الیکشن 2018: پاکستان کا وسیع ترین حلقہ، جہاں وسائل کم اور مسائل زیادہ

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
قومی اسمبلی کا حلقہ 267 تقریباً 500 کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے، ایک طرف یہ ضلع کوئٹہ تو دوسری طرف یہ خضدار ضلع سے جا ملتا ہے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کا علاقہ قلات، کالا کولو سیب کے حوالے سے مشہور ہے اور یہاں کے باغات میں یہ سیب آئندہ 20 روز میں ہو تیار ہو جائیں گے لیکن پانی کی عدم دستیابی نے سیبوں کی افزائش کو متاثر کیا ہے۔

بجلی کی عدم دستیابی کے باعث جنریٹر چند گھنٹے ہی چل پائے ہیں اور نتیجے میں سیبوں کا سائز کم ہو گیا ہے، اس صورتحال نے باغ کے مالک محمد اقبال کو پریشان کر رکھا ہے۔

بی بی سی اردو کی خصوصی الیکشن کوریج

سیاسی گہماگمی سے دور اس علاقے میں لوگ اپنے سیبوں کے لیے زیادہ فکرمند ہیں انھیں اس بات کی پریشانی نہیں کہ کس کو ووٹ دیں۔ اس رویے کی ایک وجہ شاید امیدواروں کا یہاں نہ آنا بھی ہے۔

محمد اقبال کا کہنا ہے کہ یہ امیدوار جو بڑے لوگ ہیں ان کے پاس جاتے ہیں جو غریب ہیں، اس کو ایسے ہی میدان میں چھوڑ دیتے ہیں یعنی اگر کام ہو جائے تو بھی اگر نہ ہو پھر بھی ہی ایسے ہی چھوڑ دیتے ہیں۔

قومی اسمبلی کا حلقہ 267 تقریباً 500 کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے، ایک طرف یہ ضلع کوئٹہ تو دوسری طرف یہ خضدار ضلع سے جا ملتا ہے، اس میں مستونگ، قلات اور سکندر آباد اضلاع شامل ہیں جس نے اسے رقبے کے اعتبار سے پاکستان کا ایک وسیع ترین حلقہ بنا رکھا ہے۔

Image caption سیاسی گہماگمی سے دور اس علاقے میں لوگ اپنے سیبوں کے لیے زیادہ فکر مند ہیں انہیں اس بات کی پریشانی نہیں کہ کس کو ووٹ دیں

قلات سے تقریباً 120 کلومیٹر دور مستونگ کے ایک قصبے میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے قومی اسمبلی کے امیدوار منظور بلوچ اپنی مہم میں مصروف ہیں۔ ملک کے دیگر علاقوں کے برعکس انھیں کم وقت اور کم اخراجات میں پانچ سو کلومیٹر پر مہم چلانی ہے اور مقررہ اخراجات صرف 40 لاکھ روپے ہیں۔

انتخابات کے بارے میں مزید پڑھیے

الیکشن 2018: بی بی سی اردو کی خصوصی کوریج

پی ٹی آئی منشور: ایک کروڑ ملازمتیں، 50 لاکھ سستے مکانات

انتخابی بینرز پر دو چیفس کی تصاویر، امیدوار نااہل

فاٹا انتخابی مہم 'انضمام' کا پہلو نمایاں کیوں؟

’ووٹ مانگنے نہ آئیں، اس نظام سے بیزار ہیں‘

ان کا کہنا ہے کہ ان کی کوشش ہے کہ الیکشن کمیشن کے جو ضابطہ اخلاق ہے اس کی پیروی کریں لیکن یہ بھی حقیقت ہے ان تین اضلاع میں اگر الیکشن کمیشن کی مقررہ رقم سے تین گنا زیادہ خرچ کریں پھر بھی اپنے ووٹر تک نہیں پہنچے سکتے۔

اسی لیے بلوچستان میں ٹرن آؤٹ کم ہوتا ہے کیونکہ لوگوں کو شعور نہیں ہے کہ وہ خود آ جائیں اس کے لیے امیدوار کو جانا پڑتا ہے، اس صورتحال میں یہاں کہ امیدوار کے لیے زیادہ چیلنج ہے۔

Image caption این اے267 میں غربت ایک بڑا مسئلہ ہے

بلوچستان میں بجلی کی فراہمی بڑے شہروں تک محدود ہے، جس کی وجہ سے ٹی وی چینلز اور اخبارات سمیت ابلاغ عام کے ذرائع محدود ہیں، شرح خواندگی بھی دیگر صوبوں کے مقابلے میں یہاں کم ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ تعلیمی اداروں کا فقدان ہے۔

بلوچستان کی پسماندگی کی ایک بڑی وجہ اس کا وسیع رقبہ بھی ہے، منتخب اراکین کے فنڈز اور ترقیاتی منصوبے مخصوص علاقوں تک محدود رہتے ہیں، جس کی وجہ سے تمام آْبادی مستفید نہیں ہو پاتی۔

نیشنل پارٹی کے امیدوار سردار کمال بنگلزئی این اے سے رکن قومی اسمبلی رہ چکے ہیں اس بار وہ صوبائی اسمبلی کے امیدوار ہیں ان کا کہنا ہے کہ گذشتہ انتخابات میں تو وہ سوراب نہیں جا سکے تھے صرف ٹیلیفون پر ہی رابطہ رہا۔

Image caption جتنے اضلاع ہیں ہر ضلع میں قومی اسمبلی کی ایک نشست ہو تب جا کر کچھ نہ کچھ کر پائیں گے: سردار کمال بنگلزئی

’ایسا بھی ہوتا ہے کہ جب ہم لوگوں کے پاس ووٹ کے لیے جاتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ آپ پانچ سال کہاں تھے؟ اتنے بڑے علاقے ہوتے ہیں ان میں ڈویلپمنٹ کا مسئلہ ہوتا ہے، انسانی آبادی پھیلی ہوئی ہوتی ہے انھیں سکول، بنیادی صحت مراکز اور دیگر سہولیات فراہم کرنی ہوتی ہیں اس کے لیے فنڈز زیادہ درکار ہیں لیکن کر نہیں پاتے۔ کیونکہ فنڈز اتنے نہیں ہوتے جتنا بڑا حلقہ ہے۔ ‘

انتخابات کے بارے میں مزید پڑھیے

الیکٹ ایبلز کون ہوتے ہیں؟

الیکشن میں جیپ کے نشان پر اتنا شور کیوں؟

Image caption محمد اقبال کا کہنا ہے کہ یہ امیدوار جو بڑے لوگ ہیں ان کے پاس جاتے ہیں جو غریب ہیں، اس کو ایسے ہی میدان میں چھوڑ دیتے ہیں یعنی اگر کام ہو جائے تو بھی اگر نہ ہو پھر بھی ہی ایسے ہی چھوڑ دیتے ہیں

پاکستان میں وفاق اور صوبوں میں مالیاتی وسائل کی تقسیم کے فارمولا میں ایک عنصر ایریا بھی۔

سردار کمال بنگلزئی کا کہنا ہے کہ جتنے اضلاع ہیں ہر ضلع میں قومی اسمبلی کی ایک نشست ہو تب جا کر کچھ نہ کچھ کر پائیں گے

بلوچستان کے وسیع رقبے میں الیکشن کمیشن کی جانب سے مقررہ انتخابی اخراجات کی حد غیر حقیقی لگتی ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ایک عام شہری یا متوسط طبقے کو انتخابی عمل میں شریک رکھنے کے لیے حدود کا تعین بھی لازمی ہے۔

اسی بارے میں