الیکشن 2018: ’جنھیں پہلے اہمیت ہی نہیں دی جاتی تھی اب وہ الیکشن کی نگرانی کریں گے‘

خواجہ سرا تصویر کے کاپی رائٹ BINDYA RANA

پاکستان میں رواں ماہ ہونے والے عام انتخابات میں خواجہ سراؤں کو نمائندگی دینے کے لیے ایک غیر سرکاری تنظیم کی جانب سے انھیں انتخابات کی نگرانی کرنے کا موقع فراہم کیا گیا ہے۔

یہ اقدام پاکستان میں انتخابات کو مانیٹر کرنے والی غیر سرکاری تنظیم ٹرسٹ فار ڈیموکریٹک ایجوکیشن اینڈ اکاؤنٹیبلیٹی (ٹی ڈی ای اے) کی جانب سے کیا گیا ہے۔

پراجیکٹ مینیجر زاہد عبداللہ کا کہنا ہے کہ اس مقصد کے لیے کل 375 ممبران الیکشن ڈے کے حوالے سے تمام تر انتخابی عمل کا جائزہ لیں گے جن میں 125 خواجہ سرا، 125 جسمانی طور پر معذور افراد اور 125 خواتین شامل ہیں۔

الیکشن 2018: بی بی سی اردو کی خصوصی کوریج

انھوں نے بتایا کہ کراچی، لاہور، اسلام آباد، پشاور اور کوئٹہ سے 25، 25 ممبران یہ کام سرانجام دیں گے۔ ان ممبران کو الیکشن ڈے پر آبزرویشن کرنے کی تربیت ٹی ڈی ای اے کی جانب سے فراہم کی جا رہی ہے۔

یہ ممبران کریں گے کیا؟

زاہد عبداللہ کے بقول ایسا پہلی بار ہو رہا ہے کہ معذور افراد، خواجہ سرا اور خواتین الیکشن آبزرویشن کریں گے۔

ان ممبران کو الیکشن کمیشن کی جانب سے کارڈز فراہم کیے جائیں گے تاکہ یہ افراد بذات خود ہر پولنگ سٹیشن جا کر جائزہ لے سکیں۔

یہ ممبران ووٹنگ کے روز صبح آٹھ بجے پولنگ سٹیشن جائیں گے اور وہاں موجود پریزائڈنگ آفیسر کا انٹرویو کریں گے۔

اس کے علاوہ وہاں خواجہ سراؤں، خواتین اور جسمانی طور پر معذور افراد کے لیے موجود سہولیات کا جائزہ بھی لیا جائے۔

بعد میں یہ ممبران تمام تر معلومات سے اپنے ادارے کو آگاہ کریں گے جو اس حوالے سے الیکشن کمیشن کو بتائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

’مشکلات کا تو 25 جولائی کو پتا چلے گا‘

بندیا رانا جو کہ خود ایک خواجہ سرا ہیں ںے اس اقدام پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’ایسا پہلی بار ہو رہا ہے کہ خواجہ سرا اور معذور افراد جنھیں سرے سے اہمیت ہی نہیں دی جاتی وہ الیکشن کی مانٹرنگ کریں گے۔‘

خواجہ سراؤں کے اس سارے عمل میں درپیش مشکلات کے بارے میں بندیا رانا نے بتایا کہ ’مشکلات کا تو 25 جولائی کو معلوم ہو گا۔‘

ان کا کہنا ہے کہ خواجہ سراؤں کو تربیت دی گئی ہے کہ وہ الیکشن ڈے پر نگرانی کریں کہ انھیں کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لوگوں کا رویہ کیسا ہوتا ہے۔

بندیا رانا نے اپنی برادری کے حوالے سے کہا کہ ’سب بہت خوش ہیں، جو لوگ ہمیں راستہ نہیں دیتے تھے یا بات تک نہیں کرتے ہے اب ہم لوگ وہاں جا کر مانٹرنگ کریں گے تو کیسا لگے گا۔‘

’دیکھنا ہے کہ لوگوں کا رویہ کیسا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Ayaz khan
Image caption 125 معذور افراد پر مشتمل الیکشن آبزرورز میں ان افراد کو شامل کیا گیا ہے

جسمانی معذوری کے شکار ایاز خان جو اس انتخابی نگرانی کے عمل میں شامل ہیں کا کہنا ہے کہ اس سارے عمل کا مقصد یہ دیکھنا ہے کہ معذوروں کے حوالے سے جو الیکشن ایکٹ بنایا گیا ہے اس پر عمل بھی ہو رہا ہے یا نہیں۔

ایاز خان نے بتایا کہ یہ 125 معذور افراد پر مشتمل الیکشن آبزرورز میں ان افراد کو شامل کیا گیا ہے جو جسمانی معذوری کا شکار ہیں۔ نابینا افراد ان میں شامل نہیں ہیں۔

’یہ ممبران ایلکشن والے دن پولنگ سٹیشنز پر جا کر وہاں معذور افراد کو درپیش مشکلات، سہولیات کا جائزہ لیں گے اور ساتھ ساتھ یہ دیکھا جائے گا کہ وہاں موجود افراد کا جسمانی طور پر معذور لوگوں کے ساتھ رویہ کیسا ہے۔‘

اس کے علاوہ ان کے مطابق یہ بھی دیکھا جائے گا کہ جسمانی طور پر معذور افراد کے لیے پولنگ سٹیشنز تک رسائی کتنی آسان ہے اور وہ اپنا ووٹ کیسے کاسٹ کر پائیں گے۔

ان 125 ممبران کے انتخاب کے بارے میں انھوں نے بتایا کہ کل 25000 ممبران میں سے ان 125 افراد کا انتخاب کیا گیا ہے جو تعلیم یافتہ ہیں۔

اسی بارے میں