الیکشن 2018: انتخابی بینرز پر آرمی چیف اور چیف جسٹس کی تصاویر، تحریک انصاف کا امیدوار نااہل

الیکشن کمشین تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

پاکستان کے الیکشن کمیشن نے انتخِابی پوسٹر پر برّی فوج کے سربراہ اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی تصاویر شائع کرنے پر تحریکِ انصاف کے صوبائی امیدوار کو الیکشن لڑنے کے لیے نااہل قرار دے دیا ہے۔

تحریکِ انصاف کے امیدوار ناصر چیمہ پنجاب کے شہر گوجرانوالہ میں صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی 53 سے 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات میں امیدوار تھے۔

ان کے انتخابی پوسٹرز کی تصاویر انتخابی مہم کے آغاز کے بعد سے سوشل میڈیا پر گردش کر رہی تھیں اور اس سلسلے میں ایک درخواست الیکشن کمیشن میں بھی دی گئی تھی۔

پیر کو اس درخواست کی سماعت کے بعد چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ سردار رضا خان فیصلہ سنایا۔

دو جولائی کو گذشتہ سماعت پر چیف الیکشن کمشنر نے ناصر چیمہ کو طلب کیا تھا اور ان سے استفسار کیا تھا کہ کیا آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور سپریم کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار ان کے رشتہ دار ہیں، جس پر ناصر چیمہ کا کہنا تھا کہ یہ دونوں شخصیات ان کے رشتہ دار نہیں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں!

'میں نے اپنی مخالفت کو ہی اپنی طاقت بنایا ہے'

الیکٹ ایبلز کون ہوتے ہیں؟

’ووٹ مانگنے نہ آئیں، اس نظام سے بیزار ہیں‘

چیف الیکشن کمشنر نے امیدوار سے استفسار کیا کہ تو پھر اُنھوں نے ان دو اہم شخصیات کی تصاویر اپنے انتخابی بینرز پر کیوں لگائی ہیں۔ جس پر پہلے تو ناصر چیمہ نے کہا کہ یہ بینرز اُنھوں نے نہیں تیار کروائے بلکہ اُن کے حامیوں نے تیار کیے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ملک میں عام انتخابات 25 جولائی کو منعقد ہوں گے

چیف الیکشن کمشنر کے استفسار پر پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار نے یہ موقف اختیار کیا کہ چونکہ انتخابات سے قبل الیکشن کمیشن کی طرف سے ضابطۂ اخلاق جاری نہیں ہوا تھا اس لیے اُنھوں نے آرمی چیف اور چیف جسٹس کی تصاویر لگائی تھیں۔

امیدوار کا کہنا تھا جب الیکشن کمیشن کی طرف سے ضابطۂ اخلاق جاری ہوا اس کے بعد سے ان دونوں شخصیات کی تصاویر انتخابی بینرز سے ہٹا دی گئی ہیں۔

ناصر چیمہ نے اس ضمن میں تحریری جواب بھی جمع کروایا جسے چیف الیکشن کمشنر نے مسترد کرتے ہوئے اُنھیں اس ماہ ہونے والے عام انتخابات میں حصہ لینے کے لیے نااہل قرار دے دیا۔

پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار کے پاس الیکشن کمیشن کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا آپشن موجود ہے۔

اسی بارے میں