الیکشن 2018: فوجی اہلکاروں کو مجسٹریٹ درجۂ اول کے اختیارات کا نوٹیفکیشن جاری

پاکستان کے الیکشن کمیشن نے 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات میں پولنگ سٹیشنز پر تعینات فوجی اہلکاروں کو مجسٹریٹ درجۂ اول کے اختیارت سے متعلق نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔

الیکشن کمیشن کے حکام کے مطابق پولنگ سٹیشنز پر تعینات فوجی اہلکاروں کو مجسٹریٹ درجۂ اول کے اختیارات حاصل ہوں گے۔

بی بی سی اردو کی الیکشن کوریج

اس نوٹیفکیشن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پولنگ سٹیشنز پر تعینات فوجی اہلکاروں کو پولنگ سٹیشن کے اندر یا باہر قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی شخص کو موقع پر سزا سنانے کا اختیار ہو گا تاہم اس نوٹیفکیشن میں سزا کی مدت کے تعین کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق الیکشن کمیشن کے حکام کا کہنا ہے کہ فوجی اہلکار قواعد و ضوابط کی کسی بھی خلاف ورزی کی اطلاع پریزائیڈنگ افسر کو دینے کے پابند ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیے

’500 کلومیٹر کا حلقہ اور انتخابی مہم کے لیے 40 لاکھ‘

انتخابی بینرز پر دو چیفس کی تصاویر، امیدوار نااہل

نیب کا الیکشن لڑنے والے امیدواروں کو گرفتار نہ کرنے کا فیصلہ

مسلم لیگ ن بطور جماعت سینیٹ کے انتخابات سے باہر

الیکشن کمیشن کے مطابق اگر پریزائیڈنگ افسر کی جانب سے اطلاع ملنے کے باوجود مناسب کارروائی نہ کی جائے تو فوجی اہلکار اس بارے میں اپنے سینیئر افسران کو آگاہ کرنے کے پابند ہوں گے۔ مجاز فوجی افسران اس بارے میں ذمہ داران کے خلاف کارروائی کرنے کے بعد ریٹرننگ افسر کو بھی آگاہ کریں گے۔

واضح رہے کہ سنہ 2013 میں ہونے والے عام انتخابات میں بھی فوج کو درجۂ اول کے مجسٹریٹ کے اختیارات دیے گئے تھے تاہم گذشتہ انتخابات میں فوج پولنگ بوتھ کے باہر تعینات نہیں تھی۔

نوٹیفکیشن کے مطابق فوجی اہلکار 23 سے 27 جولائی تک پولنگ سٹیشنز پر تعینات ہوں گے۔

دوسری جانب الیکشن کمیشن نے ملک کے تمام بلدیاتی اداروں کے سربراہان کو معطل کر دیا ہے۔ ان سربراہان کی معطلی 25 جولائی تک برقرار رہے گے۔

الیکشن کمیشن کے حکام کے مطابق فوجی چھاؤنیوں میں کنٹونمنٹ کے بلدیاتی سربراہان بھی انتخابات تک معطل رہیں گے۔ الیکشن کمیشن کے حکام کے مطابق یہ اقدام ملک میں شفاف انتخابات کی غرض سے اٹھایا گیا ہے۔

اسی بارے میں