں صرف قبائل کو آزادی دی اور فاٹا کو خیبر پختونخوا کا حصہ بنایا لیکن دوسرے مرحلے میں اب اس ادغام کے ثمرات کو عوام تک پہنچانا ہے تاکہ وہ اس کا بھرپورفائدہ اٹھائیں۔'

انھوں نے دعویٰ کیا کہ جو لوگ قبائلی علاقوں کے ادغام کے سخت مخالف تھے وہ اب بھی اپنے موقف پر قائم ہیں لیکن ان کے خیال میں فتح انضمام کے حامیوں کی ہو گی۔

ادھر سابق فاٹا کے دیگر اضلاع باجوڑ، مہمند، شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان، کرم اور اورکزئی میں بھی امیدواروں کی طرف سے انضمام کی حمایت یا مخالفت میں ووٹروں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے ایڑی جوڑی کا زور لگایا جارہا ہے۔

Image caption شاہ جی گل کی کارنر میٹنگ

باجوڑ کے ایک سنئیر صحافی انوار اللہ خان کا کہنا ہے کہ باجوڑ کے دو قومی اسمبلی کے حلقوں میں امیدواروں کی طرف سے انتخابی مہم میں فاٹا انضمام کا پہلو نمایاں ہے۔ انھوں نے کہا کہ جو سیاست دان پہلے سے قبائلی علاقوں کے پختونخوا میں ادغام کے حامی تھے وہ مسلسل الیکشن مہم میں اپنے موقف پر قائم ہیں۔ تاہم انھوں نے کہا کہ کچھ امیدوار اس کی مخالفت بھی کررہے ہیں۔

ادھر دوسری طرف مختلف مذہبی جماعتوں پر مشتمل اتحاد متحدہ مجلس عمل میں قبائلی علاقوں کی سطح پر اختلافات کی اطلاعات ہیں۔

سابق فاٹا میں مذہبی جماعتیں ایک مضبوط سٹیک ہولڈر کی حیثیت رکھتی آئی ہیں۔ تاہم فاٹا انضمام کے ضمن میں جمعیت علمائے اسلام ف اور جماعت اسلامی کے مابین باہمی اختلافات اور ٹکٹوں کی تقسیم پر عدم اتفاق کے باعث انھیں فاٹا سے متفقہ امیدوار لانے میں ناکامی کا سامنا ہے۔

ایم ایم اے کے ذرائع کے مطابق اتحاد میں شامل تمام جماعتوں کی مشاورت سے فاٹا کو اوپن چھوڑ دیا گیا ہے یعنی وہاں کے 12حلقوں سے کوئی ایم ایم اے کے ٹکٹ پر انتخاب میں حصہ نہیں لے گا۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جے یو آئی ف ابتدا ہی سے فاٹا انضمام کی سخت مخالف رہی ہے جبکہ اتحاد میں شامل جماعت اسلامی اس کی بھر پورحمایت کرتی آئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Not Specified

اسی بارے میں